پی ٹی سی ایل کی نجکاری منظور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وزیر اعظم شوکت عزیز کے زیر صدارت پیر کو کابینہ کی نجکاری کمیٹی کے ایک خصوصی اجلاس میں پاکستان کے ٹیلی مواصلات کے سرکاری ادارے پی ٹی سی ایل یعنی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کی نجکاری کی منظوری دے دی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی ٹیلی مواصلات کی کمپنی ایتیصلات نے اٹھارہ جون کو پی ٹی سی ایل کے چھبیس فی صد حصص کی کامیان بولی دے کر پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی نجکاری کو اپنے نام کر لیا تھا۔ اس نجکاری کے بعد ایتیصلات پی ٹی سی ایل کا انتظامی کنٹرول بھی سنبھالے گی۔کابینہ کی طرف سے اس نجکاری کی منظوری کے بعد ایتیصلات کو پندرہ دن کے اندر اس بولی کی پچیس فی صد رقم جمع کرانی ہو گی اور بقیہ پچھتر فی صد رقم دو مہینے کے اندر واجب الادا ہو گی۔ ایتیصلات نے پی ٹی سی ایل کے ایک ارب بتیس کروڑ ساٹھ لاکھ حصص کے لئے ایک اعشاریہ چھیانوے ڈالر فی حصص کی بولی لگائی تھی جسے نجکاری کمیشن نے کامیاب قرار دے دیا تھا۔ اس نجکاری کے تحت ایتیصلات نے یہ حصص دو ارب ساٹھ کروڑ ڈالر میں خرید لئے ہیں۔ پاکستان کے اقتصادی شعبے سے وابستہ وفاقی وزرا عبدالحفیظ شیخ، عمر ایوب اور اویس احمد خان لغاری نے اس نجکاری کو انتہائی کامیاب قرار دیا ہے۔ نجکاری کمیشن نے پی سی سی ایل کے نجکاری کے لئے رکھے گئے حصص کی کم سے کم قیمت باسٹھ روپے فی حصص مقرر کی تھی مگر ایتیصلات نے ایک سو سترہ روپے فی حصص کی بولی لگائی جو پاکستانی حکومت کی امیدوں سے کہیں زیادہ رہی۔ ایتیصلات کے مقابلے میں سنگاپور کی سنگ ٹیل نے صفر اعشاریہ اٹھاسی ڈالر فی حصص اور چین کی چائنہ موبائیل نے ایک اعشاریہ صفر چھ ڈالر فی حصص کی بولیاں دی تھیں جو مسترد کر دی گئیں۔ یہ نجکاری پہلے دس جون کو ہونا تھی مگر پی ٹی سی ایل کے نجکاری مخالف ملازمین کی یونین اور پی ٹی سی ایل انتظامیہ کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے جس کے بعد حکومت کی درخوست پر نیم فوجی دستوں نے ملک کی تمام مواصلاتی تنصیبات کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سینکڑوں نجکاری مخالف ملازمین کو بھی حراست میں لیا تھا۔ تاہم اب حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے نجکاری مخالف ملازمین کی یونین کے ساتھ تمام معاملات طے کر لئے ہیں اور ان کے لئے پانچ ارب روپے کا مراعاتی پیکج دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||