BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
آپ کی آواز
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 April, 2005, 14:04 GMT 19:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیپلز پارٹی اور فوج میں صلح؟
News image
آصف زرداری کی واپسی پر ایک اخبارکے خصوصی ایڈیشن کا عکس
پیپلزپارٹی کے رہنما آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ فوج پاکستان کا ایک ادارہ ہے اور جو اسے توڑنا چاہتے ہیں وہ ملک کو توڑنا چاہتے ہیں۔اس سے قبل انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ فوجی اسٹیبلیشمینٹ سے ہر سطح پر مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔

آصف زرداری کے بقول اسٹیبلیشمینٹ افراد کا ایک گروہ ہے جو فوج، عدلیہ، سیاستدانوں اور پریس میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلیشمینٹ مضبوط ہورہی ہے لیکن اُن کاخیال ہے کہ یہ کمزور ہورہی ہے کیونکہ دنیا میں نیو ورلڈ آرڈر جمہوریت کا ہے۔

یہ خبراس لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے کہ گذشتہ کئی برسوں میں پیپلز پارٹی پاکستان کی دوسری سیاسی جماعتوں پر الزام لگاتی رہی ہے کہ ان کا فوج اور فوجی حکومتوں کے ساتھ گٹھ جوڑ رہا ہے۔

کیا آپ سمجھتے ہیں آصف زرداری کے اس بیان میں پیپلز پارٹی کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ ہے؟ کیا پیپلز پارٹی اپنے روایتی موقف سے ہٹ رہی ہے؟ کیا پیپلز پارٹی نے جنرل مشرف کی حکومت کے ساتھ کوئی ڈیل کر لی ہے؟ آپ کے خیال میں پیپلز پارٹی اور جنرل مشرف کی حکومت کے درمیان تعاون ہو سکتا ہے؟اس سے پاکستان کی سیاست پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟

آپ کی رائے

اب یہ فورم بند ہو چکا ہے۔ قارئین کی رائے سے ایک انتخاب نیچے درج ہے۔


صغیر راجہ، سعودی عرب:
فوج جابر ہے اور اس کو اقتدار میں رہنے کی بری عادت پڑ گئی، یہ قوم کی بدنصیبی ہے۔ پی پی پی کے ورکرز کی بے مثال قربانیاں ہیں۔ اب ان ورکروں کے لیے پی پی پی کا اقتدار میں آنا ضروری ہے۔

راجیش ملانی، مٹھی، پاکستان:
پیپلز پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کسی قسم کا معائدہ نہیں کرنا چاہیے کیونکہ پیپلز پارٹی عام آدمی کی صحیح نمائندہ ہے۔ اب انہیں چاہیے کہ خاموشی سے موجودہ حکومت کے زوال کا انتظار کریں، انہیں کسی قیمت پر کمپرومائز نہیں کرنا چاہیے۔

محمد رضوان رانا، کراچی:
میری سمجھ میں ایک بات نہیں آرہی کہ زرداری صاحب جو پچھلے دنوں جیل میں تھے آج ان کا استقبال ہو رہا ہے۔ اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کوئی ڈیل ہو گئی ہے۔ پاکستانی عوام کی یہ بدقسمتی ہے کہ وہ خود حکمران نہیں بناتے بلکہ ان پر اوپر سے مسلط کر دیے جاتے ہیں۔ آپ میرا مطلب سمجھ رہے ہیں ناں؟

شاہدہ اکرم، ابوظہبی:
سب ہمیشہ سے جانتے ہیں کہ ہوتا وہی ہے جو فوج چاہتی ہے، سوری ہمارے ملک میں ایسا ہی ہوتا ہے۔۔ آنکھیں نہ رکھنے والوں کو بھی نظر آ رہا ہے یہ ایک ڈیل ہے۔ جب آصف زرداری کو رہا کیاگیا تھا تو مجھ جیسی گھریلو عورت کو بھی پتا چل گیا تھا کہ ڈیل ہو گئی تھی۔ دونوں میں تعاون ہو چکا ہے جبھی تو اتنے مکھن لگے بیانات آ رہے ہیں۔ جب بار بار وہی آزمائے ہوئے چہرے سامنے آرہے ہیں تو کیسی تبدیلی کیسے اثرات؟

اللہ بخش راٹھور، کراچی:
آرمی اور پیپلز پارٹی کے دمیان تعلقات کوئی نئی بات نہیں، جنرل ایوب سے لے کر اسلم بیگ تک، اور اب جنرل مشرف تک۔ اسٹیبلشمنٹ پاکستانی سیاست میں ایک حقیقت ہے اور پیپلز پارٹی اس کا اتنا ہی حصہ ہے جتنا دوسری جماعتیں، میرا مطلب ہے مولوی حضرات۔اب پیپلز پارٹی امریکہ کے مفادات کے لیے کام کر رہی ہے عوام کےمفادات کے لیے نہیں۔

رئیس دین خواجہ، اٹھمقام، آزادجموں وکشمیر:
پیپلز پارٹی کے ہاں کوئی ضابطہ نہیں ہے کیونکہ بے نظیر اور آصف زرداری دونوں اپنے مفادات کے لیے کام کر رہے ہیں، لوگوں کے لیے نہیں۔ مشرف صاحب خود پھنس چکے ہیں اس لیے ان لوگوں سے بھی تعاون کی بات کر رہے ہیں جنہوں نے قومی دولت سے اپنی ذاتی جاگیریں بنائیں۔

قدیر میمن، میر پور خاص، پاکستان:
آرمی یا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بات کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ وہ بھی محب وطن ہیں۔اختلاف صرف اس بات پر ہے کہ شو کون چلائے گا۔ جو چیز ملک اور عوام کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے وہ لوگوں کے صحیح نمائندوں اور فوج کے درمیان ڈیڈ لاک ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہر شخص کو ملک کے لیے کام کرنے دیں اور خامخواہ باتیں نہ بنائیں۔

محمد قاسم، چنیوٹ:
صلح ہو گئی ہے لیکن اس کی حیثیت بینک کے ٹوکن جیسی ہے جوآپ کی ہتھیلی پر تو ہے مگر پھر بھی آپ کا نہیں ہے۔

ولی خان، لندن:
مجھے نہایت افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ پھر وہی لوگ اور پھر فوج کو سیاست میں شریک کرنا، ہمارے ملک میں سارے ہی کرپٹ ہیں۔ کیا فوج، کیا عدلیہ، کیا بڑی سیاسی پارٹیاں اور کیا فوج۔ فوج کا کام سرحدوں کی حفاظت ہے جب کہ سیاسی جماعتوں کا کام پارلیمنٹ چلانا ہے۔ ان سب خرابیوں کا سبب ہمارا کمزور آئین ہے۔ شرم کی بات ہے کہ پڑوسی ہندوستان میں بھی فوج ہے لیکن آج تک سیاست میں مداخلت نہیں کی اور ایک ہماری فوج ہے۔۔

شکیل احمد، ابو ظہبی:
لگتا ہے مشرف صاحب پر کچھ دباؤ ہے کہ پیپلز پارٹی سے ڈیل کریں، ایم ایم اے کا اثر ختم کرنے کے لیے۔

محمد شکیل، ٹانک، پاکستان:
پی پی پی کی ڈیل ہو چکی ہے۔

ضیا،پاکستان:
صرف امریکہ کاؤنٹ کرتا ہے۔

ہارون رشیدملک، اسلام آباد:
اگر صلح ہونا ہوتی تو اس وقت ہی ہو جاتی جب پرویز مشرف نے نواز شریف کو ختم کیا تھا۔

خالد عباسی، کراچی:
پی پی پی کی موجودہ سیاست ایک پتنگ کی طرح ہے جو ایک ڈھیل پر آگے جا رہی ہے لیکن وہ شاید یہ بھول گئی ہے کہ جو ڈھیل دے سکتا ہے وہ کھینچ بھی سکتا ہے۔

محسن سید، لاہور:
میں تو صرف اتنا کہوں گا کہ یہ سب لوگ اندر سے ایک ہیں۔

محمد یوسف بلتی، اسلام آباد:
بہت اچھی پالیسی ہے اور زرداری صاحب اسے زبردست کامیابی سے چلا رہے ہیں۔

ریاض فاروقی، کراچی:
مغربی ممالک کو صدر مشرف کے بعد ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو صدر مشرف کے روشن خیال اقدامات کو جاری رکھ سکیں۔ مسلم لیگ میں ان کو کوئی ایسا لیڈر نظر نہیں آتا جو کہ صدر مشرف کی جگہ لے سکے اسی لیے برطانیہ اور امریکہ پیپلز پارٹی کو تیار کر رہے ہیں۔

قمر زمان، پاکستان:
پیپلز پارٹی اب ٹھیک کر رہی ہے۔

پراناگٹھ جوڑا
 فوج کے ساتھ پیپلز پارٹی کا گٹھ جوڑ پرانا ہے، صرف اخباروں میں فوج پر الزام تراشی کرتے ہیں۔
انورحسین،ٹورانٹو

انور حسین، ٹورانٹو:
جی ہاں، پیپلز پارٹی اور فوج کا گٹھ جوڑ ہو چکا ہے اور پیپلز پارٹی اگلی حکومت بنائےگی۔ فوج کے ساتھ پیپلز پارٹی کا گٹھ جوڑ پرانا ہے، صرف اخباروں میں فوج پر الزام تراشی کرتے ہیں۔

صغیر احمد راجہ، کوٹلی، پاکستان:
یہ بہت اچھی بات ہے کیونکہ جب ملک میں سیاسی فضا اچھی ہوگی تو ملک ترقی کرے گا۔ یہ ملک اور قوم کے مفاد میں ہے۔

جبران حسنین، کراچی:
اصل میں پیپلز پارٹی نے دو دفعہ اسٹیبلشمنٹ سے دشمنی مول لی ہے اور اس کا نتیجہ بڑا ہی خراب نکلا۔ اب پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ اسٹیبلشمنٹ سے دوستی کی جائے۔ یہ سب کچھ آصف زرداری کی ڈیل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

حسین مسرور، حیدر آباد:
پی پی پی کا فوج سے مل جانا کوئی بڑی بات نہیں یہ تو پاکستان کی سیاست کا دستور رہا ہے کہ جس پارٹی کی فوج سے نہیں بنتی وہ کبھی بھی حکومت نہیں چلا سکتی۔ہر دور میں فوج قانون اور آئین سے بالا تر رہی ہے اور جو بھی پارٹی اس پر اعتراز کرتی ہے اس کی حکومت ختم ہو جاتی ہے اور یا اپنا وجود کھو دیتی ہے۔

سید احمد، کراچی:
پیپلز پارٹی نے آرمی سے مذاکرات کر کے کمزوری کا مظاہرہ کیا ہے۔ میرا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی اور دوسری تمام جمہوری پارٹیوں کو مل کر کام کرنا چاہیے بجائے جھکنے کے۔ تاہم میرا خیال ہے کہ یہ پارٹیاں ایم ایم اے سے خوفزدہ ہیں اس لیے حکومت سے ڈیل کر رہی ہیں۔

نوید صدیقی،پاکستان:
پاکستانی وڈیروں کو صرف لوٹ مار کرنے کے لیے اقتدار چاہیے، چاہے وہ نظریات بدل کر ہی کیوں نہ ملے۔

عبدلعلیم، نگویا، جاپان:
پی پی پی نے ہمیشہ اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ رکھا ہے لیکن اس کا اعتراف پہلی بار کیا گیاہے۔ اس سچ کا کریڈٹ آصف زرداری کو دیا جانا چاہیے۔ رہی بات اصول کی تو۔۔۔ بالفرض پاکستان پر کل اسرائیل، انڈیا یا امریکہ قبضہ کر لیں اور سب کو باقائدہ غلام بنا لیں تو یہی پیپلز پارٹی اور دیگر قائدین ’ ملک اور قوم کے وسیع مفاد میں‘ ان سے تعاون کے لیے بھی تیار ہوں گے۔

غلط توقعات
 بدقسمتی سے ہم پاکستانی لوگوں کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ ہم خود کچھ نہیں کرنا چاہتے اور یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ سیاسی پارٹیاں حکومت میں آئے بغیر کچھ نہیں کر سکتیں۔
رانا فیاض،امریکہ
رانا فیاض، ہیوسٹن، امریکہ:
بدقسمتی سے ہم پاکستانی لوگوں کا ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ ہم خود کچھ نہیں کرنا چاہتے اور یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ سیاسی پارٹیاں حکومت میں آئے بغیر کچھ نہیں کر سکتیں۔اگر پیپلز پارٹی کو عوام کے لیے کچھ کرنا ہے تو اسے حکومت میں آنا ہو گا اور حکومت میں فوج کے ساتھ بات چیت کے بغیر نہیں آیا جا سکتا۔

عبدالرؤف ڈتھو، ٹورانٹو:
پیپلز پارٹی ایک کرپٹ پارٹی ہے اور اس کے پاس ایک ہی راستہ بچا ہے کہ کسی طرح پنجاب کی ہمدردیاں حاصل کرے کیونکہ فوج پنجاب سے ہے۔ اگر پنجاب پی پی سے راضی ہو جائے تو یہ اقتدار میں آ سکتی ہے۔

ایاز مزاری، رحیم یار خان، پاکستان:
کبھی فوج، کبھی پیپلز پارٹی تو کبھی اسٹیبلشمنٹ۔ کیا کبھی کوئی پاکستان کے عام آدمی سے بھی کوئی ڈیل کرے گا؟ ۔۔۔محو تماشہ ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔

سید خان، بلیو فیلڈ، کینیڈا:
حیرت تو مشرف صاحب پر ہے کہ جسے کرپٹ کہتے تھے اسی کے ساتھ ڈیل کر لی۔

بدر عباس، نیو یارک، امریکہ:
حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی سیاسی جماعتوں کے ہمیشہ سے دو چہرے رہے ہیں، ایک پبلک کے لیے اور دوسرا ان کے اپنے مفادات کے لیے۔میرا خیال ہے کہ فوج کی مدد کے بغیر کوئی بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ پچھلی دفعہ مسلم لیگ تھی، اس دفعہ پیپلز پارٹی۔

ندیم رانا، بارسلونا، سپین:
اگر ہم پاکستان کے موجودہ حالات دیکھیں تو اس میں سیاسی پارٹیوں اور حکومت کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ میرا خیال ہے پیپلز پارٹی ملک کے لیے اچھا قدم لے رہی ہے حکومت سے تعاون کر کے۔

عام آدمی سے ڈیل
 کبھی فوج، کبھی پیپلز پارٹی تو کبھی اسٹیبلشمنٹ۔ کیا کبھی کوئی پاکستان کے عام آدمی سے بھی کوئی ڈیل کرے گا؟
ایاز مزاری، رحیم یار خان

محمد صدیق طاہر، ساہیوال، پاکستان:
ڈیل کی بات تو یقینی ہے۔ باقی سب پروپیگنڈا ہے لوگوں کو بے وقوف بنانے کے لیے۔ زرداری صاحب کو ڈیل کے بعد ہی رہا کیا گیا تھا جیسے ڈیل کے ذریعے نواز شریف صاحب کو سعودی عرب بھیجا گیا تھا۔

شہزاد، لندن:
پیپلز پارٹی اب مزید انتظار نہیں کر سکتی کیونکہ ان کو پتا ہے کہ انہیں بھی زندہ رہنا ہے۔ یہ پارٹی بھٹو کے وقت تک ٹھیک تھی مگر بے نظیر کے آنے سے اس میں خرابیاں ہی پیدا ہوئی ہیں۔ بے نظیر خود حکومت حاصل کرنے کرنے کے لیے سب کچھ کر سکتی ہیں تو ان کے شوہر کیوں نہیں۔

چاند ملک، رنگسٹر، جرمنی:
عوام کی گردنوں پر سوار ہونے کے لیے یہ سیاستدان کس حد تک چلے جاتے ہیں ، حالیہ پینترا ایک مثال ہے اس کی۔یہ لوگ صرف اقتدار میں آنا چاہتے ہیں قیمت کچھ بھی ہو۔

امان اللہ مری، بنکاک، تھائی لینڈ:
یہ سب کچھ کرسی کی کشش ہے جو ہمارے سیاستدانوں کو عوام کی محبت میں تڑپا رہی ہے، اصولوں سے بے خبر۔

محمد وسیم خان تنولی،کراچی:
پیپلز پارٹی ایک مدت سے عوام کی طاقت پر یقین کھو چکی ہے، شاید اس وقت سے جب لوگ بھٹو کو پھانسی سے نہیں بچا سکے۔اس پارٹی نے سن اٹھاسی اور ترانوے میں بھی ڈیل کے ذریعے حکومت لی تھی اور اب بھی یہی کر رہی ہے۔

امداد جھوکیو، لاڑکانہ، پاکستان:
پی پی پی کی پالیسی میں بالکل تبدیلی آئی ہے، وہ صرف اقتدار لینے کے چکر میں ہے۔ پارٹی اپنے روایتی مؤقف سے سن اٹھاسی میں ہٹ گئی تھی۔ یہ صرف اسٹیبلشمنٹ کی چال ہے کہ بے نظیر کو ہٹا کرآصف زرداری کو پارٹی کا لیڈر بنایا جائے اور میرا خیال ہے وہ اس میں کامیاب ہو گئے ہیں۔

زاہد رانا، گوجرانوالہ، پاکستان:
لگتا ہے کہ پی پی پی اور مشرف میں ڈیل فائنل ہو گئی ہے۔ افسوس کہ سیاسی جماعتوں نے ماضی سے کوئی سبق نہیں سیکھا اور پھر ڈکٹیٹروں کے بچھائے ہوئے جال میں پھنس گئے ہیں۔ فوج کو واپسی کا راستہ دینا پاکستان میں پھر کسی نئے مارشل لاء کی راہ ہموار کرنا ہے۔

ڈرامہ ہے
 یہ بالکل ڈرامہ ہے اور ڈیل پہلے ہی ہو چکی ہے پرویزمشرف کے اگلی بار صدر رہنے کے لیے اور پیپلز پارٹی کے حکومت میں آنے کے لیے۔
افضل چٹھہ، برطانیہ

افضل چٹھہ، برطانیہ:
یہ بالکل ڈرامہ ہے اور ڈیل پہلے ہی ہو چکی ہے پرویزمشرف کے اگلی بار صدر رہنے کے لیے اور پیپلز پارٹی کے حکومت میں آنے کے لیے۔

شاہد نواز کہوٹ، سرگودھا:
یہ جو سیاسی ہوتے ہیں ان کا کچھ پتا نہیں ہوتا، اپنے سگے کے دشمن بن جاتے ہیں اور دشمن کے دوست۔اگر صدر صاحب نے کوئی وعدہ کیا تو بک جائیں گے۔

ملک زین، سپین:
پاکستانی سیاست کو فٹ بال سیزن کی طرح کے سسٹم کی ضرورت ہے۔جب ٹیم ایک میچ بھی ہار جائے تو کوچ بدل دیا جائے۔

محمدیامین، اونٹاریو، کینیڈا:
جناب یہ سیاست ہے، یعنی کبھی دشمن دوست کبھی دوست دشمن۔یہ وہی پی پی پی ہے جس کو ملک توڑنے کا تمغہ ملا تھا اور آج وہی آرمی کے ساتہ پینگیں بڑھا رہی ہے۔ کل حکومت بھی پی پی کو مل جائے گی۔ جو دنیا میں نہیں ہوتا وہ پاکستان میں باآسانی دستیاب ہے۔

سید ہاشمی، شکاگو، امریکہ:
مسٹر زرداری اور دوسری پارٹیاں پاکستان میں جمہوریت کے لیے شور مچاتی ہیں لیکن ان کو اس وقت تک نہیں سنا جائے گا جب تک وہ اپنی جماعتوں میں جمہوریت نہیں لائیں گے۔بے نظیر کی غیر موجودگی میں پیپلز پارٹی بے چینی سے اچھی صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

شہریارخان، سنگاپور:
پاکستان کی سیاسی پارٹیاں ہمیشہ سے اپنے اصولوں پر سودا کرنے کو ہی سیاست کا اصل گُر سمجھتی ہیں۔عوام کو دھوکا دے کر سیاست کرنا ان کا حقیقی مقصد ہے چاہے وہ پارٹیاں اسلامی ہوں یا غیر اسلامی، سیاسی ہوں یا غیر سیاسی، جمہوری ہوں یا غیر جمہوری۔ عوام ان کو کب تک برداشت کریں گے۔جنرل مشرف کو آصف زرداری سے تعاون کی کیا ضرورت آن پڑی ہے؟

عبدالغفور، ٹورانٹو:
جناب اس وقت پی پی پی جس قدر انتشار کا شکار ہے اس کی وجہ سے وہ فوج سے زور آزمائی کی پوزیشن میں بالکل نہیں ہے۔ایسے وقت میں صلح کی طرف قدم بڑھانا ہی پیپلز پارٹی کے لیے فائدہ مند ہے۔ میرا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی میں اب کچھ بھی روایتی نہیں بچا، پالیسی سے لے کر قیادت تک سب تبدیل ہو چکا ہے۔اگر مؤقف بھی تبدیل ہو گیا تو کیا فرق پڑے گا!

غلام فرید شیخ، گمبت،سندھ، پاکستان:
کل تک تو یہ کہہ رہے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ سے بات نہیں کرنی۔آج کرسی کی لالچ میں اسی اسٹیبلشمنٹ سے باتیں ہو رہی ہیں۔میرے خیال میں اس بیان سے پیپلز پارٹی اپنے روایتی مؤقف سے ہٹ رہی ہے اور حکومت حاصل کرنے کی ڈیل ہو رہی ہے۔ اس کا حشر بھی ویسا ہی ہوگا جیسا ڈیل کرنے والے باقی سیاسدانوں کا ہوتا ہے۔

محمد اشرف، مسی ساگا، کینیڈا:
کوئی بھی سیاسی جماعت اسٹیبلشمنٹ کی مدد کے بغیر اقتدار میں نہیں آ سکتی، اس لحاظ سے یہ اچھی بات ہے کہ زرداری صاحب اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات بحال کر رہے ہیں۔ اس طرح وہ ایک پاورفل آرمی کی وجہ سے پاور میں آجائیں گےاور پیپلز پارٹی کے ووٹروں کو بھی فائدہ ہوگا کیونکہ وہ سالوں سے اپوزیشن میں بیٹھے ہیں۔

تنویر رزاق، فیصل آباد، پاکستان:
مشرف اکیلے تو کوئی ڈیل نہیں کر سکتے۔ ہمدردیاں بدلنے والے جو سیاستدان آج ان کے ساتھ ہیں وہ کل نواز شریف کے بازو تھے اور انہوں نے پیپلز پارٹی کی حکومت ختم کرائی تھی۔یہ سب اخباری باتیں ہیں کہ پیپلز پارٹی اور مشرف صاحب کے درمیان کوئی ڈیل ہو رہی ہے۔

جاوید جمال الدین، ممبئی، انڈیا:
اس بات کا اندیشہ اس وقت پیدا ہو گیا تھا جب آصف زرداری کو بدعنوانی کے الزام کے باوجود رہا کر دیا گیا تھا اور پاکستان میں سیاسی عمل کا آغاز ہونے کی امید بھی پیدا ہو گئی تھی جب جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کے والد کے انتقال پر تعزیت کی تھی لیکن کامیابی صرف بے نظیر کو حاصل ہوئی۔ میڈیا نے ہمیشہ اس قسم کی سودے بازی کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ پاکستان کے لیے اچھا ہے یا برا، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔

66سالگرہ: وردی کاتحفہ
مشرف دور کی پانچویں سالگرہ: آپ کیا کہتے ہیں؟
66زرداری کی ضمانت
کیا یہ فیصلہ ضرورت کے تحت ہے؟ آپ کی رائے
66آپ کی رائے
جدہ ملاقات کا پاکستانی سیاست پر اثر کیا ہوگا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد