جے یو آئی اور قوم پرستوں کی جیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ بلوچستان میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے اب تک کے نتائج کے مطابق شمالی علاقوں میں جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے حمایتی امیدواروں نے زیادہ نشستین حاصل کی ہیں جبکہ جنوبی علاقوں میں بلوچ قوم پرست جماعتوں سے وابستہ امیدوار سر فہرست ہیں۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں ملے جلے نتائج سامنے آئے ہیں ۔ کوئی ایک سیاسی جماعت کے حمایتی امیدوار واضح برتری حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے البتہ آزاد امیدواروں کی ایک بڑی تعداد کوئٹہ میں کامیاب ہوئی ہے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ وفاقی حکومت کو ضلعی حکومت بنانے میں آزاد امیدوار زیادہ مدد کر سکتے ہیں۔ ضلع ژوب میں اب تک تیرہ یونین کونسل کے نتائج سامنے آئے ہیں جن میں جمعیت علماء اسلام فضل الرحمان گروپ کے حمایتی امیدوار برتری حاصل کیے ہویے ہیں۔ جمعیت کے امیدوار آٹھ یونین کونسل میں کامیاب ہوئے ہیں جبکہ حکمران مسلم لیگ کے حمایتی امیدوار دو’ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور عوامی نیشنل پارٹی نے ایک ایک یونین کونسل جیتی ہے۔ جمعیت کے ایک مقامی لیڈر عبدالرحمان نے کہا ہے کہ الجماعت پینل نے اب تک انیس نشستیں جیتی ہیں جبکہ پانچ یونین کونسل کے نتائج ابھی باقی ہیں۔ اسی طرح لورالائی میں بھی مذہبی جماعتوں کی پوزیشن مستحکم بتائی گئی ہے۔ جنوبی بلوچستان میں بلوچ قوم پرست جماعت نیشنل پارٹی برتری حاصل کیے ہوئے ہیں۔ قلات میں چودہ یونین کونسل کے نتائج کے مظابق نیشنل پارٹی نے اب تک آٹھ یونین کونسل پر کامیابی حاصل کی ہے۔ یاد رہے کہ قلات سوراب اور خصدارکی سطح پر نیشنل پارٹی نے جمعیت علماء اسلام سے اتحاد قائم کر رکھا ہے۔ قلات میں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ نے تین اور نیشنل پارٹی کے ایک باغی گروپ نے دو یونین کونسل میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس طرح مکران ڈویژن کے شہر کیچ میں نیشنل پارٹی اور بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کے امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ وفاقی وزیر زبیدہ جلال نے یہاں قوم پرست جماعتوں کے امیدواروں کی حمایت کی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||