BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 09 April, 2005, 12:34 GMT 17:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فیصل صالح بینک کے ساتھ سمجھوتہ

لاہور ہائیکورٹ
اسی مقدمہ میں سپریم کورٹ نے وفاقی وزیر کی ضمانت منسوخ کردی تھی
نیب نے لاہور کی ایک احتساب عدالت میں تحریری درخواست دی ہے کہ وفاقی وزیر فیصل صالح حیات کے خلاف ریفرنس میں اسٹیٹ بنک کی کمیٹی میں بنک اور شاہ جیونہ ٹیکسٹائل ملز کے درمیان ثالثی ہوچکی ہے اور اب عدالت ملزم فیصل صالح حیات وغیرہ کی رہائی منظور کرلے۔

تاہم جج نے فیصلہ بارہ اپریل تک کے لیے محفوظ کرلیا۔نیب نے اپنے پانچ سال پرانے ریفرنس میں الزام لگایا تھا کہ فیصل صالح حیات اور آٹھ دوسرے ملزموں نے یونائیٹڈ بنک سے لیے گئے تقریبا چوبیس کروڑ روپے کا قرضہ دانتسہ طور پر ادا نہیں کیا جس پر ریفرنس دائر کیا تھا تو فیصل صالح حیات وفاقی وزیر نہیں تھے۔

وفاقی وزیر آج بھی گزشتہ چار سماعتوں کی طرح احتساب عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ان کے وکیل نے سرکاری مصروفیات کی بنا پر ان کی عدالت سے حاضری سے مستثنیٰ کرنے درخواست پیش کی جسے عدالت نے منظور کرلیا۔

تاہم جج کرامت ساہی نے کہا کہ اس ریفرنس کے بڑے ملزم اور وفاقی وزیر فیصل صالح حیات ہر صورت میں آئندہ سماعت کے موقع پر عدالت میں پیش ہوں۔

فیصل صالح حیات سپریم کورٹ سے ضمانت منسوخ ہونے کے بعد احتساب عدالت میں ہونے والی کسی سماعت میں جج کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔احتساب عدالت میں دیا جانے والا اُن کا بیان صفائی بھی ابھی ادھورا تھا۔

آج احتساب عدالت کے جج کرامت ساہی کے سامنے قومی احتساب بیور (نیب) کے پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تئیس جون سنہ دو ہزار چار کو قرضہ کے معاملہ پر اسٹیٹ بنک کی کمیٹی اور شاہ جیونہ ٹیکسٹائل ملز کے درمیان ثالثی ہوگئی تھی جس سے نیب کے چیئرمین کو آگاہ کردیا گیا تھا۔

پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا تھا کہ نیب کے چیئرمین نے اس ثالثی پر کوئی اعتراضات نہیں اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب اسٹیٹ بنک کی ثالثی کمیٹی کے فیصلہ کو ماننے کی پابند ہے اور اگر نہ مانے تو چیئرمین نیب کو اس کی وجوہ دے کر اعتراضات بتانا پڑتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نیب نے ثالثی کے بعد اعتراضات نہیں اٹھائے جس کا مطلب ہے کہ اس نے ثالثی کی منظوری دے دی ہے۔

نیب کے پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ اب یہ مقدمہ وہ معاملہ ہے کہ میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ ان کا کہنا تھا کہ ثالثی کے بعد نیب کا وفاقی وزیر اور دوسرے آٹھ ملزموں کے خلاف یہ ریفرنس غیر موثر ہوگیا ہے۔

جج نے پوچھا کہ کیا ثالثی کی بنیاد پر اس ریفرنس کو نپٹادیا جائے یا سپریم کورٹ میں وفاقی وزیر کی ضمانت کی منسوخی کے فیصلہ میں اٹھائے گئے نکات پر بھی فیصلہ کی جائے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلہ میں احستاب عدالت سے کہا تھا کہ وہ اس ریفرنس میں یہ فیصلہ کرے کہ کیا وفاقی وزیر ثالثی سے پہلے دانستہ نادہندگی کے مرتکب ہوئے تھے یا نہیں۔

پراسیکیوٹر جنرل نے احتساب جج سے کہا کہ احتساب عدالت کو اب سپریم کورٹ میں ضمانت کی منسوخی کے فیصلہ میں اٹھائے گئے ان نکات پر فیصلہ دینے کی ضرورت نہیں۔

احتساب جج نے پراسیکیوٹر جنرل سے نیب کی جانب سے ثالثی کے تحت ملزموں کی رہائی کے لیے درخواست کو عدالت میں تحریری طور پر پیش کرنے کے لیے کہا جس پر انہوں نے تحریری درخواست دے دی۔ اس میں کہا گیا کہ نیب آرڈیننس کی دفعہ پچیس اے ذیلی دفعہ ایف (ثالثی کے تحت رہائی) کے تحت ملزموں کو رہا کردیا جائے۔

وفاقی وزیر اور دوسرے ملزموں کے وکیل خواجہ حارث نے ان کی صفائی میں دلائل دیئے کہ وہ ثالثی سے پہلے بھی دانستہ نادہندگی کے زمرے میں نہیں آتے تھے اور سولہ نومبر انیس سو ننانوے کو بنک اور شاہ جیونہ ملز کے درمیان معاملہ طے پاچکا تھا جس کے بعد یہ ریفرنس نہیں بنتا تھا لیکن اس وقت چیرمین نیب نے پھر بھی یہ ریفرنس بنایا۔

جب وکیل صفائی نے بریت کے لیے دلائل دیے تو پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ اگر دانتسہ ناہندگی کا تعین ہونا ہے تو پھر وہ اپنی رہائی کی درخواست واپس لے لیتے ہیں اور شہادتیں پوری کرکے اس مقدمہ کی کاروائی مکمل ہونے دی جائے۔

اس پر وکیل صفائی نے کہا کہ نیب کے وکیل اپنی درخواست واپس نہ لیں کیونکہ وہ یہ دلائل تو محض جج کے کہنے پر دے رہے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد