| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
عمر شیخ لاپتہ ہیں: وکیل
احمد عمر شیخ کے وکیل نےسندھ ہائی کورٹ میں ایک اپیل دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت کو یہ حکم دیا جائے کہ وہ عمر شیخ کو عدالت میں پیش کرے۔ عمر شیخ جو برطانوی شہری ہیں۔ ان پر امریکی صحافی ڈینئل پرل کے قتل کی فرد جرم عائد کرکے پاکستان کی ایک عدالت نے سن دو ہزار دو میں سزائے موت سنائی تھی۔ ان کے وکیل عبدالوحید کٹپر نے بدھ کے روز دائر کی گئی اپنی اپیل میں کہا ہے کہ اطلاعات کے مطابق عمر شیخ کو حیدرآباد جیل سے کہیں اور منتقل کردیا گیا ہے۔ وکیل کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں اپنے موکل کے بارے میں معلوم نہیں ہے کہ انہیں اب کہاں رکھا گیا ہے چنانچہ حکومت کو ہدایت دی جائے کہ وہ عمر شیخ کو عدالت میں پیش کرے۔ عدالت نے ان کی اپیل پر کارروائی کرتے ہوئے اگلی سماعت کے لئے ستائیس جنوری کی تاریخ دی ہے۔ پاکستان کے ایک روز نامے ’دی نیوز‘ کے مطابق القاعدہ سے تعلق کے شبہ میں گرفتار کئے گئے پانچ افراد میں سے ایک حسین عبداللہ المصری، عمر شیخ کو حیدر آباد جیل سے نکالنا چاہتے تھے۔ اٹھارہ جنوری کو سکیورٹی افواج نے کراچی میں گلستان جوہر کے قاسم کمپلکس پر چھاپہ مار کر ان پانچ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا تھا۔ اس کارروائی کے دوران دو خواتین کو بھی گرفتار کیا گیا تھا جبکہ اسلحہ برآمد کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ حساس تنصیبات کے نقشے بھی برآمد کئے تھے۔ ذرائع کے مطابق ان میں سے ایک نقشہ حیدر آباد جیل کا تھا۔ دی نیوز کے مطابق تفتیش کے دوران گرفتار شدگان میں سے ایک نے بتایا کہ وہ لوگ عمر شیخ اور چند دیگر افراد کو جیل سے نکالنے کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ ایک اعلٰی تفتیش کار نے اپنا نام نہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تحقیقات کے بعد عمر شیخ کو حیدرآباد جیل سے منتقل کرنا ضروری ہوگیا تھا اور انہیں اب اڈیالہ جیل میں رکھا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ المصری کے عمر شیخ سے بہت قریبی روابط تھے۔ ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار نے کہا ہے کہ عمر شیخ کو سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||