BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 31 January, 2006, 22:41 GMT 03:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نوازشریف کے پہلے چوکے چھکے

نواز شریف
سلاؤ میں نواز شریف کی تقریر کا موضوع ہی جنرل پرویز مشرف کی شخصیت اور ان کی پالیسیاں تھیں
سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنی جلا وطنی کی زندگی میں ایک شارٹ بریک کے دوران لندن میں قدم رکھتے ہی، جنرل پرویز مشرف کے خلاف پہلی مرتبہ لب کشائی کی اور پہلے ہی ہلے میں چوکے چھکے مارنے کی کوشش کی ہے۔

یہ الگ بات ہے کہ کرکٹ کے میدان میں ابھی دوسری طرف سے کوئی باؤلنگ نہیں کر رہا ہے۔ کھیل کیا رخ اختیار کرتا ہے یہ اسی وقت معلوم ہو گا جب دونوں طرف کے کھلاڑی میدان میں موجود ہوں گے۔ ابھی تو بقول شیخ رشید احمد کے ایک غیر ملکی بڑی شخصیت کی ملک میں آمد آمد ہے لہٰذا حکومت خاموش ہے اور اس شخصیت کی ملک سے روانگی کے بعد نواز شریف کو مناسب جواب دیا جائے گا۔

شیخ رشید کا اشارہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ کی جانب تھا جو شریف خاندان اور جنرل پرویز مشرف کے درمیان جلا وطنی کے غیر اعلانیہ معاہدے کے غیر اعلانیہ ضامن سمجھے جاتے ہیں۔

اگرچہ لندن میں نواز شریف کی آمد کا اعلانیہ مقصد تو ان کے بیٹے حسن نواز کا علاج ہے مگر ان کی آمد کے موقع پر ان کے استقبال کیلیے ہیتھرو ائر پورٹ پر سیاسی قسم کی کافی تیاریاں کی گئیں تھیں۔ ہیتھرو ائرپورٹ پر برطانیہ میں رہنے والے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنوں کا ایک جم غفیر پلے کارڈ اور بینر لیے تھا مگر اس جلوس کی قیادت کر نے والے شہباز شریف اپنے بھائی نواز شریف کو ائرپورٹ سے انھیں ایک دوسرے راستے سے لندن کے مغرب میں واقع سلاؤ نامی قصبے میں لے گئے جہاں ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد بیلیزبینکویٹ ہال میں ان کی تقریر سننے کیلیے انتظار کر رہی تھی۔ اگرچہ ائرپورٹ پر جنرل مشرف کے خلاف نہ کوئی بینر یا پلے کارڈ تھا نہ ہی ان کے خلاف کوئی نعرہ لگایا گیا تھا مگر سلاؤ میں نواز شریف کی تقریر کا موضوع ہی جنرل پرویز مشرف کی شخصیت اور ان کی پالیسیاں تھیں۔

اس مرتبہ نواز شریف کی تقریر میں پہلے کی نسبت زیادہ روانی اور "اکسپریشن" تھا۔ آنھوں نے اپنی تقریر میں کئی ایک موضوعات پر ایک ہی وقت میں بہت ساری باتیں کہنے کی کوشش کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ کبھی ایک موضوع پر بات کرتے کبھی دوسرے پر۔ آئینی معاملات سے لے کر ملک کے موجودہ حالات پر انھوں نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا اور ظاہر ہے ساتھ ساتھ اپنے خلاف، بقول انکے، کی گئی زیادتیوں کا انھوں نے بھر پور جذباتی انداز میں ذکر کیا۔ مثلاً انھیں جیل میں کس کس قسم کے دباؤ کا نشانہ بنایا گیا مگر انھوں نے جھکنے سے انکار کردیا۔

نواز شریف نے اپنی تقریر میں اپنی سامعین کی عدالت میں اپنا سیاسی کیس پیش کیا جس کا واضح مقصد اپنی سیاسی ساکھ کو بحال کرنا تھا۔ جن حالات میں نواز شریف اور ان کے خاندان نے جلا وطنی قبول کی تھی اس میں کئی سوالات پیدا ہوئے تھے۔ خاص طور پر، بعض مبصرین کے مطابق جب انھیں ذوالفقار علی بھٹو کے تناظر میں دیکھا گیا تو وہ سیاسی طور پر بہت چھوٹے نظر آئےتھے۔ ان کی اور بے نظیر بھٹو کی سیاسی ساکھ میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے سوائے اس کے وہ بھٹو کی بیٹی ہے۔

نواز شریف کو علم ہے کہ وہ فی الحال پاکستان واپس نہیں جاسکتے

مگر نواز شریف کے حامیوں نے جلا وطنی کو قبول کیے جانے کے ان کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملک ایک اور وزیراعظم کو پھانسی پر لٹکتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا اور غالباً، بقول تجزیہ نگاروں کے، جنرل پرویز مشرف کو بھی یہی مناسب لگا کہ "سابق وزیراعظم" ملک بدری اختیار کرلیں اور ان کے لیے مزید درد سر نہ بنیں۔

اس کے علاوہ شریف خاندان نے اپنے کاروبار کو بچانے کیلیے بھی فوجی حکومت کی شرائط کو تسلیم کیا۔ مگر آج تک یہ واضح نہیں ہو سکا ہے کہ شریف خاندان حقیقتاً کیا کچھ طے کر کے جلاوطن ہوا تھا کیونکہ نہ جنرل پرویز مشرف نے اور نہ ہی شریف حاندان کے کسی فرد نے جلاوطنی کے معاہدے کی شرائط کو تفصیل کے ساتھ عوام کے سامنے پیش کیا۔

غالباً اس کی وجہ یہی تھی کے اس معاہدے کے ضامن سعودی حکمران تھے جو روایتاً ہر بات کو خفیہ رکھنا پسند کرتے ہیں۔ شریف خاندان اس معاہدہ کے مطابق دس برس تک جلاوطن رہے گا یا کم از کم وہ یا ان کے خاندان کا کوئی بھی فرد اس وقت تک پاکستان نہیں جاسکتا ہے جب تک جنرل پرویز مشرف پاکستان کے صدر ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ جلاوطنی کے زمانے میں بھی شریف خاندان کے کاروبار میں بڑھوتی ہی ہوئی ہے۔

جلاوطنی کی زندگی کے پانچ برس گزارنے کے بعد نواز شریف اپنے بیٹے کے علاج کیلیے لندن آئے ہیں جہاں انھوں نے جنرل پرویز مشرف کا نام لے کر کہا ہے کہ ان کی وجہ سے پاکستان پوری دنیا میں بدنام ہے۔

انھوں نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد جنرل پرویز مشرف کی پہلی تقریر میں ان کے سات نکاتی ایجنڈے کا ذکر کرکے کہا کہ وہ اپنا ایک بھی وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ایک طرح اگر غور سے دیکھا جائے تواس تقریر سے محسوس ہوتا ہے کہ نواز شریف کو علم ہے کہ وہ فی الحال پاکستان واپس نہیں جاسکتے ہیں۔ لیکن کم از کم اپنی سیاسی ساکھ بحال کرنے کیلیے یا بعض تجزیہ نگاروں کے مطابق، مستقبل کی سیاست میں سرمایہ کاری کیلیے ایک اصولی موقف اختیار کیے ہوئے نظر آنا چاہتے ہیں۔

جس انداز سے انھوں نے جنرل پرویز مشرف پر تنقید کی اس سے یہ بھی نظر آتا ہے کہ وہ بظاہر ایک سخت موقف اختیار کر کے اپنے بھائی شہباز شریف کیلیے پاکستان کی سیاست میں جلد واپسی کیلیے کوئی رستہ بنانے کیلیے راہ ہموار کر رہے ہیں۔ کیوں کہ جہاں ایک طرف نواز شریف نے اپنی پہلی تقریر میں جنرل مشرف پر تنقید کی تو اسی کے ساتھ انھوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انھوں نے جنرل مشرف کو بارہ 12 اکتوبر 1999 کو صرف فوجی عہدے سے سبکدوش کیا تھا اور لیفٹیننٹ جنرل مظفر عثمانی کو، جو کہ ان دنوں کراچی کے کور کمانڈر تھے، ہدایات دی تھیں کے کہ جنرل مشرف کو عزت کے ساتھ استقبال کر کے کراچی میں ان کے گھر پہنچا دیا جائے۔ اس طرح ایک طرف تو نوز شریف اپنے اوپر عائد ہائی جیکنگ الزام کی تردید کر رہے تھے تو دوسری طرف جنرل مشرف کو سامنے "ٹروس" یعنی جنگ بندی کا اشارہ بھی دے رہے تھے۔

نواز شریف یہ وضاحت کس کے سامنے پیش کر رہے تھے؟ کیا ان کا مخاطب سلاؤ کے بیلیز بینکویٹ ہال میں پیٹھے ان کی جماعت کے ارکان تھے یا جی ایچ کیو میں بیٹھے پاکستان کے اس وقت کے طاقتور حکمران؟ اس کا جواب سوال میں ہی موجود ہے۔

