BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 20 June, 2005, 08:00 GMT 13:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی ٹی سی ایل کی نجکاری منظور

News image
پاکستان کے اقتصادی شعبے سے وابستہ وفاقی وزراء نے اس نجکاری کو انتہائی کامیاب قرار دیا ہے
وزیر اعظم شوکت عزیز کے زیر صدارت پیر کو کابینہ کی نجکاری کمیٹی کے ایک خصوصی اجلاس میں پاکستان کے ٹیلی مواصلات کے سرکاری ادارے پی ٹی سی ایل یعنی پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کی نجکاری کی منظوری دے دی ہے۔

متحدہ عرب امارات کی ٹیلی مواصلات کی کمپنی ایتیصلات نے اٹھارہ جون کو پی ٹی سی ایل کے چھبیس فی صد حصص کی کامیان بولی دے کر پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی نجکاری کو اپنے نام کر لیا تھا۔

اس نجکاری کے بعد ایتیصلات پی ٹی سی ایل کا انتظامی کنٹرول بھی سنبھالے گی۔کابینہ کی طرف سے اس نجکاری کی منظوری کے بعد ایتیصلات کو پندرہ دن کے اندر اس بولی کی پچیس فی صد رقم جمع کرانی ہو گی اور بقیہ پچھتر فی صد رقم دو مہینے کے اندر واجب الادا ہو گی۔

ایتیصلات نے پی ٹی سی ایل کے ایک ارب بتیس کروڑ ساٹھ لاکھ حصص کے لئے ایک اعشاریہ چھیانوے ڈالر فی حصص کی بولی لگائی تھی جسے نجکاری کمیشن نے کامیاب قرار دے دیا تھا۔ اس نجکاری کے تحت ایتیصلات نے یہ حصص دو ارب ساٹھ کروڑ ڈالر میں خرید لئے ہیں۔

پاکستان کے اقتصادی شعبے سے وابستہ وفاقی وزرا عبدالحفیظ شیخ، عمر ایوب اور اویس احمد خان لغاری نے اس نجکاری کو انتہائی کامیاب قرار دیا ہے۔

نجکاری کمیشن نے پی سی سی ایل کے نجکاری کے لئے رکھے گئے حصص کی کم سے کم قیمت باسٹھ روپے فی حصص مقرر کی تھی مگر ایتیصلات نے ایک سو سترہ روپے فی حصص کی بولی لگائی جو پاکستانی حکومت کی امیدوں سے کہیں زیادہ رہی۔

ایتیصلات کے مقابلے میں سنگاپور کی سنگ ٹیل نے صفر اعشاریہ اٹھاسی ڈالر فی حصص اور چین کی چائنہ موبائیل نے ایک اعشاریہ صفر چھ ڈالر فی حصص کی بولیاں دی تھیں جو مسترد کر دی گئیں۔

یہ نجکاری پہلے دس جون کو ہونا تھی مگر پی ٹی سی ایل کے نجکاری مخالف ملازمین کی یونین اور پی ٹی سی ایل انتظامیہ کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے جس کے بعد حکومت کی درخوست پر نیم فوجی دستوں نے ملک کی تمام مواصلاتی تنصیبات کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سینکڑوں نجکاری مخالف ملازمین کو بھی حراست میں لیا تھا۔

تاہم اب حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے نجکاری مخالف ملازمین کی یونین کے ساتھ تمام معاملات طے کر لئے ہیں اور ان کے لئے پانچ ارب روپے کا مراعاتی پیکج دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد