 | | | نواز شریف |
اتوار کی رات سعودی عرب سے لندن پہنچنے پر سابق پاکستانی وزیرِاعظم نواز شریف نے کہا ہے آئین توڑنے والوں کو سزا دی جائے گی۔ سابق وزیراعظم نے جنرل مشرف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’جنرل مشرف اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے امریکہ کی ہر بات کو مانتے جا رہے ہیں‘۔ دسمبر سن دو ہزار میں فوجی حکومت کے ساتھ ایک مبینہ معاہدے کے تحت اپنے خاندان کے ہمراہ سعودی عرب جلاوطنی کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ نواز شریف نے اس سلسلے میں بات کی ہے۔ ا س سے قبل دبئی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران جب ان سے پوچھا گیا تھا کہ کیا وہ فوجی حکمران سے معاہدہ کرکے ملک سے باہر آئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ یہ سیاسی سوال ہے جس کا یہ موقع نہیں ہے۔ چند ہی روز قبل ایک اور سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو نے اپنے خلاف ریڈ نوٹس جاری کئے جانے کے بعد الزام لگایا تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف اپنی ’ناجائز‘ حکومت برقرار رکھنے کے لیے ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ کو استعمال کر رہے ہیں۔ نواز شریف کے اس بیان پر آپ کا کیا ردِ عمل ہے؟ کیا ملک کی دو بڑی حزبِ مخالف کی طاقتیں فوجی حکومت کے خلاف متحد ہونے جا رہی ہیں؟ یہ پاکستان میں آنے والی کسی تبدیلی کے اشارے ہیں یا پاکستان کی فوجی حکومت کی مرضی سے ہورہا ہے؟ اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
علی خان، جنوبی کوریہ: دراصل پاکستان کی یہ بد بختی رہی ہے کہ جو بھی اقتدار میں ہوتا ہے وہ کسی اور کو جوابدہ ہوتا ہے۔ نوازشریف تو معاہدے کے تحت جلاوطنی کاٹ رہے ہیں اگر وہ محب وطن ہوتے تو پاکستان میں رہ کر اپنا دفاع کرتے۔ رہی بات تبدیلی کی تو وہ ضرور آ رہی ہے کیونکہ پاکستان کے حالات بہت بڑی تبدیلی کی طرف جا رہے ہیں۔ وہ تبدیلی مشرف صاحب کی اسلام، قوم اور وطن دشمنی کا نتیجہ ہیں۔ عابد، اسٹریلیا: اگر نواز شریف اور بی بی میں اتنی طاقت ہوتی کہ وہ بوٹ والوں کو سزا دے سکتے تو اپنا ملک چھوڑ کر نہ بھاگتے۔ پاکستان کی سیاست میں ایک سے ایک بڑا کرپٹ ہے۔ چور کو چور نے کیا کہنا۔ جان محمد، پاکستان: پاکستان میں ساری بدکرداری، رشوت ستانی، اقربا پروری اور دنیا میں پاکستان کی بدنامی کے ذمہ دار فوجی افسران ہیں۔ جو اپنے مفادات کے لیے قومی مفادات قربان کر دیتے ہیں اور پاکستان کی حفاظت سے زیادہ امریکی مفادات کی حفاظت کرتے ہیں۔ امریکی ضرورت کو مدِنظر رکھتے ہوئے پاکستان کا آئین اور قانون توڑتے ہیں۔ نواز شریف کا بیان پوری قوم کے دلوں کی آواز ہے۔ پاکستان کا آئین اور قانوں توڑنے والوں کو عبرت ناک سزا دینی چاہیے۔ معراج ، پاکستان: نواز ٹھیک کہ رہے ہیں مشرف کے بارے میں، جو بھی بندہ اقتدار میں نہیں ہوتا اس کو وطن سے محبت ہوتی ہے اور سچ بولنا شروع کر دیتا ہے۔ کوئی نواز سے بھی پوچھے کے آپ نے کیا کیا؟ آپ کے زمانے میں تو خانہ جنگی شروع ہونے والی تھی۔ آپ نے تو این ڈبلیو ایف پی کے لوگوں کو بھوکا مارا تھا بازار میں آٹا تک نہ تھا۔ نواز، بینظیر اور مشرف کوئی بھی اقتدار کے اہل نہیں لیکن کیا کریں کوئی نہیں۔ شوکت ملک، پاکستان: مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ پاکستان میں جانے والا ہر لیڈر اپنے آپ کو فرشتہ کیوں سمجھتا ہے۔ سب جانتے ہیں کہ 1947 کے بعد پاکستان کے ہر لیڈر نے اپنی جیبیں بھری ہیں۔ پاکستان سے کوئی مخلص نہیں میرے خیال میں وہ دن دور نہیں جب ہم ایک مرتبہ پھر غلام ہوں گے۔ امجد شیخ، سویڈن: ہم پاکستانیوں کا مسئلہ یہ ہی ہے کہ ہم سب کچھ چپ چاپ برداشت کر لیتے ہیں، خاص کر فوجی حکومت۔ نواز شریف صاحب جو عوام نے منتخب کیا اور صرف عوم کے پاس یہ حق تھا کہ وہ انہیں ہٹا سکتے۔ ہمیں دکھ ہے کہ انہیں ملک سے باہر وقت گزارنا پڑا اور جرنل مشرف نے ان کے ساتھ برا سلوک کیا۔  | ججوں کو بھی سزہ ملنی چاہیے  سزا صرف جرنیلوں کو نہیں ملنا چاہیے بلکہ ان ججوں کو بھی جنہوں نے غیر آئینی حکومتوں کو قانونی قرار دیا اور پاکستان کو تباہ کیا۔  نسیم الدین، ٹورانٹو |
تنویر رزاق، فیصل آباد: اب نوازشریف کو آ جانا چاہیے، لوگ مشرف سے بہت تنگ ہیں۔ شاہ محمد، کراچی: نواز شریف پاکستان کی سیاست میں واپس آگئے ہیں۔ میری دعائیں ان کے ساتھ ہیں، خدا ان پر کرم کرے اور ان کو لمبی زندگی دے۔ یاد رکھیں کہ ملٹری جرنل سیاستدانوں سے زیادہ کرپٹ ہیں۔ ان کی تنخواہیں ہزراوں روپے میں ہیں اور ان کے اثاثے ملین ڈالر میں ہیں۔ چاند بٹ، جرمنی: نوازشریف اگر جرنیلوں کو آئین تورنے کی سزہ کا اشو لے کر نات کریں تو سارا پاکستان ان کے ساتھ ہے۔ محمد بخش بابر، جوہی، سندھ، پاکستان: نواز شریف بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ صمد، امریکہ: مشرف پر تنقید کرنے والے پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں۔ نسیم الدین، ٹورانٹو: سزا صرف جرنیلوں کو نہیں ملنا چاہیے بلکہ ان ججوں کو بھی جنہوں نے غیر آئینی حکومتوں کو قانونی قرار دیا اور پاکستان کو تباہ کیا۔ اسد لطیف، لندن: دوسرے لوگوں کو سزا دینے سے پہلے انہیں سوچنا چاہیے کہ انہوں نے ملک کے لیے کیا کیا بطور رہنما۔ میرے سابق وزیراعظم میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ قانون توڑنے والوں کو سزا ملنی چاہیے لیکن آپ نے بطور وزیر اعظم جو کیا تھا وہ بھی قانون کے خلاف تھا۔ آپ نے ملک کو کچھ نہیں دیا بلکہ وہاں سے بہت کچھ لے کر گئے۔ اگر یہ سب کچھ وہاں رہتا تو ملک میں کئی لوگوں کو فائدہ پہنچتا۔ اس لیے براہ مہربانی پاکستان واپس جانے کا خیال ترک کر دیں۔ محمد شفیق، شیخوپورہ: خدا کرے پاکستان میں وہ دن آئے جب آئین کی شِق نمبر چھ کے تحت جرنیلوں پر مقدمے چلے۔ میرا خیال ہے اولیور کرامویل کی طرح جنرل سکندر مرزا، ایوب خان، یحیٰ خان اور جنرل ضیاء الحق کو ان کے مرنے کے بعد بھی سزا دی جا سکتی ہے تاکہ کوئی جنرل آئندہ منتخب حکومت کا تختہ نہ الٹ سکے۔ سائل خان بنگش، ہنگو، پاکستان: یہ پاکستان میں جمہوریت کے لیے بہت اچھا ہے کہ سابق وزیراعظم دوبارہ سامنے آئے ہیں۔ نواز شریف کے لیے نیک خواہشات۔ نزاکت نواز ملک، چکوال: صدر مشرف کے دور میں نہ تو نواز شریف واپس آ سکتے ہیں اور نہ ہی میڈم۔ یہ دونوں آپس میں متحد ہو سکتے ہیں یا صرف حکومت کو وقت دیا جا رہا ہے۔ سدیش لہنجھارا، کوئٹہ: جب تک امریکہ کا مقصد پورا نہیں ہو جاتا تب تک مشرف کو کوئی سزا نہیں دے سکتا۔ مقصد پورا ہونے کے بعد امریکہ مشرف صاحب کے ساتھ بھی وہی کرے گا جو اس نے جنرل ضیاء کے ساتھ کیا تھا۔ نذیر احمد، کراچی: جی ہاں نواز شریف پاکستانی سیاست میں واپس آ چکے ہیں اور وہ قوم اور ملک کے لیے اچھا کریں گے۔ وہ ایک نہایت محب وطن شخص ہیں اس لیے میں انہیں بہت پسند کرتا ہوں۔ کامران خان، پاکستان: نواز ہمیشہ ٹھیک کہتے ہیں۔ اسد ملک، فِن لینڈ: نواز شریف اب باتوں سے زیادہ کچھ نہیں کر سکتے۔ ناصر جعفری، کوریہ: یہ سب ٹوپی ڈرامہ ہے اگر یہ واقعی ملک سے مخلص ہوتے تو جیل میں سزہ کاٹتے ڈیل نہ کرتے۔ حیدر علی، یو اے ای: سزا پرویز مشرف کو نہیں بلکہ نوازشریف اور بینظیر جیسے کرپٹ سیاستدانوں کو ملنی چاہیے۔ یاسر غفور خان، پاکستان: پاکستان کی سیاست کے بارے میں کچھ نہیں کہ سکتے۔ کسی پل تولہ کسی پل ماشہ۔ اب بینظیر اور نوازشریف دونوں ہی دوبارہ کچھ ایسے بیانات دے رہے ہیں جس سے شک تو پڑتا ہے پر وہی بات کچھ نہیں کہ سکتے۔ راجہ مجیب الرحمان، گھوٹکی: یوں تو ہمارے پیارے پاکستان میں جو بھی تبدیلیاں ہوئیں وہ باہر کے ملکوں کی مہربانی سے ہوئیں۔ اس بار بھی کچھ ایسا ہے لگتا ہے۔ لیکن جو بھی ہو مشرف ایک آمر ہیں، وہ ایک قابض حکمران ہیں۔ جمہوریت جیسی بھی ہو وہ ملک کے لیے بہتر ہوتی ہے۔ آرمی کی حکومت میں کبھی بھی جمہوریت پروان نہیں چڑھتی۔ امین اللہ شاہ، پاکستان: اگر سچ با ت کی جائے تو پاکستان کی تاریخ سے وہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ اس ملک میں آئین کو کاغذ کا پرزہ انہی لوگوں نے بنایا۔ اگر ماضی سے ہٹ کر مثال دی جائے تو پہلے بھٹو نے آٹھ سینئیرز کو پسِ پشت ڈال کر ضیاء کو چیف بنایا۔ اور پھر یہی بلنڈر نواز شریف نے دھرایا او مشرف کو بلا میرٹ چیف بنایا۔ پھر جو حال ان جرنیلوں نے سیاستدانوں اور آئین کا کیا وہ پوری دنیا سے ڈھکا چھپا نہیں ۔
 | سیاستدانوں کا اپنا قصور ہے  اگر ماضی سے ہٹ کر مثال دی جائے تو پہلے بھٹو نے آٹھ سینئیرز کو پسِ پشت ڈال کر ضیاء کو چیف بنایا۔ اور پھر یہی بلنڈر نواز شریف نے دھرایا او مشرف کو بلا میرٹ چیف بنایا۔ پھر جو حال ان جرنیلوں نے سیاستدانوں اور آئین کا کیا وہ پوری دنیا سے ڈھکا چھپا نہیں ۔  امین اللہ شاہ، پاکستان |
جاوید اقبال ملک، چکوال: جب تک جرنل مشرف ہیں اس وقت تک کچھ بھی نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی پی پی پی، مسلم لیگ (ن) اور نہ ہی ایم ایم اے کچھ کر سکتی ہے ۔ آپ نے میریتھن میں نہیں دیکھا کیا کر لیا ایم ایم اے نے؟ بہتر یہی ہے کہ صحیح وقت کا انتظار کیا جائے۔ اصغر عباس، لندن: یہ اچھا ہوتا کہ وہ یہ بیان سعودی عرب سے دیتے۔ وہ یہ کیوں دکھا رہے ہیں کہ وہ ایک آزاد آدمی ہیں۔ انہوں نے کیا کیا جب وہ حکومت میں تھے؟ پرندے ہمیشہ شو کرتے ہں جب وہ پنجرے سے باہر ہوتے ہیں۔ وہ اپنے اور حکومت کے درمیان ڈیل پر کچھ نہیں کہنا چاہتے لیکن جرنل کو سزا دینا چاہتے ہیں۔ بڑی حیرت کی بات ہے۔ فاروق احمد چوہدری، ناروے: نواز شریف اور ان کے روحانی باپ ضیاء نے خود امریکہ کی غلامی کے جو ریکارڈ بنائے ہیں وہ کبھی نہیں ٹوٹیں گے۔ کلنٹن کی دوستی کے دعویدار نوازشریف کی سب باتیں جھوٹی ہیں۔ میں پرویز حکومت کے بھی مخالف ہوں لیکن نواز اور بینظیر تو کرپٹ ترین ہیں۔ خان پٹھان، کینیڈا: ایسے لالچی سیاستدانوں سے چھٹکارہ ملا ہے تو ملک ترقی کر رہا ہے۔ اللہ کرے یہ سیاستدان ملک سے باہر رہیں۔ سید تقی، لندن: ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے میں ان سے متفق ہوں کہ کوئی بھی شخص اگر آئین توڑے تو اس کی سخت سزہ ہونی چاہیے تا کہ وہ دوبارہ ایسا کرنے کا سوچ بھی نہ سکے۔ میں نوازشریف کا لندن میں خوش آمدید کہتا ہوں اور ان کو چاہیے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر کام کریں کیونکہ وہ ملک کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ ممتاز کسانہ، امریکہ: نوازشریف درست ہیں پاکستان آرمی پھانسی گھاٹ کی مستحق ہے۔ ندیم سرور، کراچی: اس حد تک تو نواز شریف کی بات درست ہے کہ ’آئین توڑنے والوں کو سزا ضرور ملنی چاہیے‘۔ اگر شروع میں ہی آئین توڑنے والوں کو عبرت کا نمونہ بنا دیا جاتا تو آج ہمارے ملک کی تاریخ بہت مختلف ہوتی۔ بد ترین جمہوریت بہترین آمریت سے بہتر ہے۔ ماجد خان، سوات: ٹھیک ہی کہا ہے نوازشریف نے، اس حکومت نے مہنگائی دی ہے اور کوئی چیز نہیں۔ محمد امتیسلا، کینیڈا: نواز شرف کو 1973 کے آئین کے تحت ان سب لوگوں کے خلاف کاروائی کرنی چاہیے۔ ان لوگوں کا تعلق بیشک کسی بھی ادارے سے ہو، میرا مطلب ہے آرمی، سول سرونٹ یا سیاستدان، یا پھر عدلیہ۔ صرف نواز شریف میں ہمت ہے کہ یہ کریں۔ عمر مختار، کینیڈا: میرے بس میں ہو تو میں بھی یہی کروں۔ ایسی عبرت ناک سزا ہو آئین توڑنے والوں کے لیے کہ آئندہ کسی کی جرات نہ ہو۔ الطاف حسین، امریکہ: پہلے آنے والے جرنیلوں کی طرح جرنل مشرف بھی اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کون سے قانوں ان جرنیلوں کو اپنے ملک پر قبضہ کرنے سے روک سکتےہیں؟ پاکستان میں کوئی قانون نہیں ہے۔ یہاں پر حکمران کا قانون ہوتا ہے۔ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے اور اس کی ذمہ داری ہر پاکستانی شہری پر ہے۔ |