’پرل قتل سے عمر شیخ لاعلم تھے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ نے امریکی صحافی ڈینیئل پرل کیس کے سلسلے میں ایک اور تنازع کو جنم دیا ہے۔ اپنی کتاب میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ عمر شیخ پرل کے اغوا میں ملوث تھے لیکن صحافی کے قتل سے لاعلم تھے۔ امریکی اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ کے صحافی ڈینیئل پرل کو جنوری سنہ دو ہزار دو میں اس وقت اغواء کرنے کے بعد قتل کردیا گیا تھا جب انہیں اپنے اخبار کی جانب سے پاکستان میں کام کی غرض سے بھیجا گیا تھا۔ اس قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں عمر سعید شیخ کو موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور اس فیصلے کے خلاف گزشتہ چار سالوں سے ان کی اپیل ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ صدر پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ پولیس نے عمر شیخ کے رشتے داروں کو گرفتار کرلیا تھا، جس کے بعد انہوں نےگرفتاری پیش کی تھی۔ صدر مشرف لکھتے ہیں کہ عمر شیخ نے کراچی میں اپنے ایک ساتھی حسین سے فون پر رابطہ کر کے ان کو ہدایت کی کہ ڈینئل پرل کو رہا کردیا جائے مگر انہیں بتایا گیا کہ پرل کو قتل کردیا گیا ہے۔ صدر مشرف کی کتاب کی اشاعت کے بعد عمر شیخ کے وکیل رائے بشیر کا کہنا ہے کہ وہ اپنے موکل کے دفاع میں صدر مشرف کے اس موقف کا حوالہ دینگے کہ عمر شیخ کو ڈینئل پرل کے قتل کا علم نہیں تھا، اور وہ اسے رہا کرانا چاہتے تھے۔ رائے بشیر کا کہنا ہے کہ عدالت سے یہ بھی درخواست کی جائے گی کہ صدر پرویز مشرف کو عدالت میں طلب کر کے ان کا بیان رکارڈ کیا جائے۔ | اسی بارے میں پرل کیس میں اپیل 13.08.2002 | صفحۂ اول پرل کیس: ایف بی آئی ایجنٹ کا بیان11.05.2002 | صفحۂ اول عمر شیخ لاپتہ ہیں: وکیل22 January, 2004 | صفحۂ اول دو دنوں میں بارہ ہزار کاپیاں 26 September, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||