نواز شریف نے اپنی تقریر میں اس واقعے کا بھی ذکر کیا کہ وہ جب 12 اکتوبر کو تختہ الٹنے کے بعد قید کر لیے گئے تو رات گئے ان کے پاس اس وقت کے تین حاضر سروس جرنیل، جنرل محمود کی قیادت میں ایک کاغذ پر دستخط کروانے آئے تھے۔ جنرل محمود اس وقت راولپنڈی کے کور کمانڈر تھے اور حکومت کے تختہ الٹنے میں انہی کا سب سے بڑا کردار تھا۔ جنرل محمود بعد میں امریکہ کے گیارہ ستمبر کے حملے میں بلواسطہ انداز میں مبینہ طور پر شامل ایک برطانوی نژاد پاکستانی سے قریبی تعلقات کی وجہ سے خاموشی کے ساتھ سبکدوش کردیے گئے تھے۔

ان کی اور بے نظیر بھٹو کی سیاسی ساکھ میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے

بہر حال اس واقعے کا ذکر تے ہوئے نواز شریف حسب معمول کسی اور موضوع پر چلے گئے تو تھوڑی دیر بعد انھیں ایک سلیٹی مائل نیلے سوٹ میں ملبوس سفیدی مائل بالوں والے شخص نے ایک چٹھی دی جس کو پڑھنے کے بعد نواز شریف دوبارہ اسی موضوع یعنی جیل میں ان پر تین جرنیلوں کے واقعہ کی طرف لوٹ آئے۔

انھوں نے اس واقعے کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا اور بتایا کہ ان تین جرنیلوں یعنی جنرل محمود، جنرل احسان اور جنرل اورکزئی نے انھیں ایک کاغذ پیش کیا اور کہا کہ وہ اس پر دستخط کردیں ورنہ انھیں سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بقول نواز شریف کے جب انھوں نے انکار کیا تو جنرل محمود نے ان کا ہاتھ دباتے ہوئے پہلے تو دھیمے انداز سے انھیں سمجھانے کی کوشش کی مگر جب انھوں نے انکار کیا تو جنرل محمود نے انھیں دھمکیاں دیں۔

نواز شریف نے اس موقعہ پر کہا کہ وہ ان تینوں جرنیلیوں سے بار بار یہ پوچھتے رے کہ انہیں یہ دستخط کروانے کیلیے کون کہہ رہا ہے۔ اس سے آگے نوازشریف نے کوئی بات نہیں کی۔ نوازشریف کے مطابق اس کاغذ پر اسمبلیاں توڑنے کا حکم اور ان کے استعفیٰ کا اعلان درج تھا۔

اس موقعے پر خاص طور پر ان کی حکومت کے ہٹائے جانے کے واقعے کا ذکر کیا کوئی خاص معنی رکھتا ہے؟ ممکن ہے کہ وہ اپنی بہادری کا ذکر کر رہے ہوں کہ کس طرح وہ فوج کے سامنے ڈٹے رہے۔ مگر اس واقعہ کے ذکر کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ اس طرح کے واقعات کا ذکر عام طور پر اس وقت کیا جاتا ہے جب سیاستدان اپنی پوزیشن صاف کرنے کی کوشش کر رہے ہوں۔

نوازشریف پر کسی نے فی الحال یہ الزام تو نہیں عائد کیا کہ حکومت کے تختہ الٹے جانے کے بعد انھوں نے جنرل مشرف سے حکومت سے کوئی "ڈیل" کرنے کی کوشش کی تھی۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ آج ساڑھے چھ برسوں کے بعد اس قسم کے واقعات کا ذکر کر کے نواز شریف نے کچھ اشارے دینے کی کوشش کی ہے اور ظاہر ہے کہ ان کا مخاطب جی ایچ کیو اور جنرل پرویز مشرف ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ جنرل مشرف کو یہ پیغام دے رہے ہوں کہ وہ ان سے ذاتی دشمنی نہیں رکھتے ہیں اور یہ کہ جو کچھ بھی ان کے ساتھ ہوا اس میں کچھ ایسے جرنیل موجود تھے جو آج حاضر سروس نہیں ہیں۔

کیا اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ نواز شریف یا ان کے خاندان کا کو ئی فرد اس وقت موجودہ فوجی حکمرانوں سے رابطے میں ہے؟ بہر حال اس قسم کے رابطے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے۔ البتہ اس رابطے کی کوئی مسلمہ حیثیت ہے یا نہیں، اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے۔

