BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 14 March, 2005, 09:38 GMT 14:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فیصل آباد: یرقان سرفہرست

الائڈ ہسپتال میں پیتھالوجوکل لیبارٹری
فیصل آباد کا شمار ان دو یا تین شہروں میں ہوتا ہے جہاں یرقان کا مسئلہ سب سے زیادہ سنگین ہے۔
فیصل آباد کے بہت سے مسائل میں سے یرقان کا مسئلہ سر فہرست ہے اوراس کا ہر سطح پر اعتراف بھی کیا جاتا ہے تاہم اس صورتحال کے لیے صنعتی آلودگی سمیت مختلف محرکات بیان کیے جاتے ہیں۔

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر مشتاق چیمہ نے اتوار کے روز بی بی سی اردو سروس کی طرف سے منعقد کی جانے والی سنگت میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ہیپٹائٹس سی کے سب سے زیادہ مریض اسی شہر میں ہیں۔

اس سے قبل شہر کے الائیڈ ہسپتال میں پیتھالوجوکل لیبارٹری کے سربراہ ڈاکٹر اکرام الحق نے کہا تھا کہ فیصل آباد کا شمار ان دو یا تین شہروں میں ہوتا ہے جہاں یرقان کا مسئلہ سب سے زیادہ سنگین ہے۔

ڈاکٹر اکرام نے بتایا کہ یرقان کی موجودگی کے ساتھ ساتھ زیادہ خطرناک بات اس مرض کی تشخیص نہ ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے مریض تشخیص نہ ہونے کی وجہ سے خون دیتے ہیں، ازدواجی تعلقات قائم کرتے ہیں جس سے یہ مرض پھیلتا چلا جاتا ہے۔

ڈاکٹر اکرام نے بتایا کہ دو سال پہلے تک ان کی لیب میں ٹیسٹ کے لیے آنے والے ایک سو مریضوں میں سے تیس یا چالیس یرقان کے لیے پازیٹو نکلتے تھے لیکن گزشتہ سال نئی مشینوں کی آمد کے بعد سے یہ تعداد کم ہو گئی ہے۔

انہوں نے اس امکان کا اعتراف کیا کہ نئی مشینوں کے معیاری نہ ہونے کی وجہ سے بہت سے یرقان کے مریضوں کی نشاندہی نہیں ہو رہی اور وہ دیگر افراد کے ساتھ تعلق میں رہنے کی وجہ سے یرقان کے پھیلاؤ کا باعث بن رہے ہیں۔

انہوں نے کہا فیصل آباد ایک صنعتی شہر ہے جہاں مزدور کچی بستیوں میں رہتے ہیں اورجہاں بیماری کے تیزی سے پھیلنے کا خطرہ رہتا ہے۔

الائیڈ ہسپتال کے میڈیکل سپرینٹنڈنٹ نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ غیر معیاری مشینیں خریدی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام مشینری حکومت کی منظور شدہ فرموں سے خریدی جاتی ہے۔

یرقان اور صاف پانی

بی بی سی اردو سرور کی سنگت میں شریک شہر کے ایک رکن قومی اسمبلی اور صنعتکار ریحان لطیف نے تسلیم کیا کہ شہر میں فوری طور پر صاف پانی کی فراہمی کے انتظام کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اس تنقید کو رد کیا کہ صنعتکاروں نے فیصل آباد کی بہتری میں حصہ نہیں لیا۔ اس سلسلے میں انہوں نے نیوروسرجری وارڈ، لیور سنٹر اور دیگر کئی کاوشوں کا ذکر کیا جو صنعتکاروں نے شہریوں کو مختلف سہولتیں فراہم کرانے کے لیے کی ہیں۔

الائیڈ ہسپتال کی دیوار
بیماری تیزی سے پھیلنے کا خطرہ ہے

ریحان لطیف نے کہا کہ ڈبلیو ٹی او پر دستخط کے بعد صنعتی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحولیات اور سماجی پہلوؤں کو مد نظر رکھنا صنعتکاروں کی قانونی ذمہ داری ہے۔

یرقان کی مریضہ

الائیڈ ہسپتال میں ناک میں خون بنے کی شکایت لے کر آنے والی ایک مریضہ سکینہ کے خون کے ٹیسٹ سے معلوم ہوا ہے کہ وہ یرقان کے مرض میں مبتلا ہے۔

ڈاکٹر اس کو بیماری نہیں سمجھا پا رہے تھے۔ اس نے بتایا کہ اس کا خاوند کچھ نہیں کرتا۔ ان کی ایک ایکڑ زمین ہے اور بس گزارا ہو جاتا ہے۔

اس سے بات چیت کے دوران ساتھ والے بستر سے ایک مریض نے اٹھ کر کہا کہ اسے نہ بتانا ہی بہتر ہے کیو نکہ دوسری صورت میں یہ خوف سے ہی گزر جائے گی یا کم سے کم بلڈ پریشر کا شکار ہو جائے گی۔

اس نے کہا کہ وہ دوائی لے کر گھر چلی جائے گی۔ سکینہ نے کہا کہ ناک سے خون ہی تو بہتا ہے ٹھیک ہو جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد