BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 March, 2005, 12:19 GMT 17:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مجھے ضمانت کی ضرورت نہیں‘

فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے
فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ ان کے خلاف سازش ہو رہی ہے
کشمیر اور شمالی علاقہ جات کے وفاقی وزیر مخدوم فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ انہیں دوبارہ ضمانت کرانے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ ان کا معاملہ طے پاچکا ہے۔

یہ بات انہوں نے سپریم کورٹ سے ضمانت منسوخ کیے جانے اور لاہور کی احتساب عدالت کی جانب سے ان کے اور اہل خانہ کے نام ’ایگزٹ کنٹرول لسٹ‘ میں شامل کیے جانے کے احکامات جاری ہونے کے بعد جمعرات کے روز پریس کانفرنس میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ جب وہ کشمیر کاز کے لیے یورپ کے اہم دورے پر تھے اس وقت سے ان کے خلاف جان بوجھ کر، کردار کشی کی ایک مہم چلائی جارہی ہے۔ تاہم انہوں نے اس موقع پر کسی کا بھی نام نہیں لیا۔

دو دن قبل جب ان کی جماعت کے اراکین نے قومی اسمبلی سے واک آؤٹ کیا تھا تو وزیر مملکت برائے داخلہ شہزاد وسیم نے کہا تھا کہ فیصل صالح حیات یا ان کےاہل خانہ کے کسی فرد کا نام ’ایگزٹ کنٹرول لسٹ‘ یعنی ’ای سی ایل‘ میں شامل نہیں کیا۔

وزیر نے اس وقت یہ بھی کہا تھا کہ حکومت عدالتوں کا احترام کرتی ہے۔

پاکستان میں وفاقی وزیر مخدوم فیصل صالح حیات کا معاملہ اپنی نوعیت کا ایک انوکھا معاملہ بن چکا ہے۔ کیونکہ جہاں سپریم کورٹ نے جان بوجھ کر قرضہ واپس نہ کرنے کے مقدمے میں ان کی ضمانت منسوخ کر رکھی ہے وہاں مقدمے کی سماعت کرنے والی ٹرائل کورٹ یعنی احتساب عدالت نے ان کے اور ان کے اہل خانہ کے ناموں کو ’ای سی ایل، میں درج کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔

ایسی صورتحال میں نہ ان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے اور نہ ہی عدالتی حکم پر تاحال عمل ہوا ہے۔ اس سلسلے میں وزیر داخلہ سے جب جمعرات کے روز ایک پریس کانفرنس میں پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے صحافیوں سے کہا کہ وہ فیصل صالح حیات سے پوچھیں۔

جب فیصل صالح حیات سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ انہیں ضمانت کرانے کی ضرورت ہی نہیں ہے کیونکہ ان کے معاملات طے پاچکے ہیں۔

پریس کانفرنس میں فیصل صالح حیات نے عدالتی حکم پر ’ای سی ایل‘ میں نام درج کیے جانے کے سوال پر کہا کہ وہ عدالتی حکم پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے اور انہوں نے صحافیوں سے کہا کہ وہ وزیر داخلہ یا قومی احتساب بیورو سے پوچھیں۔

اس موقع پر انہوں نے برطانیہ کے دورے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ برطانیہ میں رہنے والے بیس لاکھ مسلمانوں میں سے دس لاکھ پاکستانی ہیں اور ان میں سے چھ لاکھ کشمیری ہیں۔ ان کے مطابق بیس لاکھ برطانوی مسلمانوں میں سے پانچ ہزار لوگ لکھ پتی ہیں جس میں ڈھائی ہزار پاکستانی ہیں۔

وزیر نے بتایا کہ انہوں نے کشمیریوں کو پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی ہے اور رواں سال سیاحت، توانائی اور معدنیات کے شعبوں میں ایک ارب روپوں کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

بینظیر بھٹو سے مفاہمت کے لیے رابطوں کی نفی کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بینظیر بھٹو کی عزت کرتے ہیں اور انہیں دو سال قبل صدر جنرل پرویز مشرف سے بات کرنے کا جو مشورہ دیا تھا وہ آج اس پر عمل کررہی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد