مشرف کے خلاف اے آر ڈی اجلاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف اور سترہویں آئینی ترمیم کے خلاف تحریک کے لیے اتحاد برائے بحالی جمہوریت کی آل پارٹیز کانفرنس پیر کو لاہور پریس کلب کے ہال میں شروع ہورہی ہے لیکن اس میں حزب اختلاف کے ایک بڑے دھڑے متحدہ مجلس عمل کو شمولیت کی دعوت نہیں دی گئی۔ جمعہ کو قائد حزب اختلاف اور ایم ایم اے کے سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمان نے پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو سے ٹیلی فون پر بات کی تھی اور پھر اس بات چیت کے نتیجہ میں مولانا فضل الرحمان اور قاضی حسین احمد نے اسلام آباد میں اے آر ڈی کے سربراہ مخدوم امین فہیم سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات بھی کی، جس کے بعد یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ ایم ایم اے کو بھی آل پارٹیز کانفرنس میں شمولیت کی دعوت دیدی جائے گی۔ اتوار کو لاہور میں ہونے والے سربراہی اجلاس میں بھی یہی ایک موضوع سب سے زیادہ زیر بحث رہا لیکن اس کے باوجود ایم ایم اے کو بلانے کا فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔ سربراہی اجلاس کے بعد اے آر ڈی کے سربراہ مخدوم امین فہیم نےایک بریفنگ میں بتایا کہ مولانا فضل الرحمان نے بے نظیر بھٹو سے اور اس سے پہلے قاضی حسین احمد نے جدہ میں نواز شریف سے بالمشافہ ملاقات میں مشترکہ جدو جہد کی خواہش ظاہر کی تھی جس کے بعد نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کی ہدایات کی روشنی میں اے آر ڈی کے اجلاس میں ایم ایم اے کو اے پی سی میں بلانے کی دعوت پر بحث کی گئی ہے لیکن انہیں دعوت دینے کا فیصلہ نہیں ہوسکا۔ مسلم لیگ نواز کے مرکزی رہنما سر انجام خان نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ ’ اگر ایم ایم اے سترہویں ترمیم کے مکمل خاتمے پر رضا مند ہو تو اسے جدو جہد میں شامل کیا جا سکتا ہے۔‘ اے آر ڈی آئین میں کی گئی سترہویں ترمیم کا مکمل خاتمہ چاہتی ہے اے آر ڈی کے رہنماؤں کا کہنا کہ وہ پرویز مشرف کو نہ تو صدر مانتے ہیں اور نہ ہی چیف آف آرمی سٹاف۔اور انہیں ان دونوں عہدوں سے فارغ کرنے کے لیے تحریک چلانا چاہتے ہیں۔ جبکہ ایم ایم اے صرف صدر کے چیف آف آرمی سٹاف کی وردی میں رہنے کے خلاف ہے اور اس نے اس ایک مطالبے کے لیے تحریک چلانے کا الٹی میٹم دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||