نواز شریف نے سلاؤ میں تو اپنے سامعین کے سامنے بظاہر معاندانہ انداز میں فوجی حکمرانوں کو آئین توڑنے پر کچھ "سکھانے" کی بات تو کی ہے مگر یہ واضح نہیں کہ وہ ان جرنیلوں کو کیا "سکھائیں" گے۔ کیا وہ آئین توڑنے والوں کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت بغاوت کا مقدمہ چلائیں گے یا آئین توڑنے والے جرنیلوں کے لیے سٹڈی سرکلز اور ورکشاپس قائم کریں گے۔

شریف خاندان نے اب تک جس طرح کی سیاست کی اس سے تو یہی نظر آتا ہے کہ انھوں نے عملیت پسندی کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ ان کا ایک لوہے کی بھٹی سے لیکر فیکٹریاں لگانا اور فوجی گٹھ جوڑ کے ذریعے سیاست میں آنا اور پھر وزارت اعلیٰ کیلیے مری کے تفریحی مقام پر ارکان پنجاب اسمبلی کو "ہارس ٹریڈنگ" کیلیے اکھٹا کرنا، سبھی موقعوں پر انھوں نے "غیر روایتی سیاست" کا سہارا لیا۔

اسی طرح پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف انھوں نے ہمیشہ فوجی اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ مل کر کام کیا۔ جب نواز شریف کی حکومت کو فوج نے ختم کیا تو اس وقت بھی ان کے فوج کے ساتھ رابطے تھے۔ شہباز شریف کا نام اس وقت بھی لیا جارہا تھا کو شاید وہ نواز شریف کی جگہ فوج کیلیے قابل قبول وزیر اعظم ہوں۔ مگر یہ بات اس وقت آگے نہ چل سکی کیو نکہ خاندان کے بزرگ میاں محمد شریف نے ان حالات میں پیچھے ہٹنا مناسب نہ سمجھا کیوں کہ اگر وہ اس وقت پیچھے ہٹتے اور فوج کا کھل کر دباؤ قبول کر لیتے تو شاید ان کا خاندان ہی سیاست سے باہر ہو جاتا۔

تھوڑے عرصے بعد ان کیلیے جلاوطنی کی "آپرچیونیٹی" سامنے آئی اور انھوں نے ایک "انڈر ڈاگ" یعنی لڑائی میں ایک کمزور فریق کی طرح عملیت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سعودی عرب چلے جانا بہتر سمجھا۔

حالات یہی بتاتے ہیں کہ شریف خاندان عموماً ایک اچھی "ڈیل" کرتا رہا ہے

اب تک کے حالات یہی بتاتے ہیں کہ شریف خاندان عموماً ایک اچھی "ڈیل" کرتا رہا ہے۔ اور بہت ممکن ہے کہ نواز شریف جو اعلانیہ طور پر اپنی دس برس کی جلا وطنی کی زندگی میں اپنے بیٹے کے علاج کی وجہ سے ایک شارٹ بریک حاصل کر کے جدہ سے لندن پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں، اب یہ کوشش کریں کہ وہ نہیں تو ان کا بھائی ہی سہی! ورنہ یہ بھی ممکن ہے کہ لندن کا یہ سیاسی طلاطم کم از کم دس برس کی جلاوطنی کے ختم ہونے کے بعد شاید شریف خاندان کیلیے مستقبل میں "پولیٹیکل کیپیٹل" یعنی سیاسی سرمائے کے طور کام آئے۔
نوازشریف کا عزم
آئین توڑنے والے جرنیلوں کوسبق سکھائیں گے
 نواز شریفانسانی ہمدردی یا۔۔
پاسپورٹ کی واپسی کے پیچھے کیا کہانی ہے؟
نواز بینظر ملاقات کا پاکستانی سیاست پر اثر کیا ہوگا؟آپ کی رائے
جدہ ملاقات کا پاکستانی سیاست پر اثر کیا ہوگا؟
نواز شریف اور جنرل مشرفکارگل اور چار کا ٹولہ
کارگل جنگ چار جرنیلوں کی جنگ تھی: نیا انکشاف
نواز شریفٹالبٹ کا انکشاف
نواز شریف کو امریکہ نے بچایا
اسی بارے میں
نواز شریف کا سخت لہجہ
30 January, 2006 | پاکستان
نواز شریف لندن پہنچ گئے
29 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد