ہڑتال کا چھٹا روز، مذاکرات دوبارہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرکاری ٹیلی فون کمپنی پی ٹی سی ایل کے چھبیس فیصد حصص کی دس جون کو نیلامی کے خلاف کمپنی کے ملازمین کی ہڑتال منگل کے روز چھٹے روز بھی جاری ہے اور ٹیلی فون کمپنی کے ملازمین کی ایکشن کمیٹی کے وفد اور نجکاری کمیشن کے درمیان مذاکرات اسلام آباد میں دوبارہ شروع ہوگئے ہیں۔ پی ٹی سی ایل ایمپلائز یونین کے صدر ضیا الدین احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ منگل کو نجکاری کمیشن کے دفتر میں وفاقی سیکرٹری برائے نجکاری اور پی ٹی سی ایل کے ڈائریکٹر جنرل ایڈمنسٹریشن سید عابد حسین اور یونین کی ایکشن کیمٹی کے چار رکنی وفد کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔ پی ٹی سی ایل ملازمین کی نو مختلف یونینوں نے ایکشن کمیٹی بنائی ہوئی ہے۔ یونین ایکشن کمیٹی اور پی ٹی سی ایل انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور ہفتہ کے روز ناکام ہوگیا تھا اور اب بات چیت میں نجکاری کمیشن کو بھی شامل کیاگیا ہے۔ ایمپلائز یونین کے صدر نے کہا کہ ملازمین کی کام چھوڑ ہڑتال پورے ملک میں آج چھٹے روز بھی جاری ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ یونین کے رہنما ملک مقبول حسین کل رات سے غائب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبول حسین سے منگل کو ان کی بات چیت ہوئی ہے۔ ایک انگریزی اخبار نے خبر دی تھی کہ ملک مقول حسین جو کمپنی کی نجکاری کے خلاف زوردار تقریریں کررہے تھے خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں پیر کی رات کسی انٹیلی جنس ادارہ نے اٹھالیا ہے۔ ایمپلائز یونین کے صدر نے کہا کہ حکومت پی ٹی سی ایل کے چھبیس فیصد حصص تقریبا ڈھائی ارب ڈالر میں بیچنا چاہتی ہے جبکہ ہمارے خیال میں ان کی قیمت سے بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس ادارہ کو اس کے ملازمین نے چالیس سال کی محنت کے بعد اس مقام پر پہنچایا حکومت اسے کارکنوں کی رائے لیے بغیر کیسے بیچ سکتی ہے۔ دوسری طرف لاہور میں تیسرے روز بھی پولیس کی بھاری نفری پی ٹی سی ایل کی ایکسچینجز اور دوسرے دفاتر کے باہر تعینات رہی۔ لاہور میں ایمپلائز یونین کے رہنما ملک یاسین نے کہا کہ پولیس کے ایس پی سیکیورٹی اور ایس کینٹ نے یونین کے لوگوں سے ملاقات کی تھی جس میں یونین نے انہیں یقین دلایا کہ ملازمین تنصیبات کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ پیر کو اسلام آباد میں پی ٹی سی ایل کے ہیڈکوارٹر کے اردگرد اور اس کے اندر بھی پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی۔ لاہور میں ایمپلائز یونین کے رہنما کا کہنا تھا کہ حکومت سے بات چیت میں ملازمین کی ملازمت کا تحفظ سب سے اہم معاملہ ہے کیونکہ حکومت کا کہنا ہے کہ چھبیس فیصد حصص خریدنے والی نجی کمپنی کی انتظامیہ نجکاری کے ایک سال بعد پی ٹی سی ایل کے کسی ملازم کو ملازمت سے نکال سکے گی۔ یونین اس بات کی مخالفت کررہی ہے۔ پی ٹی سی ایل کے ملک بھر میں تقریبا چھیاسٹھ ہزارملازمین ہیں اور پچاس لاکھ سے زیادہ صارفین اس کی سروس استعمال کرتے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں اس کمپنی کا منافع تیس ارب روپے تھا۔ تاہم انیس سو اٹھانوے کے بعد سے پی ٹی سی ایل ملازمین کی تنخواہوں کے پیکجز میں اضافہ نہیں کیا گیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||