’جہانگیر بدر تاخیر چاہتے ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور ہائی کورٹ نے پیپلز پارٹی کے لیڈر جہانگیر بدر کی درخواست یہ کہ مسترد کر دی کہ اپنے خلاف مقدمے کے فیصلے کو رکوانے کے لیے حربے استعمال کر رہے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ نے پیپلزپارٹی کے رہنماء اور سابق وفاقی وزیر جہانگیر بدر نے عدالت عالیہ سے درخواست کی تھی کہ ان کے خلاف ریفرنس سے متعلق ریکارڈ عدالت عالیہ میں منگوایا جائے۔ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سوموار کو اپنے فیصلے میں کہا کہ عدالت عالیہ کو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جہانگیر بدر احتساب عدالت کی سماعت میں تاخیر کروانے اور اسے طول دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ عدالت عالیہ کا بینچ جج رستم علی ملک اور جج سردار محمد اسلم پر مشتمل تھا۔ جہانگیر بدر نے لاہور ہائی کورٹ میں ایک رٹ درخواست دائر کی تھی جس میں اس نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ متعلقہ وزارت سے ان بھرتیوں کا ریکارڈ منگوایا جائے تاکہ وہ یہ ثابت کر سکیں کہ ان کے دور میں ہونے والی بھرتیاں غیر قانونی نہیں تھیں۔ جہانگیر بدر کی ایسی ہی درخواست احتساب عدالت پہلے ہی مسترد کرچکی ہے۔ جہانگیر بدر کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) نے جہانگیر بدر پر ریفرنس دائر کیا تھا کہ انہوں نے وفاقی وزیر کی حیثیت سے اختیار ات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر سرکاری ملازمتیں دی تھیں۔ احتساب عدالت میں ریفرنس کی سماعت مکمل ہوچکی ہے اور ہائی کورٹ میں رٹ درخواست کی سماعت کی وجہ سے فیصلہ بارہ مئی تک محفوظ کرلیا گیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||