BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 29 September, 2006, 11:09 GMT 16:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’کتاب کے لیئے ملک کی تحقیرکی‘

بے نظیر
مشرف نےسستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے: بےنظیر
پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو نے کہا ہے کہ یہ بات قابل افسوس ہے کہ ایک فوجی جنرل نے اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب کو فروغ دینے کے لیے ملک کی تحقیر کی ہے۔

جمعہ کو بے نظیر بھٹو کی طرف سے میڈیا کو جاری کیئے گئے بیان میں بےنظیر بھٹو نے کہا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں ذوالفقار علی بھٹو پر جو تنقید کی ہے وہ شرمناک ہے اور یہ بھٹو ہی تھے جنہوں نے ایک شکست خوردہ فوج کا احترام بحال کیا۔

جنرل مشرف کی کتاب بازار میں آنے کے چار دن بعددوسرے سیاسی رہنماؤں کی نسبت قدرے تاخیر سے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فوجی حکمرانوں کی طرف سے بار بار آئین کی اس خلاف ورزی نے پاکستان کے وجود کو ہی خطرہ میں ڈال دیا ہے۔

گیارہ ستمبر کے بعد رچرڈ آرمیٹیج کی دھمکی پر جنرل مشرف کی جانب سے امریکی مطالبات تسلیم کرنے کے واقعہ کا نام اور حوالہ دیے بغیر بے نظیر نے کہا کہ ستم ظریفی یہ ہے کہ پاکستان کے جرنیل بیرونی دباؤ کے سامنے تو فوراً ہتھیار ڈال دیتے ہیں لیکن ملک میں سول حاکمیت کا حکم ماننے سے انکار کرتے رہتے ہیں۔

پیپلز پارٹی کی سربراہ نے جنرل مشرف پر سرکاری وسائل سے اپنی تشہیر کرنے، ریاستی راز ظاہر کرکے حلف کی خلاف ورزی کرنے کے الزامات عائد کیئے ہیں اور ان کی اپنے والد اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو پر تنقید کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔

کتاب پر تبصرہ کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کی چئیر پرسن نے کہا کہ جنرل مشرف نے ملک کے اہم قومی مفاادت کو خطرہ میں ڈالتے ہوئے سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ قابل افسوس بات ہے کہ جنرل مشرف اپنے ذاتی مفادات کو فروغ دینے کے لیے اپنی سرکاری حیثیت استعمال کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی خزانہ سے لاکھوں روپے صدر جنرل پرویز مشرف کے دورہ امریکہ پر خرچ کیے گئے جو عملاً ان کی کتاب کی تشہیر کا دورہ بن کر رہ گیا ہے۔

بے نظیر نے کہا کہ اس بات کی پہلے کوئی مثال نہیں ملتی کہ ریاست کا سربراہ ذاتی تشہیر کے لیے ساٹھ افراد کے وفد کے ہمراہ تین ہفتوں سے بیرون ملک دورے پر ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوجی حکمران کو ان کی کتاب کی تشہیر کے لیے سرکاری خزانہ سے خرچ کی جانے والی رقم کا حساب دینا چاہیے۔

بے نظیر نے کہا کہ یہ بات قابل افسوس ہے کہ ایک فوجی جنرل اپنی یادداشتوں پر مبنی کتاب کو فروغ دینے کے لیے ملک کو حقیر کرکے دکھا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی مفاد سے متعلق رازوں اور خفیہ معلومات کو افشا کرکے جنرل مشرف نے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے۔ بے نظیر نے کہا کہ کسی فوجی سربراہ کو ملازمت میں رہتے ہوئے ان معاملات پر بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

سیکرٹ ایکٹ
 آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرکے جنرل مشرف نے ملکی سلامتی کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں یہ اعتراف کرلیا ہے کہ انہوں نے ہی سرکاری جماعت مسلم لیگ(ق) بنوائی جو کہ فوجی اہلکار اور فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے حلف کی خلاف ورزی ہے کیونکہ حلف انہیں سیاسی معاملات میں مداخلت سے منع کرتا ہے۔
بے نظیر

انہوں نے کہا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کرکے جنرل مشرف نے ملکی سلامتی کو خطرہ میں ڈال دیا ہے۔

بے نظیر نے کہا کہ جنرل مشرف کی کتاب سے ایک بار پھر یہ افسوس ناک اور تلخ بات سامنے آئی ہے کہ فوجی حکومتوں سے ملک کو کتنا نقصان پہنچا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں یہ اعتراف کرلیا ہے کہ انہوں نے ہی سرکاری جماعت مسلم لیگ(ق) بنوائی جو کہ فوجی اہلکار اور فوج کے سربراہ کی حیثیت سے ان کے حلف کی خلاف ورزی ہے کیونکہ حلف انہیں سیاسی معاملات میں مداخلت سے منع کرتا ہے۔

انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو ملک کا پہلا منتخب وزیراعظم اور شہید قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھٹو کی حیثیت نامقبول فوجی جرنیلوں پر منحصر نہیں جو ریاستی سرپرستی کے بغیر کسی ایک حلقہ انتخاب کی نشست بھی نہیں جیت سکتے جبکہ ’شہید بھٹو لوگوں کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔‘

بے نظیر نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو آئین اور ایٹمی ہتھیار دے کر منقسم پاکستان اور شکست خوردہ فوج کا احترام بحال کیا اور ملک کو متحد کیا۔

انہوں نے کہا کہ فوجی جرنیلوں کو ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات فراموش نہیں کرنی چاہئیں کیونکہ وہ پاکستان کے قابل فخر سپوت تھے اور انہوں نے پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی جان دی۔

بے نظیر بھٹو نے کہا کہ جنرل مشرف کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو پر پاکستان کے ٹوٹنے کا الزام لگانے کی بجائے ایوب خان اور یحییٰ خان کی آمریتوں پر غور کریں جنہوں نے تقسیم کے بیج بوئے تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی جان دی: بے نظیر

صدر جنرل پرویز مشرف کے دورہ امریکہ سے پہلے پاکستان میں یہ قیاس آرائیاں زوروں پر تھیں کہ اس دوران جنرل مشرف اور پیپلز پارٹی کے نمائیندوں کے درمیان کوئی پس پردہ بات چیت ہوگی جو فوجی حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان مفاہمت کا راستہ ہموار کرسکے گی۔

جنرل پرویز مشرف کی کتاب پر پاکستان کے حزب مخالف کے سیاستدانوں نے سخت تنقید کی ہے اور اسے قومی مفادات اور سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ تاہم بے نظیر کی چند روز تک خاموشی سے یہ چہ موگوئیاں زور پکڑ رہی تھیں کہ وہ دانستہ طور پر خاموش ہیں۔

جمعہ کو بے نظیر بھٹو کے جنرل مشرف اور فوجی جرنیلوں پر کڑی تنقیدی بیان سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ان کی پارٹی اور مشرف حکومت کے درمیان مفاہمت کی قیاس آرائیاں وقتی طور پر دم توڑ جائیں گی۔

جنرل پرویز مشرفڈیل کی تفصیل نہیں
کتاب میں مشرف نواز ڈیل کی تفصیل نہیں ہے
مشرف کی کتابدو دنوں میں بارہ ہزار
کتاب کی پاکستان میں زبردست سیل ہو رہی ہے
فروخت ذرا کم کم
مشرف کی کتاب بک سٹالوں پر پہنچ گئی
مشرف’بائے دا بُک‘
مشرف کی کتاب کی سرکاری خرچے پر تشہیر
اسی بارے میں
’ کتاب سکیورٹی رسک ہے‘
27 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد