BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 15 June, 2005, 07:37 GMT 12:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یونینوں میں پھوٹ، ہڑتال موخر

مواصلات کے نظام کو جام کرنے کی دھمکی کے بعد رینجرز تعینات
پی ٹی سی ایل کے دفتر کے باہر سخت پہرا
پاکستان میں مواصلات کے سرکاری ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ کے نجکاری مخالف ملازمین کی طرف سے اعلان کردہ ہڑتال جس میں ملک بھر میں مواصلات کے نظام کو جام کرنے کی دھمکی دی گئی تھی نجکاری مخالف ملازمین میں پھوٹ پڑنے کی وجہ سے ناکام ہو گئی ہے۔

منگل کی شب پی ٹی سی ایل کی نو یونینوں میں سب سے بڑی یونین پاکستان ٹیلی کام ایمپلائز یونین کے صدر ضیاالدین اور سیکریٹری جنرل رانا طاہر نے سرکاری ٹیلیوژن پر آکر اس مواصلاتی جام کی ہڑتال کو موخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے ہمراہ پی ٹی سی ایل کی انتظامیہ کے ارکان بشمول پی ٹی سی ایل کے سربراہ جنید خان بھی موجود تھے۔

اس موقع پر ایک سرکاری بیان بھی جاری کیا گیا جس کے مطابق ان دو یونین رہنماؤں نے پی ٹی سی ایل کے ملازمین کے لئے پانچ ارب روپے کے پیکج کو منظور کر لیا ہے اور پی ٹی سی ایل کی نجکاری کی حمایت کر دی ہے۔

تاہم پی ٹی سی ایل کی دوسری یونین کے رہنماؤں نے ایک یونین کی طرف سے ہڑتال موخر کرنے کو حکومتی دباؤ کا نتیجہ قرار دیا ہے اور ان رہنماؤں کو غدار اور لوٹے قرار دیا ہے۔

پی ٹی سی ایل کے نجکاری مخالف ملازمین کی ایکشن کمیٹی کے رکن ملک مقبول نے تسلیم کیا کہ ملازمین میں حکومت کے طرف سے پھوٹ ڈلوانے کے بعد مواصلات جام ہڑتال ممکن نہیں رہی۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ملازمین اب اٹھارہ جون کو ہڑتال کریں گے جس دن پی ٹی سی ایل کی نجکاری ہو گی۔

نجکاری مخالف آٹھ یونین کے رہنماؤں نے نجکاری کی مخالفت برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ اٹھارہ جون کو ممکنہ طور پر پی ٹی سی ایل کے ملازمین اور ان کے اہل خانہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرہ کریں گے۔

اس دوران ملک کی تمام مواصلاتی عمارتوں اور ٹیلی فون ایکسچینجوں پر بدستور رینجرز اور پولیس تعینات ہے۔

گزشتہ چند روز سے نجکاری مخالف ملازمین کے تین بڑے رہنماؤں سمیت سینکڑوں ملازمین کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی تحویل میں لیا ہوا ہے اور دیگر ملازمین اور رہنما گرفتاری کے خوف سے چھپے ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد