پی ٹی سی ایل نجکاری پرواک آؤٹ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں منگل کی شام حزب اختلاف نے حکومت پر ’پی ٹی سی ایل، کی مبینہ غلط نجکاری اور ملازمین کے مفادات کا تحفظ نہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے علامتی واک آؤٹ کیا۔ حکومت نے حزب مخالف کا اعتراض مسترد کرتے ہوئے ملک کے واحد سرکاری زمینی ٹیلی فون فراہم کرنے والے ادارے ’پی ٹی سی ایل، کی نجکاری کو ملکی مفاد میں قرار دیا۔ حزب اختلاف کے قائد رضا ربانی نے کہا کہ ’پی ٹی سی ایل، حساس ادارہ ہے اور اسے کسی غیر ملکی کمپنی کو دینے سے ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر الزام لگایا کہ ان کی پالیسیاں غیرملکی سامراجیوں کے مفادات کی تکمیل کر رہی ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی سی ایل کی نجکاری سے قبل دو موبائل فون کمپنیوں کو لائسنس جاری کیا ہے۔ متعلقہ وزارت کے وفاقی وزیر اویس احمد خان لغاری نے حزب اختلاف کے اعتراضات مسترد کرتے ہوئے ان پر جوابی تنقید کی اور کہا کہ اس معاملے سے قومی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ پی ٹی سی ایل کی نجکاری قومی مفاد میں ہے اور کسی بھی شر پسند گروپ کے احتجاج سے وہ روکی نہیں جاسکتی۔ حکومت نے ’پی ٹی سی ایل، کے چھبیس فیصد حصص مع انتظامیہ نجی شعبے کے حوالے کرنے کی خاطر دس جون کو کھلی بولی منعقد کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس کے خلاف ملازمین کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہیں نجکاری پر تحفظات ہیں اور وہ نجکاری سے پہلے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ، ملازمین کی ترقی اور عارضی ملازمین کی مستقلی جیسے مسائل کا حل چاہتے ہیں۔ ’پی ٹی سی ایل، کے ملازمین کی تنظیموں کے رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ ساٹھ ہزار سے زیادہ ملازمین کے اس ادارے کے بیس ہزار ملازمین گزشتہ چھ روز سے مسلسل ہڑتال پر ہیں اور ساتھ میں ان کے انتظامیہ سے مذاکرات بھی جاری ہیں لیکن تاحال کوئی سمجھوتہ نہیں پایا۔ پی ٹی سی ایل کے ملازمین کی ہڑتال کے باعث اسلام آباد، لاہور، کراچی اور دیگر شہروں میں ٹیلی فون ایکسچینجز کے باہر فرنٹیئر کنسٹیبلری اور پولیس کی بھاری نفری تعینات ہیں۔ یونین نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ پانچ جون کے بعد ملک بھر کے ٹیلی فون بند کردیں گے۔ پی ٹی سی ایل انتطامیہ کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوگئے تو پاکستان فوج کی ’سگنل کور، پی ٹی سی ایل کی ملک بھر میں تمام تنصیبات اور ایکسچینجز کا انتظام سنبھال سکتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||