BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 July, 2006, 17:53 GMT 22:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جمہوریت کا تختہ الٹنے پر یوم سیاہ

کراچی میں ریلی
ریلی میں مشرف اور سندھ حکومت کو نشانہ بنایا گیا
پاکستان پیپلز پارٹی نے پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹنے کے انتیس سال کی تکمیل پر بدھ کے روز یوم سیاہ منایا اور احتجاجی ریلی نکالی۔

یاد رہے کہ پانچ جولائی انیس سو ستتر کو فوجی جرنل ضیاالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا تنحتہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔

کراچی میں بدھ کے روز ریگل چوک سے پریس کلب تک ریلی نکالی گئی، جس کی قیادت پی پی پی کے صوبائی صدر قائم علی شاہ اور قائد حزب اختلاف نثار کھوڑو کر رہے تھے۔ ریلی میں اسمبلی ممبران سمیت بڑی تعداد میں خواتین بھی شامل تھیں۔

ریلی میں شریک کارکنان کے ہاتھوں میں پی پی پی کے جھنڈے تھے اور وہ پارٹی کے نغموں پر رقص کر رہے تھے۔

ریلی میں وزیر اعظم بینظیر، یہ فوجی بینظیر سے ڈرتے ہیں سمیت صدر مشرف اور سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم کے خلاف ذاتی نعرے بازی کی گئی۔

احتجاجی ریلی کو سید قائم علی شاہ، نثارکھوڑو، نفیس صدیقی اور رفیق انجینئر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کے دن گنے جا چکے ہیں اور بینظیر بھٹو ضرور واپس آئینگی اور وزیر اعظم بنیں گی۔

انہوں نے کہا کہ آج کے دن ایک منتخب وزیر اعظم اور جمہوریت پر حملہ کیا گیا تھا مگر یہ یاد رہنا چاہئے کہ یہ ملک جمہوریت کے لیئے بنا تھا اور جمہوریت کے ساتھ ہی قائم رہ سکتا ہے۔

پی پی پی کے رہنماؤں نے کہا کہ آج بھی جنرل ضیاالحق ایک دوسرے روپ میں موجود ہے، آج بھی اس سے لڑنے کی ضرورت ہے اور آج بھی اس ملک کو بینظیر کی قیادت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس حکومت میں اسمبلی کو ربڑ اسٹمپ اور عدلیہ کو گھر کی نوکرانی بنایا گیا ہے اور عوام سے روزگار اور امن و امان چھین لیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ بینظیر بھٹو کی سیاسی بصیرت ہے جو انہوں نے اختلافات کو بھلاتے ہوئے نواز شریف کے ساتھ غریب عوام کے لیئے میثاق جمہوریت پر دستخط کیئے ہیں۔

انہوں نے کہا پی پی پی نے ہر دور حکومت میں ڈکٹیٹر سے لڑائی کی ہے۔ ’ذوالفقار علی بھٹو نے اس کی ابتدا کی تھی جبکہ بینظیر بھٹو اس کی انتہا کرینگی‘۔

اسی بارے میں
تضادات سے بھرا انسان
04 April, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد