BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 January, 2005, 12:17 GMT 17:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کے خلاف اتحاد میں پھوٹ

امین فہیم
یہ اجلاس لاہور میں مخدوم امین فہیم کی صدارت میں ہوا
بدھ کو لاہور میں اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) کے سربراہی اجلاس میں فی الحال متحدہ مجلس عمل سے مل کر مشترکہ جدوجہد نہ کرنے اور اس سے مزید مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

تاہم اے آر ڈی نے لاہور کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے ایک سو ستائیس سے مسلم لیگ (نواز گروپ) کے نصیر بھٹہ کو اپنا متفقہ امیدوار نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے پہلے ضمنی انتخابات میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نواز) کے درمیان اختلافات ہوتے آئے ہیں۔

اے آر ڈی کا سربراہی اجلاس لاہور میں پیپلز پارٹی پیٹریاٹ کے چیئرمین مخدوم امین فہیم کی صدارت میں ہوا جس کے بعد پریس بریفنگ دیتے ہوئے مسلم لیگ(نواز) کے سید ظفر علی شاہ نے کہا کہ اے آر ڈی میں شامل کچھ رکن جماعتوں کے متحدہ مجلس عمل سے مل کر جدوجہد کرنے کے بارے میں تحفظات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی ایم ایم اے سے باتیں طے ہونا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ تحفظات سب سے بڑھ کر سولہویں اور سترہویں آئینی ترامیم سے متعلق ہیں کیونکہ مجلس عمل نے سترہویں ترمیم منظور کرانے کے لیے پارلیمینٹ میں ووٹ دیے جبکہ اے آر ڈی نے اسے مسترد کیا اور اس کا بائیکاٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سترہویں ترمیم ایم ایم اے کی حمایت سے وجود میں آئی۔

ظفر علی شاہ نے کہا کہ ان تحفظات کو دور کرنے کے لیے اے آر ڈی کی کمیٹی جو مخدوم امین فہیم اور راجہ ظفرالحق پر مشتمل ہے مجلس عمل سے مزید بات چیت کرے گی کہ اگر دونوں اتحادوں کا اتحاد ہوتا ہے تو اس کے اہداف اور طریق کار کیا ہوں گے۔

ظفر علی شاہ کا کہنا تھا کہ مجلس عمل نے عندیہ دیا ہے کہ وہ پرویزمشرف کی وردی کے خلاف اور آئین کی سترہویں ترمیم کے بغیر بحالی کے لیے کام کرنے کو تیار ہے۔ تاہم اب بھی ان کے بعض رہنماؤں کے ایسے بیانات آجاتے ہیں کہ اگ صدر مشرف وردی اتاردیں تو وہ انہیں صدر تسلیم کرلیں گے جو اے آر ڈی کے موقف کی خلاف ورزی ہے۔

تاہم اے آر ڈی کے لیڈر نے کہا کہ دونوں اتحادوں کے درمیان پارلیمان کے اندر ورکنگ ریلیشن شپ ہے۔

انہوں نے کہا ’جب تک ہمارے تحفظات دور نہیں ہوتے ہم اپنے اپنے راستوں پر چلیں گے۔ تاہم ہم مجلس عمل کی جمہوریت ، آئین اور پارلیمان کی بالادستی کے لیے کوششوں کو سراہتے ہیں‘۔

اے آر ڈی نے حکومت پر ملک میں بدامنی ، مہنگائی اور بے روزگاری پیدا کرنے کے الزامات عائد کرتے ہوئے تنقید بھی کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد