BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 June, 2006, 12:22 GMT 17:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سٹیل ملز:سماعت آخری مراحل میں

سٹیل مل
سٹیل مل کے ساتھ ساڑھے چار ہزار ایکڑ زمین بھی فروخت کی گئی ہے
پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری کے خلاف سپریم کورٹ میں دائر آئینی درخواستوں کی سماعت اب آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔

چیف جسٹس دوران سماعت کہہ چکے ہیں کہ پندرہ جون تک ان درخواستوں پر فیصلہ متوقع ہے۔

منگل کے روز وفاقِ پاکستان کے وکیل عبدالحفیظ پیرزادہ کے دلائل جاری تھے کہ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے سماعت بدھ کی صبح تک ملتوی کردی۔

گزشتہ دو ہفتوں سے روزانہ سٹیل ملز نجکاری کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والے نو رکنی لارجر بینچ کے سامنے منگل کے روز دلائل دیتے ہوئے سابق وفاقی وزیرِ قانون عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ آئین کی شق ایک سو تہتر کے تحت نجکاری کا اختیار وفاقی حکومت کو حاصل ہے۔

انہوں نے کہا کہ نجکاری کا عمل سابقہ حکومتوں نے شروع کیا اور انیس سو ستانوے میں مشترکہ مفادات کی کونسل نامی آئینی ادارے نے اس کی منظوری دی تھی۔ وکیل کے مطابق نجکاری کی پالیسی میں تبدیلی کا اختیار حکومت کے پاس ہے اور اگر انتظامی اختیارات کو چیلینج کیا گیا تو حکومتی مشینری بیٹھ جائے گی۔

چیف جسٹس نے اس دلیل پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ سٹیل ملز کی نجکاری کا نہیں بلکہ اس پالیسی پر عمل درآمد کے طریقہ کار کا ہے جس پر عبدالحفیظ پیرزادہ نے کہا کہ نجکاری کی پالیسی اور طریقہ کار وضح کرنے کا اختیار بھی حکومت کا ہی ہے اور اس میں تبدیلی صرف پارلیمان ہی کرسکتا ہے۔

اُس پر چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر کل حکومت سپریم کورٹ کی نجکاری کردے تو کیا عدالت چپ بیٹھی رہے گی۔

 سٹیل ملز کی نجکاری کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی پیروی کے لیے حکومت نے چار سابق وزارء قانون کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ جن میں وزیراعظم کے موجودہ مشیر قانون سید شریف الدین پیرزادہ، وسیم سجاد، عبدالحفیظ پیرزادہ اور کمال اظفر شامل ہیں جبکہ نئے خریداروں کی جانب سے بھی سابق وزیر قانون خالد انور وکالت کر رہے ہیں۔

ایک موقع پر وفاقِ پاکستان کے وکیل نے کہا کہ مشترکہ مفادات کی کونسل کا آئینی ادارہ موجود ہے لیکن اراکین نامزد نہیں ہوئے۔ جس پر جسٹس کرامت نذیر بھنڈاری نے کہا کہ اس کا مطلب ادارہ نامکمل ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی حکومت تحلیل کرنے کی ایک وجہ مشترکہ مفادات کی کونسل کی تشکیل نہ کرنا بھی تھا اور عدالت اعظمیٰ نے اُسے جائز تسلیم کیا تھا۔

واضح رہے کہ پاکستان سٹیل ملز ملک کا بہت بڑا صنعتی ادارہ ہے اور روسی، سعودی اور پاکستانی نجی کمپنیوں کے ایک کنسورشیم نے اکیس ارب سڑسٹھ کروڑ کی بولی دے کر مل کے پچھہتر فیصد حصص بمع انتظامیہ خرید لیئے تھے۔

سٹیل ملز کے نئے خریداروں کو پروگرام کے مطابق انتیس مئی کو انتظام سنبھالنا تھا لیکن پاکستان وطن پارٹی کے ایک رہنما بیرسٹر ظفراللہ نے سپریم کورٹ میں اس نجکاری کو خلافِ قانون قرار دینے کی رٹ دائر کر دی جس پر عدالت عظمی نے چوبیس مئی کو حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے پندرہ جون تک ملز کی انتظامیہ کی منتقلی روک دی تھی۔

پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتوں نے اس نجکاری کو غیر شفاف قرار دیتے ہوئے حکومت پر قومی اثاثے اونے پونے داموں فروخت کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا جبکہ حکومت نے ان کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے ملز کی نجکاری کھلی بولی کے ذریعے شفاف انداز میں کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

پاکستان سٹیل کے گیارہ یونیز پر مشتمل ایمپلائیز ایکشن کمیٹی نے بھی اس نجکاری کو رد کرتے ہوئے نئی انتظامیہ سے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ سٹیل ملز کے مزدور یونینز کے وکیل عبدالمجیب پیرزادہ نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ سٹیل ملز کو اس کی موجودہ قیمت سے بہت کم قیمت پر بیچا گیا ہے اور سٹیل ملز کی ملک بھر میں موجود زمین کی قیمت ہی دو سو پچاس ارب روپے بنتی ہے جبکہ پاکستان کی حکومت کا موقف ہے کہ سٹیل ملز قومی خزانے پر بوجھ تھی اور گزشتہ کئی عشروں سے مسلسل خسارے میں جا رہی تھی۔

 بی بی سی کو اپنے ذرائع سے حصص کی فروخت کی دستاویز کی جو نقول ملی ہیں ان کے مطابق فروخت کیئے گئے اسّی فیصد حصص پی ایس ایم سی ایس پی وی ماریشس نے لیئے ہیں جبکہ باقی بیس فیصد حصص عارف حبیب سکیورٹیز لمیٹڈ اور عارف حبیب ولد حبیب حاجی شکور نے لیئے ہیں۔ اس معاہدے میں التوارقی گروپ کا نام کسی بھی جگہ شامل نہیں ہے جبکہ روسی کمپنی کا نام ضمانتی کی فہرست میں موجود ہے۔

سٹیل ملز کی نجکاری کے خلاف دائر آئینی درخواستوں کی پیروی کے لیے حکومت نے چار سابق وزارء قانون کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ جن میں وزیراعظم کے موجودہ مشیر قانون سید شریف الدین پیرزادہ، وسیم سجاد، عبدالحفیظ پیرزادہ اور کمال اظفر شامل ہیں جبکہ نئے خریداروں کی جانب سے بھی سابق وزیر قانون خالد انور وکالت کر رہے ہیں۔

اس کیس میں حفیظ پیرزادہ وفاقِ پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے نجکاری کو درست قرار دے رہے ہیں جبکہ ان کے چھوٹے بھائی مجیب پیرزادہ مزدوروں کی وکالت کرتے ہوئے نجکاری کو غیر قانونی اور غیر شفاف ہونے کے دلائل دے رہے ہیں۔

واضح رہے کہ سٹیل ملز کے اصل خریدار کے بارے میں بھی کئی سوالات اٹھتے رہے ہیں۔ بی بی سی کو اپنے ذرائع سے حصص کی فروخت کی دستاویز کی جو نقول ملی ہیں ان کے مطابق فروخت کیئے گئے اسّی فیصد حصص پی ایس ایم سی ایس پی وی ماریشس نے لیئے ہیں جبکہ باقی بیس فیصد حصص عارف حبیب سکیورٹیز لمیٹڈ اور عارف حبیب ولد حبیب حاجی شکور نے لیئے ہیں۔ اس معاہدے میں التوارقی گروپ کا نام کسی بھی جگہ شامل نہیں ہے جبکہ روسی کمپنی کا نام ضمانتی کی فہرست میں موجود ہے۔

ایسی صورتحال میں یہ قیاس آرائیاں بھی ہوتی رہی ہیں کہ شاید التوارقی گروپ کو آگے کر کے میاں نواز شریف نے سٹیل ملز خریدی ہے۔ اس طرح کی قیاص آرائی کرنے والوں کا کہنا ہے کہ خالد انور کی جانب سے خریداروں کا مقدمہ لڑنا معنی خیز ہے۔ تاہم اس بارے میں کچھ بھی وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔

سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت میں اب جہاں وکلاء اور قانون کے طالبعلم دلچسپی لے رہے ہیں وہاں سیاستدان، مزدور تنظیموں کے نمائندے، سٹیل ملز اور نجکاری کمیشن کے اعلیٰ افسران بھی خاصی تعداد میں دوران سماعت موجود رہتے ہیں۔ میڈیا بھی اس کیس میں خصوصی دلچسپی لے رہا ہے اور عدالتی کمرہ گزشتہ کچھ دنوں سے کھچا کھچ بھرا ہوتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد