اے آر ڈی اور ایم ایم اے میں تعاون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چھ دینی جماعتوں کے اتحاد مجلس عمل نے سینٹ میں قائد حزب اختلاف کا عہدے پر اپوزیشن کے ایک دوسرے اتحاد اے آر ڈی کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ توقع کی جا رہی ہے کہ مجلس عمل کے صدر قاضی حسین سوموار کو اس فیصلے کا باضابطہ اعلان کردیں گے۔ مجلس عمل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل حافظ حسین احمد نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مجلس عمل نے بطور قائد حزب اختلاف رضا ربانی کا نام پر اتفاق کر لیا ہے۔ رضا ربانی کا تعلق پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین سے ہے اور وہ اس سے پہلے بھی سینٹ میں قائد حزب اختلاف ہی رہ چکے ہیں۔ حافظ حسین احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ حالیہ انتخابات کے نتیجے میں مجلس عمل کے پاس بائیس نشستیں ہیں اور پیپلز پارٹی مسلم لیگ نواز اور اپوزیشن کی دوسری تمام پارٹیوں کی تمام نشستیں ملا کر بھی ان کی مجموعی تعداد اٹھارہ انیس کے قریب بنتی ہے لیکن اس کے باوجود مجلس عمل نے اپوزیشن میں ایک قریبی تعلق پیدا کرنے کے لیے اے آر ڈی کی حمایت کا فیصلہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اپوزیشن کو سینٹ میں دس قائمہ کمیٹیوں کی سربراہی کی پیشکش بھی کی گئی ہے مجلس عمل کے قائدین کا کہنا ہے کہ وہ اے آر ڈی کے ساتھ مل کر اس پر بھی متفقہ طور پر اپنے نمائندے نامزد کریں گے۔ پیر کو اسلام آباد میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت اور مجلس عمل کے مرکزی قائدین کا اہم اجلاس ہورہا ہے جس میں مجلس عمل کی طرف سے قاضی حسین احمد، مولانا فضل الرحمان، لیاقت بلوچ اور حافظ حسین احمد شرکت کریں گے جبکہ اے آر ڈی کی ٹیم کی سربراہی مخدوم امین فہیم کریں گے۔
مجلس عمل کے قائد حافظ حسین احمد نے اس اجلاس میں اہم معاملات پر اتفاق رائے کا امکان ظاہر کیا ہے اور کہا ہے کہ میثاق جمہوریت پر بات ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت پر مجلس عمل کو چند تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجلس عمل کا مطالبہ ہے کہ میثاق جمہوریت میں یہ یقین دہانی دی جائے کہ اگر اپوزیشن میں سے کوئی بھی پارٹی اقتدار میں آئی تو توہین رسالت کے قانون اور وفاقی شرعی عدالت کے قوانین کو ختم نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان معاملات پر مغرب کا دباؤ ہے اور مجلس عمل نہیں چاہتی کہ ان قوانین کو چھیڑا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ( ن) کے سربراہ نواز شریف نے تو انہیں یقین دہانی کرائی ہے لیکن ابھی پیپلز پارٹی کی جانب سے بات چیت جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجلس عمل اس کے علاوہ صوبائی خود مختاری جیسے معاملات پر بھی وضاحت چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان چند نکات کی وضاحت کے بعد مجلس عمل بھی میثاق جمہوریت پر دستخط کر سکتی ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس سربراہی اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ اگر مشرف کو ہٹائے بغیر اور ایک غیر جانبدار قومی حکومت بنائے بغیر الیکشن کروانے کی کوشش کی گئی تو اپوزیشن کا لائحہ عمل کیا ہوگا۔ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ مجلس عمل نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ اگر صدر مشرف کی موجودگی میں ہی انتخابات ہوئے تو وہ انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔ اس سے قبل مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد کے حوالے سے یہ بیان ذرائع ابلاغ میں آچکا ہے کہ وہ اس صورت میں وہ ذاتی طور پر انتخابات کے بائیکاٹ اور حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک چلانے کے حق میں ہیں تاہم انہوں نے وضاحت کی تھی کہ یہ جماعت اسلامی کا فیصلہ نہیں ہے بلکہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔ | اسی بارے میں متحدہ مجلس عمل تحریک چلائے گی01 May, 2006 | پاکستان ’توڑ پھوڑ سے نقصان اپنا ہی ہوا‘20 February, 2006 | پاکستان عبوری حکومت، انتخابات کا مطالبہ07 March, 2006 | پاکستان اے آر ڈی میں ایم ایم اے اور دیگر30 April, 2006 | پاکستان ’مشرف کے تحت الیکشن قبول نہیں‘15 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||