BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 January, 2006, 22:44 GMT 03:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آئین توڑنے کی سزا دینگے: نوازشریف

نوازشریف
جلا وطنی کے بعد پہلی مرتبہ میاں نوازشریف لندن آئے ہیں۔
پاکستان کے جلاوطن سابق وزیرِاعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ آئین توڑنے والوں کو سزا دی جائے گی۔ وہ اتوار کی رات سعودی عرب سے لندن پہنچنے پر اپنے استقبال کے لیے جمع ہونے والوں سے خطاب کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں آئین کو اس حالت میں بحال کیا جائے گا جس طرح وہ 12 اکتوبر 1999 کو تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایل ایف او اور سترہویں ترمیم ناجائز ہیں اور فوجی حکومت کی وجہ سے پاکستان دنیا میں ایک بےتوقیر ملک بن کر رہ گیا ہے۔

سابق وزیراعظم نے جنرل مشرف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’جنرل مشرف اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے امریکہ کی ہر بات کو مانتے جا رہے ہیں‘۔

میاں نواز شریف نے انکشاف کیا کہ جب پاکستان ایٹمی دھماکہ کرنے والا تھا تو انہیں صدر کلنٹن کے پانچ ٹیلی فون آئے لیکن انہوں نے وہی کیا جو پاکستان کے مفاد میں تھا اور ایٹیمی دھماکہ کیا۔

نواز شریف دسمبر سن دو ہزار میں فوجی حکومت کے ساتھ ایک مبینہ معاہدے کے تحت اپنے خاندان کے ہمراہ سعودی عرب چلے گئے تھے جہاں سے کسی دوسرے ملک کے لیے ان کا یہ یہ دوسرا سفر ہے۔اس سے پہلے انہوں نے حال ہی میں دبئی کا دورہ کیا تھا۔

نواز شریف لندن کے وقت کے مطابق چھ بجے ہیتھرو ائیر پورٹ پر پہنچے جہاں مسلم لیگ کے ایک ہزار کے قریب کارکنوں اور رہنما ان کے استقبال کے لیے موجود تھے۔

برطانوی سکیورٹی حکام نے نواز شریف کو ٹرمینل تھری کے سامنے کے راستے سے نہیں آنے دیا اور ائیرپورٹ کے پچھلے دورازے سے نکال ان کو لندن کے مغرب میں واقع سلؤ کی طرف روانہ کر دیا ہے جہاں ان کی پارٹی کے لوگوں نے ایک ہال کرائے پر لے رکھا ہے۔

دبئی میں نواز شریف نے پریس کانفرنس کے دوران اپنی جلا وطنی کے بارے میں سوالوں کا جواب دینے سے معذوری ظاہر کی تھی۔

جب ان سے پوچھا گیا تھا کہ وہ کیا وہ فوجی حکمران سے معاہدہ کرکے ملک سے باہر آئے ہیں تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا اور کہا کہ یہ سیاسی سوال ہے جس کا یہ موقع نہیں ہے تاہم انہوں نے کہا کہ وہ ہر بات کے بارے میں بعد میں کھل کر اور سیر حاصل گفتگو کریں گے۔

اسی بارے میں
’سب بندر بانٹ کا مسئلہ ہے‘
11 November, 2005 | پاکستان
انسانی ہمدردی یا کچھ اور
03 November, 2005 | پاکستان
نواز شریف: پاسپورٹ کی اجازت
02 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد