BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 13 February, 2006, 13:27 GMT 18:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف نے ہمیں لڑانا چاہا: نواز

نواز
’تمام کوششوں کے باوجود کوئی دونوں بھائیوں کو الگ نہیں کرسکا‘
پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ صدر مشرف نے ان کے اور شہاز شریف کے درمیان دراڑیں ڈالنے کی کوششیں کیں جو کامیاب نہیں ہوسکیں۔

وہ اتوار کی شب لندن کے مقامی ہوٹل میں پاکستانیوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے اعزاز میں اپنی جانب سے دیئے گئے ایک عشائیہ سے خطاب کر رہے تھے۔

خود میاں نواز شریف کے الفاظ میں ’مشرف صاحب آپ کو دونوں بھائیوں میں دراڑیں ڈالنے کی کوششیں نہیں کرنی چاہیے تھیں‘۔

انہوں نے کہا کہ تمام کوششوں کے باوجود کوئی دونوں بھائیوں کو الگ نہیں کرسکا اور مجھے اپنے بھائی پر فخر ہے۔

نواز شریف خاصے مطمئن نظر آرہے تھے اور انہوں نے کئی باتیں بڑے خوشگوار موڈ میں کیں خطاب کے دوران جب انہوں نے الیکشن کے قواعد تبدیل کرنے کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ ایسی ہی تبدیلیوں کی وجہ سے انہیں مسلم لیگ کا قائد بننا پڑاتھا اور شہباز شریف کو صدر بنادیا گیا۔

نواز شریف نے کہا کہ پتہ نہیں یہ قائد یا رہبر کیا ہوتا ہے؟

انہوں نے کہا کہ میرے بھائی مجھ سے صرف ڈیڑھ پونے دو سال چھوٹے ہیں اور وہ صدر ہیں مجھے رہبر اور قائد بنادیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے رہبر تک پہنچنے میں ابھی دس بیس سال لگے گیں۔ انہوں نےسٹیج پر بیٹھے سید غوث علی شاہ کی طرف اشارہ کرکے کہاکہ بھئی ان کے عمر کے لوگوں کو رہبر ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ صدر شہباز ہی ہیں لیکن فیصلے سارے میں ہی کرتاہوں انہوں نے اسی خوشگوار موڈ میں کہا کہ شہباز شریف مجھ سے پوچھے بغیر پاکستان گئے تھے ان کا اشارہ ان کی گیارہ مئی کی پاکستان آمد کی کوشش سے تھا۔

شہباز کو پکڑ لیتے
 شہباز شریف پر جعلی مقابلوں کے الزمات لگائے گئے حالانکہ انہوں نے چوروں ڈاکوؤں کو ختم کیا اور امن وامان بحال کیا۔ ان پر اگر الزامات سچے تھے تو انہیں پاکستان آنے پر پکڑ لیتے

نواز شریف نے کہا کہ شہباز شریف پر جعلی مقابلوں کے الزمات لگائے گئے حالانکہ انہوں نے چوروں ڈاکوؤں کو ختم کیا اور امن وامان بحال کیا۔انہوں نے کہا کہ ان پر اگر الزامات سچے ہوتے تو جب شہباز پاکستان آئے تھے توانہیں پکڑ لیتے لیکن انہیں واپس بھجوادیاگیا۔

انہوں نے اس موقع پر ایک مسکراہٹ دی اور کہا کہ ویسے شہباز مجھ سے پوچھ کر پاکستان نہیں گئے تھے۔

ان کی اس بات پر حاضرین نے قہقہہ لگایا اس دوران خود میاں نواز شریف بھی مسکراتے رہے اور جب خاموشی ہوئی تو انہوں نے کہاکہ ’شہباز نے تھوڑا سا پوچھاتھا اگرچہ مکمل نہیں پوچھا‘۔

نواز شریف نے خود اپنے پاکستان آنے کے بارے میں کہا کہ میں اس وقت واپس جاؤں گا جب پاکستان کے پندرہ کروڑ عوام چند جرنیلوں سے طاقتور ہوجائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایل ایف او کو آئین کا حصہ نہیں مانتے خود ان کے الفاظ ’میں وزیر اعظم بنوں نہ بنوں، میں اسلام آباد لاہور بیٹھوں نہ بیٹھوں چاہے جدہ رہوں چاہے لندن رہوں میں ایل ایف او کو آئین کا حصہ نہیں مانوں گا‘۔

اس موقع پر حاضرین میں سے کسی نے نعرہ لگا دیا’ قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں‘۔

جس پر نواز شریف مسکراتے ہوئےکہا کہ ’پہلے بھی آپ نے قدم بڑھانے کا کہا تھا تو میں نے قدم بڑھا دیے تھے اور پیچھے سے آپ غائب تھے اب سیدھی بات ہے ایک وعدہ میں کروں گا اور ایک عوام کو کرنا ہوگا کہ اب کوئی کمپرومائز نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایک باوقار قوم بننا ہے تو پھر حوصلہ کرنا ہوگا، پندرہ کروڑ عوام کو چند جرنیل نہیں کھا سکتے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر کسی عہدے کالالچ نہیں ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ انہوں نے جس طرح کی قربانیاں دی ہیں اس کا فائدہ عوام کو پہنچے۔

انہوں نے کہا کہ عوام آج بھی ان کے ساتھ ہیں چند لیڈر تھے جو انہیں چھوڑ گئے ہیں تاہم سابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ اب انہیں اپنی پارٹی میں واپس نہیں لیں گے کیونکہ اگر ان کو واپس لے لیا تو پھر آج تک کی ساری جد و جہد دریا میں پھینکنےکے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب نوجوان لوگ سامنے آئیں گے۔

شہباز شریف نے کہا
 پہلے وہ سمجھتے تھے کہ پیشہ ورانہ صلاحیت زیادہ اہم ہے اور مخلص ہونا کم اہم ہے ایک وقت آیا تھا جب نواز شریف نے آگے قدم بڑھانے کے بعد مڑ کر دیکھا تو سب تتر بتر ہوچکے تھے

انہوں نے کہاکہ صدر مشرف مسئلہ کشمیر کے چار حل پیش کر چکے ہیں جبکہ بھارت کا موقف ہے کہ سرحد تبدیل نہیں ہوگی یعنی اس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ نواز شریف نے کہا کہ اس کے مقابلے میں ان کےدور میں جب واجپائی پاکستان آئے تو انہوں نے کہا تھا کہ انیس سو ننانوے کو دونوں ملکوں کے درمیان کشمیرسمیت تمام مسائل کے حل کا سال ڈیکلیئر کر لینا چاہیے۔

اس سے قبل مسلم لیگ کے صدر شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ پہلے وہ سمجھتے تھے کہ پیشہ ورانہ صلاحیت زیادہ اہم ہے اور مخلص ہونا کم اہم ہے ایک وقت آیا تھا جب نواز شریف نے آگے قدم بڑھانے کے بعد مڑ کر دیکھا تو سب تتر بتر ہوچکے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اب ساڑھے چھ سال بعد وہ نواز شریف سے متفق ہوگئے ہیں کہ پیشہ ورانہ صلاحیت ، دیانت سے بھی زیادہ اہمیت وفاداری اور اخلاص کی ہے۔

نواز شریفخصوصی ویڈیو
سابق وزیر اعظم نواز شریف سے انٹرویو
نواز شریف فرام لندن
جلاوطنی کی لب کشائی کے چوکے اور چھکے
لندن کی بات۔۔۔
مشرف حکومت سے مفاہمت کا تاثر زائل
نوازشریف کا عزم
آئین توڑنے والے جرنیلوں کوسبق سکھائیں گے
نواز شریف کے بیان پر آپ کا کیا ردِ عمل ہے؟’سزا دی جائے گی؟‘
نواز شریف کے بیان پر آپ کا کیا ردِ عمل ہے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد