اے آر ڈی ہڑتال میں شامل نہیں ہوگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور ایٹمی سائنسدانوں کے معاملہ پر متحدہ مجلس عمل کی طرف سے چھ فروری کو ملک گیر ہڑتال کرنے کے مطالبہ پر اتحاد برائے بحالی جمہوریت (اے آر ڈی) نے شامل نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ جمعرات کو لاہور میں اے آر ڈی کے چیئرمین امین فہیم نے اتحاد کے اجلاس کے بعد صحافیوں کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ چھ فروری کو ہڑتال ’سرکاری‘ ہڑتال ہے۔ انھوں نے متحدہ مجلس عمل کو سرکاری پارٹی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے جو کرنا ہے وہ خود کرے۔ تاہم اے آر ڈی کے سربراہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلائے جس میں سب لوگ اپنا موقف آزادانہ طور پر بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس اجلاس میں ڈاکٹر عبدالقدیر اور ایٹمی پروگرام سے وابستہ دیگر عناصر بھی سامنے آئیں۔ امین فہیم کا کہنا تھا کہ آج پاکستان میں انیس سو ستر جیسا بحران ہے جس پر پوری قوم کو تشویش ہے اس لیے قوم کو اعتماد میں لیا جائے۔ انھوں نے گزشتہ روز کے واقعات پر اپنے شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کی صدر پرویز مشرف سے ملاقات آرمی ہیڈکوارٹر میں ہوئی اور وہیں ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا۔ فوج پر انگلی اٹھاتے ہوئے انھوں نے کہا اس بات سے سب کو آگاہ کیا جائے کہ خان ریسرچ لیبارٹری کے تحفظ کی ذمہ داری ڈاکٹر خان کی تھی یا کسی اور ادارے کی؟ اے آر ڈی کے سربراہ نے کہا کہ ہمیشہ یہی کہا جاتا رہا ہے کہ ملکی ایٹمی پروگرام محفوظ ہاتھوں میں ہے لیکن اگر ایسا ہے تو وہ ہاتھ کون سے ہیں اور کس کی لاپرواہی اور کوتاہی سے یہ صورت حال پیدا ہوئی ہے؟ مسلم لیگ(ن) کی مرکزی رہنما تہمینہ دولتانہ نے کہا کہ یہ صرف ڈاکٹر عبدالقدیر کی توہین نہیں بلکہ پوری قوم کی تضحیک کی گئی ہے اور خود کو بچانے کے لیے سائنسدانوں کو قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم اس پر سختی سے احتجاج کریں گے۔ اے آر ڈی نے چار قراردادیں منظور کیں۔ ایک میں ایٹمی سائنسدانوں کی تفتیش کو ان کے ساتھ ذلت آمیز سلوک قرار دے کر اس کی مذمت کی گئی ہے۔ دوسری قرار داد میں مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرارداوں کو چھوڑ کر تنازعہ کے حل کی مخالفت کی گئی ہے۔ اے آر ڈی کے سربراہ نے کہا کہ کشمیر ہماری شہ رگ ہے اور اس کی تقسیم ہمارے مستقبل کے لیے سوالیہ نشان ہوگا۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس معاملہ پر بے نظیر اور نوازشریف کو بھی اعتماد میں لیا جائے۔ ایک اور قرار داد میں قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائی کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ اے آر ڈی نے آصف زرداری اور جاوید ہاشمی سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اے آر ڈی نے تیرہ سے بیس فروری تک حکومت کے خلاف احتجاجی کیمپ لگانے، سات مارچ کو ساہیوال میں جلسہ عام کرنے اور رابطہ عوام مہم تیز کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||