BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 24 December, 2004, 08:53 GMT 13:53 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حکومت، اپوزیشن رابطوں کا سال

News image
حکومت کی پیپلز پارٹی کے ساتھ خاصی مثبت پیش رفت ہوئی ہے
سال دو ہزار چار کا آغاز تو حکومت اور حزب مخالف کے اتحادوں کے درمیان کشیدگی سے ہی ہوا لیکن سال کے اختتام پر جہاں حزب مخالف نے صدر جنرل پرویز مشرف کو ہٹانے کے لیے تحریک شروع کی وہاں حکومت اور حزب مخالف کے درمیان مفاہمت کی باتیں ہوئیں اور رابطوں کا بھی آغاز ہوا۔

دسمبر کے شروع میں جب صدر جنرل پرویز مشرف امریکہ اور یورپ کے دورے پر پہنچے تو پہلی بار پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز نے نہ کوئی احتجاجی جلوس نکالا اور نہ ہی مظاہرہ کیا۔ ماضی میں جہاں بھی صدر مشرف پہنچتے تھے ان دونوں جماعتوں کے کارکن احتجاج کرتے نظر آتے تھے۔

ایسی اچانک بدلی ہوئی صورتحال پر حکومت نے دونوں جماعتوں کے اس اقدام کا خیرمقدم کیا لیکن دونوں جماعتوں نےاس معاملے میں کوئی وضاحت نہیں کی۔

سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سے صدر جنرل پرویز مشرف نے پانچ برس میں پہلی بار فون پر بات کی اور ان کے والد میاں شریف کی وفات پر تعزیت کی۔

 پیپلز پارٹی سےمعاملات بہتر ہورہے ہیں
صدر مشرف

صدر جنرل پرویز مشرف اور حزب مخالف کی دونوں جماعتوں کے درمیان اعتماد سازی کے اقدامات یعنی ’سی بی ایمز‘ کے متعلق ٹھوس معلومات تو نہیں البتہ کچھ مبصرین خیال ہے کہ اس میں چودھری شجاعت حسین کا کمال ہوسکتا ہے جو علاج کے لیے امریکہ اور یورپ گئے تھے۔

خبروں کے مطابق چودھری شجاعت حسین نے نواز شریف سے فون پر بات کرنا چاہی لیکن انہیں جواب ملا کہ ’وہ گھر پر نہیں ہیں‘۔ شجاعت کے شائع شدہ بیان کے مطابق انہیں نواز شریف نے’ کال بیک‘ بھی نہیں کیا البتہ شہباز شریف اور چودھری شجاعت میں رابطوں کی خبریں آتی رہی ہیں۔

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ حکومت کی مسلم لیگ نواز کی نسبت پیپلز پارٹی کے ساتھ خاصی مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ ایسے شکوک وشبہات اور قیاس آرائیوں کو صدر جنرل پرویز مشرف کی اس بات سے مزید تقویت ملی جب انہوں نے سندھی زبان کے ٹی وی چینل’ کے ٹی این‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’پیپلز پارٹی سے ان کے معاملات بہتر ہورہے ہیں‘۔

حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان پیش رفت کو اگر ماضی قریب میں ہونے والے کچھ واقعات کے تناطر میں دیکھا جائے تو صدر مشرف اور بینظیر بھٹو میں براہِ راست نہ سہی لیکن دونوں کے ’فرنٹ مین‘ کے ذریعے رابطوں میں کسی ’مفاہمت‘ کا گمان سا ہوتا ہے۔

سال کے آخر میں حزب مخالف کے اتحاد’ اے آر ڈی‘ نے صدر مشرف کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا اور اس اعلان کے تیسرے دن پیپلز پارٹی کے آٹھ برس سے مسلسل قید رہنما اور بینظیر بھٹو کے شوہر آصف علی زرداری کو عدالتِ اعظمیٰ کی طرف سے ضمانت منظور ہونے کے بعد رہائی مل گئی۔

News image
آصف علی زرداری کی رہائی’ محض اتفاق‘ نہیں

تحریک کے اعلان اور آصف علی زرداری کی رہائی کو ابھی تک تو’ محض اتفاق‘ ہی قرار دیا جارہا تھا لیکن اس کے بعد جو حالات اور واقعات رونما ہوئے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ’دال میں کچھ کالا ضرور ہے‘۔

اتحاد برائے بحالی جمہوریت’اے آر ڈی‘ کی اعلان کردہ تحریک کے سلسلے میں پہلا جلسہ پشاور میں ہونا تھا لیکن عین وقت پر پیپلز پارٹی نے وہ جلسہ مالاکنڈ میں منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔ جس کی وجہ اس علاقے میں قومی اسمبلی کی نشست کے لیے ضمنی انتخاب کا انعقاد بتایا گیا۔

دوسرا جلسہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے شہر میرپور کے بجائے عین وقت پر مظفرآباد میں منعقد کیا گیا جبکہ تحریک کا تیسرا جلسہ جو بیس دسمبر کو سیالکوٹ میں ہونا تھا وہ آصف علی زراداری کے استقبال کی وجہ سے منسوخ کردیا گیا۔

اے آر ڈی
یہ دیکھنا ہے کہ مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کا ساتھ کب تک چلتا ہے

پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیاں’مفاہمت‘ کی تفصیلات تاحال سامنے تو نہیں آئیں لیکن رابطوں کی خبروں سے ’اےآر ڈی‘ کی صدر مشرف کے خلاف تحریک کمزور ہونے کا تاثر ضرور پیدا ہوا ہے۔اطلاعات کے مطابق صدر جنرل پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کی بالمشافہ ملاقات کی کوشش بھی ہورہی ہے۔

آئندہ دنوں میں کیا ہوتا ہے اس کے بارے میں کچھ کہنا تو فی الوقت قبل از وقت ہوگا۔ لیکن حکومت حزب مخالف کے دونوں بڑے اتحادوں سے رابطہ قائم رکھ کر صدر کے خلاف تحریک میں انہیں اب تک متحد ہونے سے روکنے میں کامیاب رہی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد