BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 15 May, 2006, 16:49 GMT 21:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف کے تحت الیکشن قبول نہیں‘

گزشتہ روز نوازشریف نے کہا تھا کہ مشرف حکومت کے زیرِ نگرانی انتخابات ہوئے تو ان میں دھاندلی کی جائے گی
پاکستان میں قوم پرست جماعتوں کے اتحاد پونم نے موجودہ حکومت کی زیر نگرانی اگلے برس کے اعلان کردہ انتخابات قبول کرنے سےانکار کر دیا ہے۔

اس سےقبل گزشتہ وز لندن میں بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے بھی میثاق جمھوریت یا چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخط کرتے ہوئے ایسا ہی اعلان کیا تھا۔

سندھ کے قوم پرست رہنما جی ایم سید کی رہائش گاہ حیدر منزل پر ہونے والے اس اجلاس میں عطااللہ مینگل اور محمود خان اچکزئی کے علاوہ ممتاز علی بھٹو، ڈاکٹر حئی بلوچ، ڈاکٹر قادر مگسی، جلال محمود شاھ، عبدالمجید کانجو، حمید اصغر شاہین اور دیگر رہنما بھی شریک ہوئے۔

قوم پرست جماعتوں کے اتحاد نے مطالبہ کیا ہے کہ عبوری آئینی حکم کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ججوں پر مشتمل نگران حکومت بنائی جائے جو انتخابات منعقد کروائے۔

کراچی میں پیر کے روز پونم کے سربراہی اجلاس کے بعد اتحاد کے کنوینر عطااللہ مینگل نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اٹھانے والے کسی جج کو بطور الیکشن کمشنر قبول نہیں کیا جائیگا۔

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان طے پانے والے چارٹر آف ڈیموکریسی پر پونم کے رد عمل کے بارے میں سردار عطااللہ نے کہا: ’اگر انہوں نے ہم سے رابطہ کیا تو ہم یہ ضمانت مانگیں گے کہ ملکی سیاست میں فوج اور خفیہ اداروں کی مداخلت کو یکسر ختم کیا جائیگا۔‘

پونم کے سربراہ نے کہا کہ ہر کوئی جمہوریت کی اپنے انداز میں تعریف بیان کرتا ہے مگر’ ہم کہتے ہیں کہ جس جمہوریت میں قوموں کو برابری کے حقوق نہ ملیں ہمارے لئے وہ جمہوریت ہی نہیں ہے۔‘

عطااللہ مینگل نے کہا کہ صوبہ سندھ ، بلوچستان اور سرحد میں چھاؤنیوں کی تعمیر کی جارہی ہے تا کہ عوام کو سیاسی جدوجہد سے بزور طاقت باز رکھا جاسکے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیرستان میں ملا، ملٹری، عرب اور دیگر غیر ملکی عناصر کے گھٹ جوڑ سے مقامی عمائدین اور معصوم لوگوں اور سیاسی کارکنوں کو قتل کیا جارہا ہے۔ ’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ وزیرستان سے فوج اور غیر ملکی نکل جائیں۔‘

انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور دیگر علاقوں میں جدوجہد مزاحمتی تحریکوں میں تبدیل ہوچکی ہے اور اگر حکومت کیا یہی رویہ رہا تو یہ مزاحمتی تحریکیں بلوچستان اور وزیرستان تک محدود نہیں رہینگی۔

اس موقعے پر پختون خواہ ملی عوامی پارٹی کے رہنما محمود خان اچکزئی نے بات کہا: ’ہم نے فوج کو ویلکم نہیں کیا۔ لیکن اب ملا بھی کہتا ہے کہ غلط ہے اور بی بی اور نواز شریف بھی اسے غلط سمجھتے ہیں ۔‘

اسی بارے میں
کراچی میں قوم پرستوں کی ریلی
22 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد