پی ٹی سی ایل: 2.6 ارب ڈالرکی بولی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی سرکاری ٹیلی فون کمپنی پی ٹی سی ایل کے چھبیس فیصد حصص کی نج کاری میں متحدہ عرب امارات کی کمپنی ایتیصلات نے دو عشاریہ چھ ارب ڈالر کی کامیاب بولی دے دی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی ٹیلی مواصلات کی کمپنی ایتیصلات نے پاکستان کے ٹیلی مواصلات کے سرکاری ادارے پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ یعنی پی ٹی سی ایل کے چھبیس فی صد حصص کی کامیاب بولی دے کر پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی نجکاری کو اپنے نام کر لیا ہے۔ پاکستان کے نجکاری کمیشن کے زیر اہتمام یہ نجکاری ایک مقامی ہوٹل میں ہفتے کی شام ہوئی جس میں سنگاپور کی سنگ ٹیل، متحدہ عرب امارات کی ایتیصلات اور چین کی چائنہ موبائیل کے درمیان پی ٹی سی ایل کے چھبیس فی صد حصص اور انتظامی امور سنبھالنے کے لئے مقابلہ ہوا۔ ایتیصلات نے پی ٹی سی ایل کے ایک ارب
پاکستان کے وفاقی وزیر مملکت عمر ایوب اور مواصلات کے وزیر اویس لغاری نے اس نجکاری کو انتہائی کامیاب قرار دیا ہے۔ نجکاری کے وفاقی وزیر عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی نجکاری کی کامیابی پوری قوم کی کامیابی ہے۔ ایتیصلات کے مقابلے میں سنگاپور کی سنگ ٹیل نے صفر اعشاریہ اٹھاسی ڈالر فی حصص اور چین کی چائنہ موبائیل نے ایک اعشاریہ صفر چھ ڈالر فی حصص کی بولیاں دی تھیں جو مسترد کر دی گئیں۔ یہ نجکاری پہلے دس جون کو ہونا تھی مگر پی ٹی سی ایل کے نجکاری مخالف ملازمین کی یونین اور پی ٹی سی ایل انتظامیہ کے درمیان شدید اختلافات پیدا ہو گئے تھے جس کے بعد حکومت کی درخواست پر نیم فوجی دستوں نے ملک کی تمام مواصلاتی تنصیبات کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سینکڑوں نجکاری مخالف ملازمین کو بھی حراست میں لیا تھا۔ تاہم اب حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے نجکاری مخالف ملازمین کی یونین کے ساتھ تمام معاملات طے کر لیے ہیں اور ان کے لیے پانچ ارب روپے کا مراعاتی پیکج دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ نجکاری کے مخالف ملازمین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پی ٹی سی ایل، جس میں اکھتر ہزار ملازمین کام کرتے ہیں، کی نجکاری کے بعد بہت سے ملازمین کو برخواست کر دیا جائے گا۔ نجکاری مخالف ملازمین کا کہنا ہے کہ پی ٹی سی ایل ایک منافع بخش ادارہ ہے اور اس کی نجکاری ناقابل فہم ہے۔ پی ٹی سی ایل کی نجکاری کے دن تمام مواصلاتی تنصیبات پر سیکیورٹی سخت انتظامات کئے گئے تھے اور اسلام آباد کی ٹیلی فون ایکسچینز سے ملحقہ سڑکوں پر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کی تھیں تاکہ نجکاری مخالف ملازمین وہاں کسی قسم کا مظاہرہ نہ کر سکیں۔ ٹیلی فون ایکسچینز کے اندر رینجرز کے اہلکار تعینات کئے گئے ہیں جو ایکسچینج کے اندر نجکاری مخالف ملازمین اور عام آدمیوں کو جانے کی اجازت نہیں دے رہے۔ چند نجکاری مخالف یونینوں نے نجکاری کے موقع پر ہڑتال کا اعلان بھی کیا ہوا ہے مگر ابھی تک ملک کے کسی حصے سے کسی قسم کے مظاہرے کی اطلاعات نہیں ملی ہیں۔ پاکستان کی پارلیمان میں بھی گذشتہ ایک ہفتے سے پی ٹی سی ایل کی نجکاری کا موضوع زیر بحث رہا ہے اور حزب اختلاف کی تمام جماعتوں نے اس نجکاری کی مخالفت کی ہے اور اعلان کیا ہے کہ اگر مستقبل میں ان کی حکومت آئی تو وہ اس نجکاری کو کالعدم قرار دے دیں گے اور پی ٹی سی ایل کو دوبارہ حکومتی کنٹرول میں دے دیں گے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||