BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 16 May, 2005, 00:44 GMT 05:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئی قوم پرست جماعت کی تجویز

نواب اکبر بگٹی اور شیری رحمٰن
نواب اکبر بگٹی اور شیری رحمٰن صحافیوں سے بات چیت کے دوران
جمہوری وطن پارٹی کے قائد نواب اکبر بگٹی نے بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین اور دیگر ہم خیال قوتوں سے کہا ہے کہ وہ پارلیمانی طرز سیاست چھوڑ کر ایک متحدہ سیاسی تنظیم قائم کر کے بلوچوں کے حقوق کے لیے عملی جدوجہد کریں۔ اس کے لیے انھوں نے کہا ہے کہ وہ اپنی جماعت جمہوری وطن پارٹی کو تحلیل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

کوئٹہ پریس کلب میں ٹیلیفونک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواب اکبر بگٹی نے کہا ہے کہ نئی سیاسی تنظیم کے ذریعے مروجہ طرز سیاست کے بر عکس عملی جدو جہد کے ذریعے فیصلہ کن کردار ادا کیا جائے اس کے لیے چار بلوچ قوم پرست جماعتوں سمیت دیگر گروہ یا شخصیات کا اپنی جداگانہ سیاسی حیثیت کے خاتمے کے بعد نئی سیاسی تنظیم کا اعلان کیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا ہے کہ نئی تنظیم حقوق کے حصول کے لیے تمام اقدامات کرے گی اور ایک مرتبہ نئی تنظیم قائم ہو جائے اس کے بعد قیادت کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔
اخباری کانفرنس میں انھوں نے کہا ہے کہ بلوچستان عملاً فوج کا ایک مفتوحہ علاقہ بن چکا ہے جس میں ماضی اور حال کے فوجی آپریشن سمیت مستقبل میں بھی بچنے کے آثار دکھائی نہیں دیتے۔

بلوچستان میں چار بلوچ قوم پرست جماعتوں کا اتحاد قائم ہے جس میں جمہوری وطن پارٹی کے علاوہ سردار عطاءاللہ مینگل کی بلوچستان نیشنل پارٹی ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ کی نیشنل پارٹی خیر بخش مری کی حق توار شامل ہے جبکہ قوم پرست جماعتوں کا ایک اور اتحاد پونم قائم ہے۔

اس بارے میں جب نواب اکبر بگٹی سے پوچھا تو انھوں نے کہا کے اتحاد تو کام کر رہے ہیں لیکن اس وقت ضرورت تقسیم ہو کر نہیں بلکہ متحد ہو کر جدوجہد کرنے کی ہے اور ایک نئی سیاسی جماعت قائم کرنا چاہیے۔

ڈیرہ بگٹی کے صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ علاقے میں کشیدگی جاری ہے اور دونوں جانب سے مسلح افراد کی انگلیاں لبلبی پر ہیں۔

ان سے جب پوچھا کے کیا وفاقی حکومت سے جاری مذاکرات کا راستہ تو بند کر دیا گیا ہے تو انھوں نے کہا ہے کہ مذاکرات کا سوال نہیں ہے نہ مذاکرات کا تعلق ہے یہ اندرونی مسئلہ ہے کہ ہم ٹکڑیوں میں تقسیم ہیں نئی تنظیم اگر قائم ہو جاتی ہے تو پھر مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ اس وقت مشترکہ طور پر کیا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد