BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 December, 2004, 14:26 GMT 19:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
حزب اختلاف کا شدید رد عمل
سترہویں ترمیم کو حجت تمام کرنے کے لیے منظور کیا گیا تھا: قاضی
سترہویں ترمیم کو حجت تمام کرنے کے لیے منظور کیا گیا تھا: قاضی
حزب اختلاف کے رہنماؤں نے صدر جنرل مشرف کے وردی نہ اترانے کے بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے اور اس کو آئین اور جمہوری نظام کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

متحدہ مجلس عمل کے رہنما قاضی حسین احمد اور پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹ میں قائد حزب اختلاف رضا ربانی نے کہا کہ آئین میں واضح طور پر لکھا ہے کہ کوئی فوجی سیاست میں حصہ نہیں لے گا اور صدر کا چیف آف آرمی اسٹاف کا عہدہ اپنے پاس رکھنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا کہ صدر کے دونوں عہدے اپنے پاس رکھنے کے بارے میں سینیٹ، قومی اسمبلی نے قانون پاس کیا اور پنجاب اور سندھ کی صوبائی اسمبلی نے اس سلسلے میں قرار دادیں بھی پاس کی تھیں۔

بی بی سی اردو سروس کو انٹرویو دیتے ہوئےقاضی حسین احمد نے سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ صدر مشرف نے ’وعدہ خلافی کی ہے اور وہ ان کو اس کا مزا چکھائیں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ صدر مشرف آئینی طور پر اکتیس دسمبر کے بعد ملک کے صدر نہیں رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ آئین کے خلاف فوج کے بل بوتے پر زبردستی کے صدر ہوں گے جن کی ہم مزاحمت کریں گے۔

صدر کے اس دعوٰی پر کہ جو لوگ وردی کی مخالفت کر رہے ہیں وہ در اصل جمہوریت کی مخالفت کر رہے ہیں قاضی حسین احمد نے کہا کہ وردی اور جمہوریت دو متضاد باتیں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر فوجی پاکستان کے آئین کے تحت یہ حلف اٹھاتا ہے کہ وہ سیاست میں حصہ نہیں لے گا۔ انہوں نے کہا اس حلف کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف کس طرح صدر کے عہدے پر فائز رہ سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما رضا ربانی نے کہا کہ صدر کے اعلان نے اے آر ڈی اور پیپلز پارٹی کے سترہویں ترمیم کی مخالفت کرنے کے فیصلے کو درست ثابت کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ با وردی صدر کو ایک لمحے کے لیے بھی ماننے کو تیار نہیں ہیں۔

صدر کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس توجیح کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کس طرح باوردی صدر جمہوریت کے لیے ضروری ہے۔

مغربی دنیا میں صدر مشرف کو ملنے والی پذیرائی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ صدر مشرف مغربی کے سکیورٹی ایجنڈے کو من و عن چلا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر گیارہ سن دوہزار ایک سے پہلے صورت حال بالکل مختلف تھی۔

شیخ رشید نے کہا کہ صوبائی اسمبلی نے کسی زبردستی کے تحت مشرف کی وردی کے بارے میں قراردادیں منظور نہیں کی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ اس اسمبلیوں کے ارکان کوئی ’ چودہ سالہ دوشیزائیں نہیں جن سے زبردستی دستخط کرا لیے جائیں۔‘ انہوں نے کہا کہ یہ منتخب رکن ہیں اور ان سے زبردستی نہیں کی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت قائم ہے۔ حزب اختلاف جسلے جلوس نکال رہے ہیں اور ذرائع ابلاغ آزاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ لوگ ایوب کی وردی میں بھی رہے اور ضیا کی وردی میں بھی رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ملک کے اپنے معروضی حلات ہوتے ہیں اور یہاں ایک ادارے کا جہوریت کے ساتھ رہنا ضروری ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد