پی ٹی سی ایل معاملہ عدالت میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹیڈ کی نجکاری کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیاگیا ہے۔ آئینی درخواست میں عدالت سےاستدعا کی گئی ہے کہ پی ٹی سی ایل کی نجکاری کو روکا جائے یہ ملک اور ملازمین کے مفادات کے منافی ہے۔ جسٹس سرمد جلال اور جسٹس امیر مسلم ہانی پر مشتمل ڈویژن بینچ کے سامنے بدھ کے روز نجکاری کمیشن کی جانب سے ایڈووکیٹ عبدالحفیظ پیرزادہ پیش ہوئے ۔ انہوں نے عدالت سے گزراش کی کہ سماعت بیس جون تک ملتوی کی جائے کیونکہ وہ بعض دیگر مقدمات کی وجہ سےمصروف ہیں۔ سہیل احمد ایڈووکیٹ نے اس کی مخالفت کی اور عدالت کو بتایا کہ پی ٹی سی ایل کی نجکاری اٹھارہ جون کو طے کی گئی ہے لہٰذا اس سے قبل سماعت کی جائے۔ عدالت نے ان کی درخوست کو مسترد کرتے ہوئے سماعت بیس جون تک ملتوی کردی۔ پی ٹی سی ایل کو فوری طور پر کسی کمپنی کے حوالے نہیں کیا جا رہا ہے۔ پاکستان ٹیلی کمینیکشن کی نجکاری روکنے کے لئے محتلف سیاسی جماعتوں، ٹریڈ یونینوں اور سول سوسائٹی کے اداروں نے نجکاری مخالف اتحاد کے نام سے ایک محاذ قائم کیا ہے۔ مزدور رہنما ریاض احمد کی سربراہی میں قائم ہونے والےاس اتحاد کے زیر اہتمام جمعرات کے روز کراچی میں ایک ریلی نکالی جائےگی۔ یہ فیصلہ بدھ کو کراچی پریس کلب میں ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں پیپلز پارٹی کے حبیب جنیدی، راحیل اقبال، عوامی نیشنل پارٹی کے امین اٹک، پاکستان ٹریڈ یونین فیڈریشن کی کنیز فاطمہ ، کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے اخلاق احمد، نیشنل ورکرز پارٹی کے روشن کلہوڑو، کمیونسٹ پارٹی کے منصور سعید، کے علاوہ پاکستان ریلویز، کراچی شپ یارڈ اور دیگر مزدور تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس نے پی ٹی سی ایل کے محنت کشوں کو یقین دلایا کہ وہ نجکاری کے خلاف جدوجہد میں اکیلے نہیں ہیں اور مختلف سیاسی جماعتیں اور مزدور تنظیمیں ان کے ساتھ ہیں۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ پی ٹی سی ایل کی نجکاری فوری طور پر روک دی جائے، گرفتار رہنماؤں کو رہا کیا جائے اور پی ٹی سی ایل کے ملازمین کے ساتھ تحقیر آمیز رویہ ختم کیا جائے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||