| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
حبیب بینک: نجکاری عدالت میں
حبیب بینک کی نجکاری کے ابتدائی مرحلہ میں حصہ لینے والے کینیڈا کے ایک تجارتی گروپ نے کہا ہے کہ وہ بینک کے اکیاون فیصد حصص خریدنے کے لیے ساڑھے پینتیس ارب روپے دینے کے لیے تیار تھا لیکن اسے جان بوجھ کر دوسری اور حتمی بولی سے باہر رکھا گیا جس کے خلاف وہ عدالت میں جائے گا۔ حکومت کے زیر انتظام چلنے والے حبیب بینک کے اکیاون فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول کی خریداری کے لیے آغا خان فنڈ نے انتیس دسمبر کو ہونے والی حتمی بولی میں ساڑھے بائیس ارب روپے کی سب سے زیادہ بولی لگائی تھی۔ لاہور پریس کلب میں مرینہ پرائیویٹ لمیٹڈ کے سربراہ میاں راشد امیرالدین اور ترجمان محمد احتشام نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ نجکاری کمیشن نے گروپ کو غیرسنجیدہ قرار دے کر اسے آٹھ دسمبر کو کراچی میں ہونے والی پری بڈ کانفرنس میں حتمی نیلامی سے خارج کردیا۔ ترجمان نے کہا کہ گروپ نجکاری کمیشن کے اس غیر منصفانہ فیصلہ کے خلاف عدالت میں جائے گا کیونکہ اس نے بینک کی بولی کی پیش کش کرنے کے لیے کروڑوں روپے کے اخراجات کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مرینہ گروپ سمندر پار پاکستانیوں کے ایک کنسورشیم پر مشتمل ہے جس میں اور کمپنیوں کے علاوہ ایک بینک بھی شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ پری کوالیفکیشن کے موقع پر ان کے گروپ کو حتمی بولی میں شریک ہونے سے روک دیا گیا جس کے خلاف وہ عدالت میں جائیں گے اور اس سلسلہ میں انھوں نے صدر پرویز مشرف اور وزیراعظم ظفراللہ جمالی کو خطوط بھی لکھے ہیں۔
مرینہ گروپ کے ترجمان نے کہا کہ ان کے تخمینے کے مطابق حبیب بینک کے اکیاون فیصد حصص کی مارکیٹ میں قیمت اکہتر ارب روپے کے قریب ہے اور آغا خان فنڈ کی بائیس ارب روپے چالیس کروڑ کی بولی بہت کم ہے۔ گروپ کے ترجمان نے کہا کہ جب اس گروپ نے کمیشن کے دفتر جا کر اپنے سنجیدہ خریدار ہونے کے بارے میں انھیں بتایا تو اس پر بھی اعتراض کیا گیا کہ وہ کمیشن کی عمارت میں کیوں آ ئے۔ ترجمان نے کہا کہ اگر حکومت نے اس قومی اثاثہ کو شفاف طریقے سے فروخت کرنا ہے تو ان تمام چھ گروپوں کو از سر نو حتمی بولی میں شریک کیا جائے تو اس بات کا امکان ہے کہ بینک کے اکیاون فیصد حصص کی بولی بائیس ارب روپے سے بڑھ کر ساٹھ ارب روپے تک چلی جائے۔
گروپ کے ترجمان نے کہا کہ ان کا گروپ ابتدائی طور پر تیرہ ارب روپے سے زیادہ کی پیش کش کرچکا ہے اور آج ہی یہ رقم دینے کے لیے تیار ہے۔ گروپ کے ترجمان نے الزام لگایا کہ نجکاری کمیشن نے آغا خان فنڈ کو بینک دینے کے لیے معین قریشی، سعودی شہزادہ اور رزاق داؤد کے گروپ کو حتمی بولی سے باہر رکھا۔ حبیب بینک کی حتمی نجکاری میں سربمہر پیشکشیں جمع کرانے کے لیے نجکاری کمیشن نے آغا خان فنڈ، سینٹرل انشورنس کمپنی لیمیٹڈ اور قطر سپریم کونسل فار اکنامک افئیرز اینڈ انویسٹمینٹ کا انتخاب کیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||