BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 04 June, 2006, 14:34 GMT 19:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان سٹیل ملز: نجکاری کیوں؟

پاکستان سٹیل ملز
انتیس مربع میل پر پھیلی ہوئی سٹیل ملز کے لیے ملازمین نے چوبیس ارب روپے کی پیش کی تھی
پاکستان سٹیل ملز اپنی تکمیل کے بعد سے خسارے میں تھی لیکن جب اس نے گزشتہ سال ریکارڈ پیداوار، ریکارڈ فروخت اور ریکارڈ منافع شروع کیا تو اس کی نجکاری کر دی گئی۔

بیس سال قبل سوویت یونین کی مالی اور تکنیکی مدد سے بننے والی سٹیل ملز نے جس کا شمار پاکستان کے انتہائی بڑے منصوبوں میں ہوتا ہے، ایک طرح اپنا فطری دائرہ مکمل کر لیا کیونکہ اسے ایک روسی کنسورشیم کے ہاتھ فروخت کیا گیا ہے۔

ملز کی یونینوں نے اس نجکاری کی مزاحمت اور مخالف کی تھی۔ پاکستانی پارلیمنٹ میں اس معاملے پر بحث مباحثہ ہوا اور حزبِ اختلاف نے واک آؤٹ کیے۔

حزبِ اختلاف کا کہناتھا کہ حکومت کو اپنے 75 فیصد حصص 362 ملین ڈالر کے عوض دے کر اس ادارے کی نجکاری نہیں کرنی چاہیے اور اس اہم اثاثے کا انتظام اپنے پاس رکھنا چاہیے۔

انیس سال تک ملز کی کارکردگی خراب رہی ہے لیکن گزشتہ سال سے اس نے ریکارڈ پیداوار اور منافع دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس منافع کی وجہ ملک کے اندر قیمتوں اور مانگ میں اضافہ تھا جس کے نتیجے میں ملز کی انتظامیہ کو مزید سرمایہ کاری، قرضوں میں کمی اور بنکوں کو ادا کیے جانے والے سود کی ادائیگیوں میں کمی کی سہولت میسر آئی۔

انیس سال تک ملز کی کارکردگی خراب رہی ہے لیکن گزشتہ سال ریکارڈ پیداوار اور منافع ہوا

اس کے علاوہ گزشتہ پانچ سال کے دوران سٹیل ملز نے آلات اور مشینوں کی جدید کاری پر بھی توجہ دی جس کے نتیجے میں اس نے افرادی قوت میں 35 فیصد کی کمی بھی کر لی۔

اس مل کو منافع میں لانے کا سہرا لیفٹیننٹ جنرل رعبدالقیوم کے سر بندھا جو ڈھائی سال قبل ملز کے چیئرمین بنائے گئے تھے۔

جنرل قیوم کا کہنا ہے کہ 1981 میں ملز کی پیداوار شروع کرنے کے بعد سے اب تک کمپنی میں کوئی دو درجن کے قریب چیئرمین آئے ہیں لیکن انہوں اپنی طرف سے کمپنی کو جس حد تک ممکن تھا آگے لے جانے کی کوشش کی ہے۔

ان کا کہنا ہے’ہمیں فخر ہے کہ ہم کمپنی کو منافع میں لائے اور نجی مالکان کے حوالے کر رہے ہیں، جو دراصل فولادی لوگ ہیں، وہ اس میں مزید سرمایہ کاری کریں گے اور کاکردگی کو مزید مؤثر بنا کر زیادہ منفع بخش بنائیں گے‘۔

لیکن کمپنی کے منافع میں آنے کے اور بھی اسباب ہیں 2004 سے 2006 کے دوران پاکستان میں پیداوار اور تعمیرات کے شعبوں میں سٹیل کی مانگ بالترتیب بارہ اور چھ فیصد بڑھی ہے اور سٹل ملز پوری گنجائش کے مطابق کام کرنے پر بھی ملک کی ایک چوتھائی مانگ پوری کرتی ہے۔

نجکاری اور جدید کاری پر یونین اہلکاروں کے مطابق ملازمین کو پریشانی ہے اور کراچی کے صحافی بابر ایاز کا کہنا ہے ’خودکار مشینوں کے باعث ملازمتوں کے مواقع اتنے پیدا نہیں ہو رہے اور اور یہ یقیناً سماجی تشویش کا ایک اہم پہلو ہے‘۔

اندرونی مانگ
پاکستان میں پیداوار اور تعمیرات کے شعبوں میں سٹیل کی مانگ بالترتیب بارہ اور چھ فیصد بڑھی ہے

بابر ایاز اس اعتماد کا اظہار کرتے ہیں کہ ’نجکاری کے نتیجے میں آئندہ چند سال کے دوران دس ارب ڈالر سرمایہ کاری آئے گی‘۔

اگرچہ پاکستان میں نجکاری کا آغاز سابق وزیراعظم نواز شریف کے دور میں ہوا لیکن موجودہ وزیراعظم شوکت عزیز پاکستان میں نجکاری کی ابتداء کرنے والوں میں سے ہیں اور ان کے اس دور میں نجکاری کی رفتار کچھوے کی چال سےخرگوش کی چھلانگ میں تبدیل ہوئی۔

وزیراعظم شوکت عزیز کو بیرونی سرمایہ کار احترام کی نظر سے دیکھتے ہیں اور انہیں توقع ہے کہ نجکاری کے ذریعے اس سال پاکستان میں تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آئے گی۔ جو پاکستان کی تاریخ میں ایک ریکارڈ ہو گی۔

اس سب کے باوجود امن و امان کی حالت کی وجہ سے بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری سے ہچکچاتے ہیں۔ انہیں حالات مستحکم دکھائی نہیں دیتے۔ پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف خود چار سال کے دوران تین قاتلانہ حملوں سے بچ چکے ہیں اور وزیراعظم شوکت عزیز پر بھی قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے جس میں ان کا ڈرائیور اور دیگر آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

سٹل ملز پوری گنجائش کے مطابق کام کرنے پر بھی ملک کی ایک چوتھائی مانگ پوری کرتی ہے

ان تمام باتوں کے باوجود اگر پاکستان میں نجکاری کامیابیاں حاصل کرتی ہے تو پاکستان کو ریسٹرکچرنگ اور جدید کاری کے نتیجے میں ہونے والی بے روزگاری کا سامنا تو کرنا ہی پڑے گا کیونکہ نجکاری کے بعد جن لوگوں کو فارغ کیا جائے گا انہیں گولڈن ہینڈ شیک یا متبادل روزگار کے لیے صرف دو فیصد رقم مختص کی گئی ہے۔ لیکن اصل چیلنج اس اس تجربہ کار افرادی قوت کا دوسرے شعبوں میں کارآمد استعمال ہے۔
اسی بارے میں
پی ٹی سی ایل کی نجکاری آج
18 June, 2005 | پاکستان
کے ای ایس سی کی نجکاری منظور
07 February, 2005 | پاکستان
حبیب بینک: نجکاری عدالت میں
30 December, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد