BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 29 May, 2005, 06:35 GMT 11:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پی ٹی سی ایل ہڑتال کا چوتھا روز

فائل فوٹو
مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں فوج کی سگنل کور ملک بھر میں تمام ایکسچینجز کا انتظام سنبھال سکتی ہے: انتظامیہ
ملک بھر میں حکومتی ٹیلی فون کمپنی پی ٹی سی ایل کے بیس ہزار سے زیادہ ملازمین کی ہڑتال کے چوتھے روز کچھ شہروں میں کمپنی کی تنصیبات پر رینجرز اور فرنٹئر کانسٹیبلری تعینات کردی گئی ہے۔

پی ٹی سی ایل کے ملازمین لینڈ لائنز چلانے والی ملک کی واحد ٹیلی فون کمپنی کی نجکاری کے خلاف ہڑتال پر ہیں۔ کمپنی کے کل چھیاسٹھ ہزار ملازمین ہیں۔حکومت کمپنی کے چھبیس فیصد حصص بیچنے کے لیے دس جون کو نیلامی کررہی ہے جس میں سات نجی پارٹیاں حصہ لیں گی۔

لاہور کی تمام چوبیس ایکسچینجز بند کردی گئی ہیں اور دفاتر کو تالے لگادیے گئے ہیں۔ عملہ کی ہڑتال کی وجہ سے شہر میں دو ہزار سے زیادہ فون کنیکشن بند پڑے ہیں۔ عملہ خراب فون ٹھیک نہیں کررہا اور نئے کنیکشن نہیں لگارہا۔ پی ٹی سی ایل کے سرکاری پبلک کال آفس بھی بند کردیے گئے ہیں۔

کراچی میں رات کو رینجرز پی ٹی سی ایل تنصیبات اور ایکسچینجز پر تعینات کردی گئیں۔ صوبہ سرحد میں پی ٹی سی ایل انتظامیہ کی درخواست پر تنصیبات پر فرنٹئر کانسٹیبلری تعینات کردی گئی ہے۔ شیخوپورہ میں پی ٹی سی ایل کی تنصیبات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔ لاہور میں رینجرز تنصیبات کا گشت کرتی رہیں۔

گزشتہ روز رات گئے تک پی ٹی سی ایل انتظامیہ اور ورکرز یونین کی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات جاری رہے لیکن ابھی کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ یونین کا کہنا ہے کہ نجکاری پر اس کے تحفظات ہیں اور وہ نجکاری سے پہلے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ، ملازمین کی ترقی اور عارضی ملازمین کی مستقلی جیسے مسائل کا حل چاہتی ہے۔

یونین لیڈر تنویر شاہ نے کہا ہے کہ انتظامیہ سے یہ یقین دہانی بھی مانگی جارہی ہے کہ نجکاری کے بعد پی ٹی سی ایل کے کسی ملازم کو فارغ نہ کیاجائے۔

پی ٹی سی ایل کے چیف ایگمیکٹو جنید خان نے کہا ہے کہ کارکنوں کے جائز مطالبات پر غور ہورہا ہے لیکن نجکاری نہیں روکی جاسکتی۔

پی ٹی سی ایل کے ترجمان علی قادر گیلانی کا کہنا ہے کہ انتظامیہ نے یونین کے تمام مطالبات مان لیے ہیں لیکن یونین کے لوگ بار بارنئے مطالبات لے کر آجاتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ یونین سے کہا گیا ہے کہ نجکاری کے ایک سال بعد نئی انتظامیہ پی ٹی سی ایل کے ملازمین میں کمی کرسکے گی۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ مواصلات کے وزیر اویس لغاری اوروزیراعظم شوکت عزیز بھی اس صورتحال سے خود کو باخبر رکھ رہے ہیں۔

یونین نے دھمکی دی ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ پانچ جون تک ہڑتال جاری رکھیں گے اور پانچ جون کے بعد ملک بھر کے ٹیلی فون بند کردیں گے۔

پی ٹی سی ایل انتطامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوگئے تو پاکستان فوج کی سگنل کور پی ٹی سی ایل کی ملک بھر میں تمام تنصیبات اور ایکسچینجز کا انتظام سنبھال سکتی ہے تاکہ ملک بھر کے پچاس لاکھ سے زیادہ فکسڈ لائنز کے ٹیلی فون چلتے رہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد