مواصلاتی جام کرنے کی اپیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پی ٹی سی ایل ورکرز یونینز ایکشن کمیٹی جانب سے پاکستان کا ٹیلی مواصلاتی نظام جام کرنے کی اپیل کامیاب نہیں ہوئے ہے۔ ورکرز ایکشن کمیٹی نے حکومت کے مذاکرات کو یہ کہہ کر مسترد کردیا تھا کہ یہ مذاکرات صرف ایک یونیں سے کیے گئے۔ ایکشن کمیٹی کے ڈپٹی پبلک رلیشن سیکریٹری فیروز احمد کا کہنا ہے کہ احتجاج کا اعلان ایکشن کمیٹی نےکیا تھا جو نو تنظیموں پر مشتمل ہے اور حکومت نے معاہدہ ضیا الدینسے کیا ہے جو ہمارے آئینی سربراہ نہیں ہیں۔ ہمارے آئینی سربراہ رانا طاہر ہیں۔ حکومت نے انہیں بھی ٹی وی پر دکھایا ہے لیکن ان کا آزادانہ موقف سامنے نہیں آیا جبکہ ایکشن کمیٹی کے دیگر رہنما بھی اس معاہدے کومسترد کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہمناوں حاجی خان بھٹی، ایس ایم شمیم، سراج الحسن اور قاضی رشید کو صدر کی حدود سے گرفتار کر لیا گیا ہے جن کا اب تک کوئی پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ فیروز احمد کے مطابق وہ رہنما ایک خفیہ پریس کانفرنس کرنے والے تھے کے انہیں ایجنسی والے گرفتار کر لیا۔ دوسری جانب ورکرز یونین ایکشن کمیٹی نے پی ٹی سی ایل ملازمیں کو اپیل کی ہے کہ بدھ کو مواصلاتی نظام جام کیا جائے۔ سوئچ روم بند کیے جائیں۔ کمیٹی نے کہا ہے کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ سمیت تمام سہولیات بند کرکے خریدار کمپنی پر یہ واضح کیا جائے کے پی ٹی سی ایل آسان شکار نہیں ہے۔ واضح رہے کہ پی ٹی سی ایل حکام نے اعلان کیا گیا تھا کہ ملازمیں سے معاملات طے پا گئے ہیں۔ پی ٹی سی ایل کے چیف ایگزیکیٹو جنید احمد نے ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا ہے مذاکرات میں ملازمین کے ملازمت کے سکیورٹی کے حوالے سے خدشات کو ختم کیا گیا ہے۔ انہوں نے بھی کہا کہ مذاکرات’ ایک بڑی یونین‘ کے ساتھ ہوئے ہیں جس کا ایکشن کمیٹی میں کلیدی حصہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||