BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 April, 2006, 21:25 GMT 02:25 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سٹیل ملز: نجکاری کے بعد کشیدگی

پاکستان سٹیل ملز
یونین رہنماؤں کے مطابق سٹیل ملز کو اکیس ارب اڑسٹھ کروڑ میں فروخت کیا گیا ہے جبکہ اس کا سالانہ منافع سات ارب رپے ہے
پاکستان سٹیل ملز کی نجکاری کے بعد انتظامیہ اور ایمپلائیز یونین میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

ملازمین نے نئےمالکان کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے سےانکار کردیا ہے جب کہ ملز انتظامیہ کی جانب سے ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا ہے۔

اکتیس مارچ کو روسی، سعودی اور پاکستانی نجی کمپنیوں کے کنسورشیم نے اکیس ارب سڑسٹھ کروڑ کی بولی دے کر پاکستان سٹیل کے پچھہتر فیصد حصص حاصل کیے تھے۔

پاکستان سٹیل کے گیارہ یونیز پر مشتمل ایمپلائز ایکشن کمیٹی نے اس نجکاری کو رد کیا تھا۔

ایکشن کمیٹی کے سیکریٹری جنرل ستار بٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ دو روز قبل ملازمین کے جلسے میں چودہ اپریل کو نئی انتظامیہ سے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکار کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا اس انکار کے بعد سٹیل ملز انتظامیہ نے ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا ہے جس میں ان پر ملازمین کو کام سے روکنے اور بسیں اغوا کرنے کے الزام عائد کیے گئے ہیں۔

ستار بٹ نے بتایا کہ سٹیل ٹاؤن پولیس نے ان کےگھروں پر چھاپوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے جبکہ میرے دو بیٹوں ابرار، شہریار اور ایک رہنما ملک شریف کو گرفتار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم انتظامیہ سے مذاکرات کے ذریعے معاملات حل کرنا چاہتے ہیں مگر وہ ہمیں ہڑتال کی جانب دھکیل رہے ہیں۔ اس وقت ہم روپوشی کی زندگی گزار رہے ہیں اور اپنے گھروں کو بھی نہیں جاسکتے۔

ستار بٹ کے مطابق چیئرمین سٹیل ملز کی ملازمت انتیس مئی کو ختم ہو رہی ہے جس وجہ سے وہ ہم سے زبردستی دستخط کروانا چاہتے ہیں۔

ملازمین نے ملز کو چوبیس ارب روپے میں خریدنے کی پیشکش کی ہے

دوسری جانب سٹیل ٹاؤن پولیس نے مقدمے کی تصدیق کی ہے مگر گرفتاریوں سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

سٹیل ملز کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک مافیا نجکاری کی مخالفت کر رہی ہے جب کہ ملازمین صرف ایک اچھا پیکیج چاہتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یونین رہنماؤں نے ڈرائیوروں کو ہراساں کیا اور بسوں کو زبردستی اپنے ساتھ لے گئے جو ایک غلط عمل ہے۔

واضح رہے کہ یونین رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سٹیل ملز کو اکیس ارب اڑسٹھ کروڑ میں فروخت کیا گیا ہے جبکہ اس کی سالانہ سیل ہی تیس ارب روپے ہے اور اس کا خالص منافع سات ارب رپے ہے۔

ملازمین نے اپنے پراویڈنٹ فنڈز اور گریجویٹی سے ملز کو چوبیس ارب روپے میں خریدنے کی پیشکش کی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد