سٹیل ملز کے سابق اہلکار کو سزا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صوبہ سرحد کی احتساب عدالت نے جمعہ کو اپنے ایک فیصلے میں کراچی سٹیل کے ایک سابق اہلکار پر غیرقانونی اثاثے بنانے پر پانچ برس قید اور پانچ کروڑ روپے سے زائد جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ فیصلہ احتساب عدالت کے جج سید معروف شاہ نے آج پشاور میں سناتے ہوئے کراچی سٹیل ملز کے ایک سابق ڈپٹی جنرل مینجر میاں حسام الدین پر غیرقانونی اثاثے بنانے اور اختیارات کا غلط استعمال کرنے کے الزامات ثابت ہونے پر پانچ سال قید بامشقت اور پانچ کڑوڑ انتالیس لاکھ روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا ہے۔ اس کے علاوہ عدالت نے ان کا ملاکنڈ میں گھی ملز اور بیوی کے نام پر ایک بنگلہ بھی بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم دیا ہے۔ سرحد میں احتساب بیورو نے ان کے خلاف بدعنوانی کا ایک مقدمہ درج کیا تھا جس میں ان پر انیس کڑوڑ روپے کے غیرقانونی اثاثے بنانے کا الزام لگایا گیا تھا۔ انہیں مارچ سن دوہزار ایک میں کراچی میں دفتر سے گرفتار کیا تھا۔ میاں حسام الدین کا تعلق ملاکنڈ سے ہے۔ انہوں نے بعد میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ بے گناہ ہیں اور اس فیصلے کے خلاف اعلی عدالت سے رجوع کریں گے۔ انہوں نے اپنے اثاثوں کو قانونی اور آباواجداد کی جانب سے ملنے کا دعوی کیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اعلی عدالتوں ہر اعتماد ہے اور انہیں انصاف ضرور ملے گا۔ نیب کی جانب سے دائر اس مقدمے میں استغاثہ نے ملزم کے خلاف انتالیس جبکہ وکیل صفائی نے چالیس گواہ پیش کئے۔ عدالت نے فریقین کا موقف سننے کے بعد اٹھائیس اپریل کو فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||