| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میاں صاحب یہ تبدیلی کیسی؟
سنیچر کی شام مانچسٹر کے سنچری ہال میں مسلم لیگ نواز کا ورکرز کنونشن اگرچہ اس لحاظ سے منفرد تھا کہ اس میں میاں خاندان جلا وطنی کے بعد پہلی بار عوامی سطع پر سیاست میں نمودار ہورہا تھا۔ لیکن جن لوگوں نے پارٹی کے عہدیداروں اور کارکنوں کے اس اجتماع میں شرکت کی انہیں تقریر کے دوران مسلم لیگ کے صدر میاں شہباز شریف کے تند و تیز لہجے پر ضرور حیرانی ہوئی ہوگی۔
عام توقعات کے برعکس اگرچہ انہوں نے اپنی پاکستان واپسی کی تاریخ کا اعلان تو نہیں کیا لیکن انہوں نے اپنے ارادوں کو سب پر واضح کر دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اپنی وطن واپسی کے سلسلے میں کسی معاہدے کے پابند نہیں ہیں اور یہ کہ انہیں پاکستان واپسی کے لئے کسی جرنیل سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے فوج کو بحیثیت ایک ادارے کے تنقید کا نشانہ بنانے کی بجائے ’دو تین جرنیلوں کو گھمبیر ملکی مسائل‘ کا سبب قرار دیا۔ ان کی تقریر میں ایک دلچسپ جملہ امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن کی طرف سے پاکستان کو ایٹمی دھماکے سے باز رکھنے کے لئے میاں خاندان کے ذاتی اکاؤنٹ میں رازدارانہ طور پر بہت بڑی رقم جمع کرانے کی پیش کش سے متعلق تھا۔ تاہم مانچسٹر کے جلسے کا سب سے حیران کن پہلو میاں شہباز شریف کی زبان سے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا ذکر خیر تھا۔ فوجی حکمرانوں کی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے میاں شہباز شریف نے کہا کہ فوج نے ’ایک ایسے منتخب حکمران کو پھانسی پر لٹکایا جس نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی تھی‘۔ میاں خاندان نےاس سے پہلے کبھی بھی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا۔
پاکستان میں سن انیس سو اٹھانوے میں جب ایٹمی دھماکے کئے گئے تو اس وقت اٹامک انرجی کمشن سے منسلک سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے اچانک منظر عام پر آنے سے ہر کوئی حیران تھا۔ بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ نواز حکومت ڈاکٹر قدیر خان سے اس لئے ناخوش ہے کہ وہ ہر جگہ ملک کے ایٹمی پروگرام کا کریڈٹ ذوالفقار علی بھٹو کو دیتے ہیں۔ غالباً اسی لئے ان دنوں ڈاکٹر قدیر کے بجائے چاغی میں ایٹمی دھماکہ کرنے والی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند سرکاری کیمروں کی زد میں زیادہ نظر آئے۔ اگرچہ اپنے سیاسی کیرئیر میں میاں نواز شریف نے بھی کئی بار انتہائی سخت بھٹو مخالف بیانات دیئے ہیں جن میں پی پی پی کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے سمندر میں پھینکنے کے بات بھی کی گئی، لیکن اس کے باوجود شہباز شریف کو اب تک میاں خاندان میں سے سب سے بڑا بھٹو دشمن سمجھا جاتا رہا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب ’عزم و ہمت کی داستان‘ میں جابجا سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی ذیادتیوں کا ذکر کیا ہے۔
صنعتوں کے قومیائے جانے کے عمل کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’لیکن جنوری سن انیس سو بہتر میں ذوالفقار علی بھٹو نے ان بے مثال خدمات کا صلہ یوں چکایا کہ ایک انتہائی غلط اور غیر منصفانہ فیصلہ کے ذریعے اتفاق فونڈریز کو قومی تحویل میں لے لیا۔‘ ایک اور موقع پر لکھتے ہیں کہ بھٹو کے ظالمانہ دور کی سرمایہ کاری کش پالیسیوں اور ذاتی مخالفت کے باوجود اسی دور میں ہی میرے خاندان نے قومیائے جانے کے صرف اٹھارہ ماہ بعد چھ نئی صنعتیں لگالیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ میاں شہباز شریف کے منہ سے پاکستان کے جوہری پروگرام میں بھٹو کے کردار کا اعتراف شریف خاندان کی جانب سے ماضی کی تلخیاں بھلانے اور ایک نیا سیاسی سفر شروع کرنے کا اعلان ہے یا ایک سیاسی جلسے کے موقع پر دیا گیا ایک سیاسی بیان! ایک اور بات جو میں نہیں سمجھ پایا وہ یہ ہے کہ سابق وفاقی وزیر اسحاق ڈار اپنی تقریر میں دس نومبر کا ذکر کرتے کرتے رک کیوں گئے تھے۔ دس نومبر کو میاں اظہر کی نواز لیگ میں واپسی کا اعلان کیا جانا ہے، شہباز شریف کی وطن واپسی کا، یا کچھ اور، اس کا جواب تو شاید اب دس نومبر کو ہی مل پائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||