دبئی: نواز شریف کی پریس کانفرنس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے جلاوطن سابق وزیرِاعظم اور مسلم لیگ( ن ) کے سربراہ میاں نواز شریف سعودی عرب کے شہر جدہ سے متحدہ عرب امارات کی ریاست دبئی پہنچ گئے ہیں جہاں سے پاکستان کے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے ان کی گفتگو کو پاکستان کے مقامی ٹیلی ویژن چینلز نے نشر کیا ہے۔ اکتوبر سنہ ننانوے میں فوجی انقلاب میں اپنی حکومت کے خاتمے اور گرفتاری کے کچھ عرصے کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ سعودی عرب چلے گئے تھے جہاں سے کسی دوسرے ملک کا یہ ان کا پہلا سفر ہے اور پاکستان کے مقامی ٹیلی ویژن چینلز نے پہلی بار اخبار نویسوں سے ان کی گفتگو ان کی اپنی آواز اور تصویر میں نشر کی ہے۔ میاں نواز شریف پانچ سال بعد ٹی وی پر دکھائے گئے تو ان کے حلیے میں معمولی تبدیلی محسوس کی گئی۔ ان کے ماتھے کے اوپر سر کے سامنے کا حصہ بالوں سے بھرا ہوا تھا۔ میاں نواز شریف اپنے مخصوص دھیمے انداز میں اخبار نویسوں کے سوالات کا جواب دے رہے تھے۔ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے سوال کا جواب انہوں نے یہ کہہ کر دینے سے انکار کردیا کہ ان سے اتنے زیادہ سیاسی سوالات نہ ہی پوچھے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ان سوالات کا مو قع نہیں ہے کیونکہ وہ دبئی کے حکمران اور متحدہ عرب امارات کے حکمران الخلیفۃ الشیخ مکتوم کی وفات پر تعزیت کے لیے آئے ہیں۔ سابق وزیرِاعظم بے نظیر بھٹو بھی تعزیت کے سلسلے میں دبئی موجود ہیں۔ ان سے ملاقات کے امکان کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں میاں نواز شریف نے کہا کہ ابھی وہ دبئی پہنچے ہیں اور اپنے اس دورے کا شیڈول بنا رہے ہیں۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ وہ پاکستان جانا چاہتے ہیں اور انہیں اپنے ملک سے جدا ہوئے پانچ سال ہوچکے ہیں۔ انہوں نے ایک اخبار نویس کو مخاطب کرکے کہا کہ اگر آپ کو پانچ مہینے بھی زبردستی ملک سے دور گزارنے پڑیں تو علم ہوگا کہ وطن سے دوری کیا چیز ہوتی ہے؟ جب میاں نواز شریف سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایک معاہدہ کرکے ملک سے باہر آئے ہیں تو وہ اس بات کا جواب بھی ٹال گئے اور کہا کہ وہ یہ بھی ایک سیاسی سوال ہے جس کا یہ موقع نہیں ہے تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ہر بات کے بارے میں بعد میں کھل کر اور سیر حاصل گفتگو کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ان کی اپنی مٹی اور اپنا وطن ہے اور وہ بہت جلد واپس اپنے ملک میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں چودہ مہینے جیل میں رہا پھر پانچ سال سے ملک سے باہر ہوں یقینا میں ’ہوم سک‘ محسوس کرتا ہوں لیکن بعض مجبوریوں کی بنا پر ایسے حالات سے گزرنا پڑتا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کے مجموعی طور پر ان تمام حالات کے نتائج پاکستان کے لیے خوش کن نکلیں گے‘۔ سابق وزیرِاعظم نے کہا کہ ان کی مسلم لیگ (ن) آج بھی موجود ہے اور حکمران مسلم لیگ کے بارے میں ان سے نہ ہی پوچھا جائے تو اچھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دبئی سے واپس جدہ جائیں گے اور پھر لندن جانے کی کوشش کریں گے جہاں ان کے صاحبزادے حسن زیر علاج ہیں۔ میاں نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز بھی دبئی پہنچ گئی ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ ’سب پاکستان ضرور جائیں گے لیکن جب اللہ کو منظور ہوگا‘۔ | اسی بارے میں ’نوازشریف 2010 تک نہیں آ سکتے‘05 July, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||