ڈیڈ لائن 31 جولائی ورنہ عدم اعتماد | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں اتحاد برائے بحالئی جمہوریت (اے آر ڈی) کے اجلاس میں ایک قرارداد میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ’صدر پرویز مشرف کی حکومت‘ اکتیس جولائی تک استعفیٰ دے ورنہ اس کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی جائے گی۔ قرارداد میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تحریک عدم اعتماد کا نشانہ وزیر اعظم ہوں گے یا مواخذے کی صورت میں صدر اور اس کے لیئے کن لوگوں سے رابطہ کیا جاخے گا۔ میاں نواز شریف نے اس بارے میں ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ اسی بات پر غور کے لیئے ایک کمیٹی بنائے گئی ہے۔ اجلاس کے دوران پاکستان کی موجودہ حکومت پر بد عنوانی، مالی بے ضابطگیوں، ملک کو اقتصادی مشکلات سے دو چار کرنے کے الزامات لگائے گئے۔ سپریم کورٹ کے پاکستان سٹیل مِل کے بارے میں فیصلے کا بار بار ذکر ہوا اور اسے حکومت کے خلاف فرد جرم قرار دیا گیا۔ دونوں سابق وزرائے اعظم کی پاکستان واپسی کے بارے میں ایک قرارداد میں کہا گیا ہے وہ آئندہ انتخابات کے موقع پر پاکستان میں ہوں گے۔ تاہم نواز شریف نے کہا کہ انہیں صدر جنرل مشرف سے منصفانہ انتخابات کی توقع نہیں۔ اے آر ڈی کے مرکزی رہنماؤں نے قریباً آدھےگھنٹے تک بند کمرے میں بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں بےنظیر، نواز شریف اور ان کے کچھ دیگر رفقاء موجود تھے۔ بند کمرے میں اجلاس کی وجہ یہ تھی کہ بے نظیر اصولی طور پر تو تمام معاملات پر متفق تھیں مگر ان کا خیال تھا کہ کچھ معاملات پر پریس کی غیر موجودگی میں بات کی جائے۔ اجلاس میں آے آر ڈی کے مختلف رہنماؤں نے میاں نواز شریف کی وسیع تر اتحاد کی تجویز کا ذکر کرتے ہوئے متحدہ مجلس کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا۔ اے آر ڈی کا اجلاس ایک مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا جس کی صدارات پاکستان پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو اور مسلم لیگ نواز گروپ کے لیڈر میاں نواز شریف نے مشترکہ طور پر کی۔ اس اجلاس کا بنیادی مقصد میثاقِ جمہوریت پر اپوزیشن کی دیگر جماعتوں کے دستخط حاصل کرنا ہے۔ اس اجلاس کا ایک اور مقصد ان جماعتوں کو اے آر ڈی کے پلیٹ فارم پر لانا ہے جو کچھ معاملات پر بحالئی جمہوریت کے اتحاد سے اتفاق نہیں کرتے لیکن صدر مشرف کے صدر کے عہدے سے ہٹائے جانے کے حق میں ہیں۔
دونوں رہنماؤں نے اے آر ڈی کے پاکستان سے اجلاس میں شرکت کے لیئے خصوصی طور پر آئے ہوئے لیڈروں سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں جمہوریت کی بحالی اور منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کے انعقاد کے لیئے مختلف آپشنز بیان کیئے۔ بےنظیر بھٹو اور نواز شریف نے کھانے کے وقفے کے دوران صحافیوں کے سوالوں کے جواب بھی دیئے۔ اس اجلاس میں بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے علاوہ مخدوم امین فہیم، شہباز شریف، پرویز رشیدڑ ظفر اقبال جھگڑا، اسحاق ڈار، رضا ربانی، اور اتحاد کی دیگر جماعتوں کے سربراہ بھی شریک تھے۔ اپنی تقریر اور اخباری نمائندوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے نواز شریف نے صدر مشرف کو ہٹانے اور ملک میں جمہوریت بحال کرنے کے لیئے گرینڈ نیشنل الائنس کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’غداروں سے کسی قسم کی کوئی ڈیل نہیں ہو سکتی۔‘ انہوں نے غداروں سے سمجھوتہ کرنا بھی غداری ہے۔
پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ پاکستان اور برما دو ایسے ممالک ہیں جہاں فوج کی حکمرانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کے پاس لوگوں کو معاشی اور سیاسی حقوق دینے کے لیئے ایک پروگرام ہے۔ انہوں نے خاص طور پر بلوچستان میں پائی جانے والی کشیدگی اور وزیرستان میں فوجی آپریشن کا ذکر کرتے ہوئے اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ بے نظیر بھٹو نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پیپلز پارٹی اور فوجی حکومت کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہے اور نہ کوئی ڈیل ہو رہی ہے۔ گزشتہ روز پیپلز پارٹی کے چیف کوآرڈینیٹر ملک حاکمین اور آے آڑ ڈی کی ایک رکن جماعت اسلامک ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین منیر حسین گیلانی نے بی بی بی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا میثاقِ جمہوریت، ملک کو سیاسی بحران سے باہر نکالنے کے لیئے طے ہوا ہے۔ منیر گیلانی کا کہنا تھا کہ میثاقِ جمہوریت پر حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ق اور صدر جنرل مشرف کو بھی دستخط کرنے چاہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے واضح کیا کہ میثاق جمہوریت فوج کے خلاف نہیں ہے بلکہ یہ سیاسی نظام میں فوج کی مداخلت سے پیدا ہونے والے تعطل کا تدارک کرنے کی سعی ہے۔
انہوں نے کہا کہ صدر مشرف نے اقتدار میں آتے ہی یہ بات کہی تھی کہ نیشنل سکیورٹی کونسل کی تشکیل سے سیاسی عمل میں فوج کی مداخلت سے پیدا ہونے والے تعطل کو روکنے میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اصولی طور پر مسلم لیگ ق اور صدر مشرف بھی فوج کی مداخلت کے حق میں نہیں ہے اور اسی لیئے انہیں بھی میثاق جمہوریت پر دستخط کرنے چاہیں۔ |
اسی بارے میں اے آر ڈی اور ایم ایم اے میں تعاون 12 June, 2006 | پاکستان مشرف کا انتخاب، انتخابات سے پہلے13 June, 2006 | پاکستان ’مشرف وردی میں منتخب ہونگے‘13 June, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||