پی ٹی سی ایل، چھاپے اورگرفتاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ملک بھرمیں پا کستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کی مزدور تنظیموں کے عہدیداروں اور متحرک کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ ہفتے کی رات سےشروع ہوگیا ہے۔ تنظیموں کے عہدیداروں اور متحرک کارکنوں کی تلاش میں ان کے گھروں اور مختلف ٹھکانوں پر چھاپے مارے جارہے ہیں جبکہ بعض ملازمین کے نہ ملنے پر ان کے رشتہ داروں کوبھی گرفتار کیا گیا ہے۔ لاہور میں ایک سپرنٹنڈ نٹ پولیس نے بی بی سی کو بتایا کہ ساری رات پولیس کی مختلف ٹیمیں کارکنوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارتی رہی ہیں۔ سرکاری محکمہ ٹیلی فون میں ہفتے کوملازمین نے اس وقت ہڑتال کا اعلان کیا تھا جب وفاقی وزراء نے پی ٹی سی ایل کی نجکاری کی نئی تاریخ جاری کی تھی۔ ملازمین کی ہڑتال کے اعلان کے بعد سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے پی ٹی سی ایل کی تنصیبات کاکنٹرول سنبھال لیا ہے اور ان ملازمین کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے جو نجکاری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ ملک بھر میں پی ٹی سی ایل کی مزدور تنظیموں کے نمائندے اور متحرک کارکن روپوش ہو گئے ہیں متعدد نے اپنے سیلولر فون بھی بند رکر رکھے ہیں جبکہ وہ گھروں میں بھی نہیں مل رہےہیں۔ کئی مقامات سے یہ شکایت بھی منظرعام پر آئی ہے کہ پولیس پی ٹی سی ایل ملازمین کی بجاۓ ان کے گھر والوں کو پکڑ کر لے گئی ہے۔ لاہور میں غازی آباد کے علاقے سے پی ٹی سی ایل یونین کے ایک عہدیدار کے والد اوربھائی کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ عہدیدار کے بھائی کا کہنا ہے کہ انہیں بھی دیگر لوگوں کے ہمراہ تھانہ سول لائن حوالات میں رکھا گیا ہے اور کسی کو ان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہڑتال کرنا اور ملازمین کو کام سے روکناخلاف قانون ہے اور حکام کی ہدایت پر گرفتاریاں کی جا رہی ہیں۔ مجلس عمل پنجاب کے صدر لیاقت بلوچ نے ان گرفتاریوں کی مذمت کی ہے اور انہیں خلاف قانون قرار دیا ہے۔انہوں نے کہاہےکہ پی ٹی سی ایل ایک انتہائی منافع بخش ادارہ ہے جس کی نجکاری بلاجواز ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||