مشرف پاکستان کی جان چھوڑیں: نواز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اکبر بگٹی کی ہلاکت کو پاکستانی سیاسی تاریخ کا سیاہ باب قرار دیا ہے۔ انہون نےبی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت پوری قوم کے جزبات مجروح ہیں اور یہ بہت ہی سیاہ باب ہے پاکستان کی سیاست کا۔آپ دیکھ لیں کہ ہم نے 1971 میں جو پاکستان کا حشر کیا ۔مشرقی پاکستان بنا۔ مشرف صاحب نے جو کام کیا ہے وہ معافی کے لائق نہیں ہے۔اس کے اثرات کافی خطرناک ہوں گے۔یہ تو ویسا ہی ہے جیسے ہم نے ایسٹ پاکستان کو ٹھکرا دیا۔ آج بلوچستان کو دھکا دیا جا رہا ہے۔ کیا تھا؟ اس شخص نے کیا قصور کیا تھا؟ اکبر بگٹی صاحب پاکستان کے ساتھ وفاداری کرتے رہے ہیں۔ وہ وزیر تھے۔ پھر گورنر رہے بلوچستان کے۔کئی بار پارلیما ن کے رکن رہے۔ تو پھر کیا قیامت آ گئی تھی، اگر انہوں نے صوبائی حقوق کی بات اٹھائی تھی؟‘ یہ پوچھے جانے پر کہ جب بھی کچھ بلوچستان میں ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری پنجاب پر ڈال دی جاتی ہے اور اس بار بھی کچھ ویسا ہی ہو رہا ہے۔ نواز شریف نے کہا کہ’ اس وقت پاکستان کے عوام ایک طرف ہیں اور پاکستان کے جرنیل ایک طرف۔ اور یہ پاکستان کے جرنیل کا فیصلہ ہے۔ یہ قوم کا فیصلہ نہیں ہے لیکن یہ جو جرنیل ہیں ان کا تعلق پنجاب سے ہے اس لیئے لوگ اسے پنجاب سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن اس وقت پوری قوم ایک طرف ہے اور فوج ایک طرف۔ میں قوم کے ساتھ کھڑا ہوں۔ میرا فوج کے جرنیلوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میری ہمدردی بلوچستان کے عوام کےساتھ ہے۔ میری ہمدردی بگٹی صاحب کے خاندان کے ساتھ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مشرف صاحب نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے خطرناک نتیجے مرتب ہوں گے‘۔ یہ پوچھے جانے پر کہ آپ خود کئی بار پاکستان کے وزیر اعٰظم رہ چکے ہیں آپ کو یہ کبھی محسوس ہوا کہ بلوچستان کے وسائل لوٹے جا رہے ہیں؟ اس پر نواز شریف نے کہاکہ ’ اس وقت اختر مینگل صاحب بلوچستان کے وزیر اعلیٰ تھے اور اس وقت کوئی بھی مسئلہ پیش آتاتو ہم بیٹھ کر حل نکالتے تھے۔ وہ ساتھ ساتھ تھے ہمارے۔ یہ تو مشرف صاحب کی پالیسی کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے۔ اس طرح کا کوئی سانحہ جمہوری دور میں نہیں ہوا۔ جب بنگلہ دیش بنا تو وہ فوجی دور تھا۔ اس کے بیج فوجی دور میں بوئے گئے۔ پھر وہی کام شروع کر دیا گیا ہے‘۔ نواز شریف نے کہا کہ ’فوجی جرنیلوں سے کسی اچھے کی توقع کی ہی نہیں جا سکتی۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مشرف صاحب کو اس ملک کی جان چھوڑ دینی چاہیئے۔ پاکستان ڈوب رہا ہے۔ اس کے باوجود وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں‘۔ | اسی بارے میں شکریہ نواز شریف: بینظیر 31.08.2002 | صفحۂ اول نواز کی دستبرداری مصدقہ10.09.2002 | صفحۂ اول نواز: آئین پامال کردیاگیا02.10.2002 | صفحۂ اول میاں نواز شریف کی خصوصی ویڈیو08 February, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||