BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 19 June, 2006, 13:00 GMT 18:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشرف کے لیئے بڑا خطرہ ہوں: کھر

کھر
’ملک میں انارکی شروع ہوچکی ہے اور سارا ملک اس کی لپیٹ میں آجائے گا‘
پنجاب کے سابق گورنر اور وزیراعلٰی غلام مصطفٰے کھر نے اپنے تین چھوٹے بچوں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صدر جنرل پرویزمشرف کے لیئے بڑا خطرہ ہیں اس لیئے انہیں خدشہ ہے کہ انہیں منظر سے ہٹایا جاسکتا ہے۔

گزشتہ سال ایک بار پھر پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے مصطفٰے کھر نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کو اس لیئے ساتھ لائے ہیں کہ وہ بتانا چاہتے ہیں کہ اگر انہیں منظر سے ہٹایا گیا تو ان کا کوئی ایک بچہ سیاست میں داخل ہوگا اور بے نظیر بھٹو کی قیادت میں کام کرے گا۔

مصطفٰےکھر اپنا سیاسی تجزیہ پیش کرنے کے لیئے دو تین ہفتہ کے وقفہ سے پریس کانفرنس منعقد کرتے رہتے ہیں۔ آج بھی انہوں نے اپنا تجزیہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ انگریزی میں لکھا ہوا سات صفحوں کا بیان بھی تقسیم کیا۔

اس بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک میں انارکی شروع ہوچکی ہے اور وہ وقت دور نہیں جب سارا ملک اس کی لپیٹ میں آجائے گا۔

انہوں نے امریکہ کے ساتھ ساتھ ایران، ترکی، سعودی عرب سمیت مسلمان ملکوں سے درخواست کی کہ وہ جنرل پرویز مشرف پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں کہ وہ ملک میں آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کروائیں جس میں بے نظیر بھٹو، نواز شریف اور الطاف حسین سمیت تمام پاکستانیوں کو الیکشن لڑنےکی اجازت ہو اور ان انتخابات پر فوجی وردی کا سایہ نہ ہو۔

ہمسایہ ممالک اثر ڈالیں
 اگر ہمسایہ ممالک فوجی حکمرانوں پر جمہوریت کے لیئے دباؤ ڈالیں تو شاید پاکستان افراتفری اور ٹوٹنے سے بچ جائے۔
کھر

سوالوں کے جواب دیتے ہوئے مصطفٰےکھر نے کہا کہ ان کی یہ درخواست ان ملکوں کی طرف سے ملکی معاملات میں مداخلت کے مترادف نہیں کیونکہ وہ صرف ان ممالک سے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں۔

انہوں نے پاکستان کی خودمختاری پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’پاکستان کی حالت اس وقت کسی ملک کے ایک صوبہ سے بدتر ہے۔‘

مصطٰفے کھر نے کہا کہ اگر ہمسایہ ممالک فوجی حکمرانوں پر جمہوریت کے لیئے دباؤ ڈالیں تو شاید پاکستان افراتفری اور ٹوٹنے سے بچ جائے۔

مصطفٰے کھر نے کہا کہ ’پرویز مشرف کا کوئی تعمیری کردار نہیں رہا۔ بلوچ سیاستدان، بےنظیر بھٹو اور نواز شریف ان سے بات کرنے کے لیئے تیار نہیں اور عوام ان پر اعتماد نہیں کرتے‘۔

کھر نے کہا کہ کوئی معجزہ ہی ہوسکتا ہے کہ اس ملک میں کوئی جرنیل خون خرابے کے بغیر اقتدار چھوڑ دے۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ جنرل مشرف ہر قیمت پر اقتدار میں رہنا چاہیں گے۔

مصطٰفے کھر نے کہا کہ سیاستدانوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ ایک ہٹا دیا جائے تو اور آجاتے ہیں لیکن ان کے بقول فوج کا ادارہ ٹوٹ گیا تو اس کا دوبارہ بننا ممکن نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ان حالات میں یہ جنرل مشرف کو فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی قربانی دے کر فوج کے ادارہ کو بچالیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو فوج کی ضرورت ہے لیکن مشرف کی نہیں۔

کھر نے کہا کہ ان کے خیال میں ستمبر میں ملک میں سیاسی سرگرمیاں تیز ہوجائیں گی۔

کھر نے پیشن گوئی کہ اگلے عام انتخابات گزشتہ عام انتخابات سے مختلف اور طوفان کی طرح ہوں گے جس میں کئی سر سلامت نہیں رہ سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ الیکشن صرف ایک ایشو پر ہوں گے کہ ملک کو وردی چاہیے یا شلوار قمیض۔

کھر نے دعوٰی کیا کہ یہ فیصلہ ہوچکا ہے کہ نواز شریف اور بے نظیر بھٹو ہر قیمت پر الیکشن کے موقع پر ملک میں واپس آجائیں گے۔تاہم وہ چاہتے ہیں کہ یہ کام امن سے ہوجائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد