اے آر ڈی میں ایم ایم اے اور دیگر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں اپوزیشن کے اتحاد اے آر ڈی نے اعلان کیا ہے کہ منصفانہ قومی انتخابات کے انعقاد کے لیے جمہوری جدوجہد میں اپوزیشن کے دوسرے بڑے اتحاد متحدہ مجلس عمل اور ان دیگر جماعتوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے جو اے آر ڈی کے پروگرام سے اتفاق کریں۔ اس بات کا اعلان لاہور میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے ایک خصوصی اجلاس کے بعد کیا گیا۔ مخدوم امین فہیم کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اتحادمیں شامل جماعتیں پیر سے رابطہ عوام مہم شروع کریں گی۔ اجلاس کے بعد اے آر ڈی کے سیکرٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ ’اے آر ڈی میں شامل جماعتوں کے علاوہ دیگر سیاسی پارٹیوں اور جہموری قوتوں کو ساتھ ملا کر ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کے لیے جدوجہد کی جائے گی‘۔ متحدہ مجلس عمل کے صدرقاضی حسین احمد پہلے ہی یہ کہہ چکے ہیں کہ جمہوریت کی بحالی کے لیے اے آر ڈی اور مجلس عمل کے درمیان تین نکات پر اتفاق پایا جاتا ہے جن میں انتخابات سے پہلے صدر مشرف کے اقتدار سے ہٹائے جانے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔ اے آر ڈی کے رہنما نے کہاکہ’جو جماعتیں اے آر ڈی کے نکات پر اتفاق کرتی ہیں وہ اس کے ساتھ ملکر جدوجہد کریں‘۔ اقبال ظفر جھگڑا نے کہا کہ ’اجلاس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ آزاد اور منصفانہ انتخابات کے لیے قومی اتفاق رائے کی ایک حکومت قائم کی جائے جو آزاد اور خود مختار الیکشن کمشن قائم کرکے انتخابات کا انعقاد کرائے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ جنرل مشرف کی موجودگی میں منصفانہ انتخابات ناممکن ہونگے‘۔ ان کا کہنا تھاکہ ’مقبول عوامی قیادت یعنی بےنظیر اور نواز شریف کو وطن بلائے بغیر انتخابات منصفانہ نہیں ہوسکتے کیونکہ قیادت کے بغیر عوام کو یہ معلوم نہیں ہوپاتا کہ انہیں کس سمت جانا ہے‘۔ ایک سوال کے جواب میں اے آر ڈی کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ اے آر ڈی کی جماعتوں میں آپس میں، اور پھر دوسری جمہوری سیاسی قوتوں کے ساتھ انتخابی ایڈجسمنٹ کی بات بعد میں کی جائے گی پہلا مرحلہ ملک کو موجود بحران سے نکالنے کا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ جب اے آر ڈی اس میں کامیاب ہوجائے گی اور جدوجہد کے نتیجہ میں انتخابات کے انعقاد کا اعلان ہوجائے گا تو اس کے بعد انتخابی ایڈجسٹمنٹ کی بات آئے گی‘۔ انہوں نے کہا کہ کل یعنی پیر سے اے آر ڈی میں شامل جماعیتں رابطہ عوام مہم شروع کر رہی ہیں اور اتحاد میں شامل ہر پارٹی اپنے اپنے پلیٹ فارم سے کارنر میٹنگز کا آغاز کرے گی اور یہ معاملہ ضلعی اور صوبائی سطح تک لے جایا جائے گا۔ اس کے علاوہ وکلاء کے بار سے پریس کلبوں سے خطابات کیے جائیں گے اور لیبر تنظیموں کے ورکرز کنونشن منعقد کیے جائیں گے اور اس طرح ملک میں جمہوریت کے لیے ایک فضا بنائی جائے گی۔ یکم مئی کو بھی مزدوروں کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ اے آر ڈی کے اقبال ظفر جھگڑا نے کہا نواز شریف اور بے نظیر کے درمیان چودہ مئی کو لندن میں ہی ایک دوسری ملاقات ہوگی جس کے بعد دو جولائی کو لندن میں ہی اے آر ڈی جماعتوں کے سربراہ اجلاس میں ایک مشترکہ ضابطہ اخلاق کی منظوری دی جائے گی۔ انہوں نے سیاسی اسیروں کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا اور ان کی رہائی کے لیے ایک کمیٹی بنا دی۔ اس کے علاوہ مہنگائی اور امن وامان کے معاملے میں لائحہ عمل طے کرنے اور وکلاء اور اقلیتوں سے رابطوں کے لیے بھی الگ الگ کمیٹیاں بنائی گئیں۔ انہوں نے بتایاکہ اجلاس میں بلوچستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ مطالبہ کیا گیا کہ بلوچستان میں عسکری آپریشن فوری طور پر بند کیا جائے۔ اے آرڈی کے سربراہ امین فہیم نے اخبار نویسوں سے مختصر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر آئندہ آنے والے انتخابات میں گھپلے کیے گئے تو اس کے نتائج ٹھیک نہیں ہونگے‘۔ انہوں نے مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی کے درمیان انتخابی سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’یہ بات ابھی قبل از وقت ہے اور ابھی اس بارے میں سوچا نہیں گیا‘۔ | اسی بارے میں فوج نے تاخیر کی: اے آر ڈی 31 October, 2005 | پاکستان مشرف کے خلاف اتحاد میں پھوٹ12 January, 2005 | پاکستان مشرف کے خلاف اے آر ڈی اجلاس 10 October, 2004 | پاکستان اے آر ڈی پھر اختلافات کا شکار22 August, 2004 | پاکستان کوئٹہ میں اے آر ڈی کی احتجاجی ریلی20 February, 2004 | پاکستان اے آر ڈی ہڑتال میں شامل نہیں ہوگی05 February, 2004 | پاکستان استقبال کی تیاریاں جاری 07 May, 2004 | پاکستان مقدمۂ بغاوت: جاوید ہاشمی پہلے ملزم؟01 November, 2003 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||