ہڑتالی لیبرلیڈر بدستور زیرِحراست | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن کے سینکڑوں ملازمین کو جنہوں نے کارپوریشن کی نجکاری کے خلاف جزوی ہڑتال کی تھی بدستور جیل میں رکھا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ تقریباً تیس ملازمین کو فارغ بھی کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے ادارے کی جزوی نجکاری کے خلاف ہڑتال میں حصہ لیا تھا۔ یونین کے عہدیداروں کے مطابق نوکری سے نکالے جانے والے ملازمین میں یونین کے کئی رہنما شامل ہیں۔ فوج نے ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولیات کو بند ہونے سے بچانے کے لیے کارپوریشن کے اہم دفاتر کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یونین کا کہنا ہے کہ اس اختتام ہفتہ ہونے والی نجکاری سے ہزاروں لوگوں کی نوکریاں ختم ہو جائیں گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر نجکاری نہ روکی گئی اور ملازمین کو نہ چھوڑا گیا تو وہ ٹیلی فون کے نظام میں خلل ڈالیں گے۔ حکومت نے کہا ہے کہ وہ پی ٹی سی ایل کے ہڑتال کرنے والے ملازمین کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے خلاف مقدمہ چلا سکتی ہے کیونکہ اس کے بقول یہ لوگ ریاست کے لیے خطرہ ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||