BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 04 March, 2005, 20:20 GMT 01:20 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کا اندھیرا

News image
ڈاکٹر عطاالرحمٰن نے کہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کا بجٹ پچاس کروڑ روپے سالانہ سہ بڑھ کر سولہ ارب روپے ہوگیا ہے۔
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے کمیشن کے چئیرمین ڈاکٹر عطا الرحمٰن نے اپنے ادارہ کی سال دو ہزار چار کی سالانہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں اس وقت اعلیٰ تعلیم میں اندھیرا ہے اور ملک کی کوئی بھی یونیورسٹی دنیا کی اچھی یونیورسٹیوں کی صف میں شامل نہیں۔ تاہم ان کے کمیشن نے اس صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدام کیے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی پندرہ کروڑ آبادی نو کروڑ نوجوانوں پر مشتمل ہے جبکہ ان میں سے تئیس سال کی عمر کے لوگوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کی شرح دو اعشاریہ نو فیصد ہے جبکہ امریکہ میں یہ شرح بیاسی فیصد ہے۔

کمیشن کے چئیرمین نے ان اقدام کی تفصیل بتائی جو موجود حکومت نے گزشتہ چند برسوں میں اعلیٰ تعلیم کی حالت بہتر بنانے کے لیے کیے ہیں اور آئندہ کرنے والی ہے۔

ڈاکٹر عطا الرحمٰن نے کہا کہ آج سے چند برس پہلے حکومت اعلیٰ تعلیم پر صرف پچاس کروڑ روپے سالانہ خرچ کرتی تھی جبکہ اب یہ بجٹ بڑھ کر سولہ ارب روپے ہوگیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم کے شعبہ پر سرکاری سطح پر کُل ایک سو چونتیس ارب روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کے دوسرے ملکوں کے مقابلہ میں اعلیٰ تعلیم پر اوسطاً اپنے تعلیمی بجٹ کا نو گنا کم خرچ کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب پالیسی بنائی گئی ہے کہ اس شرح کو بہتر بنایا جائے اور حکومت ملکی پیداوار (جی این پی) کا کم سے کم ایک فیصد اعلیٰ تعلیم پر خرچ کرے گی اور تعلیم کے شعبہ پر خرچ کی جانے والی رقم جی این پی کے تین فیصد سے بڑھا کر چار فیصد تک لائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی ہر یونیورسٹی کو ترقی دینے کے لیے اسے انفراسٹرکچر اور اپنی فیکلٹی کو بہتر بنانے کے لیے تین سے چار ارب روپے کے پروگرام بنانے کے لیے کہا گیا ہے اور پہلے مرحلہ کے طور پر ملک کی چار انجینئرنگ یونیورسٹیوں کو یہ فنڈز دیے جارہے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم کے کمیشن کے چئیرمین نے کہا کہ اس وقت ملک کی یونیورسٹیوں میں کُل چار ہزار اساتذہ ہیں جن میں سے صرف سترہ سو نے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ہوئی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے ملک میں پی اچ ڈی تعلیم کے لیے صرف گزشتہ سال میں انیس سو وظیفے دیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ہر سال پی ایچ ڈی کرنے والوں کی تعداد دو سو سے بڑھا کر بارہ سو سے پندرہ سو کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہر سال گیارہ ہزار طالبعلم پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرتے ہیں۔

ڈاکٹر عطا الرحمن نے کہا کہ تعداد بڑھانے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے پر زور دیا جارہا ہے اور پی ایچ ڈی ڈگری کے مقالات معائنہ اورمنظوری کے لیے ملک سے باہر اساتذہ کو بھیجیے جائیں گے اور پی ایچ ڈی ڈگری کے لیے صرف میرٹ پر وظیفے دیے جائیں گے چاہے کوئی یونیورسٹی کا استاد ہی کیوں نہ ہو اسے کھلے میرٹ پر وظیفہ ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی وظائف سے اس وقت چار سو سے زیادہ لوگ ملک سے باہر پڑھ رہے ہیں اور حکومت نے یورپ کےمختلف ملکوں جیسے جرمنی، فرانس اور نیدرلینڈ اور چین وغیرہ کے ساتھ مل کر یہ اہتمام کیا ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والوں کو فیس نہیں دینا پڑے گی بلکہ صرف رہنے سہنے کا خرچ ادا کرنا پڑے گا۔ اس پروگرام کے تحت پندرہ سو سے دو ہزار طالبعلموں کو ہر سال ملک سے باہر تعلیم کے لیے بھیجا جائے گا۔

ڈاکٹر عطا نے کہا کہ جو لوگ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ان کے لیے میرٹ کے مطابق ایک سو کروڑ روپےکی دو وظیفے کی اسکیمیں جاری کی جارہی ہیں۔ ایک زراعت اور معیشت کے مضامین میں امریکہ کی یو ایس ایڈ کے تعاون سے اور دوسرے مضامین میں جاپان کے تعاون سے۔ یہ وظیفے اگلے دو ماہ بعد جاری کرنا شروع کردیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری یونیورسٹیوں سے سیلف فنانس اسکیم کے تحت میں شام کی تعلیم کی حوصلہ شکنی جارہی ہے اور صوبہ سرحد میں سیلف فنانس اسکیم ختم کرکے شام کو بھی میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیے جارہے ہیں جبکہ دوسرے صوبوں میں بھی اگلے سات آٹھ ماہ میں ایسا ہی کردیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں اٹھارہ کروڑ روپے سے ایک کتاب بینک قائم کیا جارہا ہے جہاں سے طالبعلموں کو معیاری کتابیں دستیاب ہوسکیں گی اور نیشنل بک فاؤنڈیشن باہر کی اچھی کتابوں کی طباعت کرے گی۔ اس کےعلاوہ طالبعلموں کے لیے کتابوں تک آن لائن رسائی ممکن بنائی جائےگی۔

ڈاکٹر عطا الرحمن نے کہا کہ ان کا کمیشن ایک پروگرام کے تحت کوشش کررہا ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے جو پاکستانی ملک سے باہر آباد ہوگئے ہیں انہیں واپس ملک میں لایا جائے اور اب تک تقریبا ڈھائی سو لوگوں نے اس پروگرام میں شرکت کی ہے اور راولپنڈی میں گورڈن کالج یونیورسٹی میں میتھمیٹکس کے کئی اساتذہ باہر سے آئے ہیں۔

اعلیٰ تعلیم کمیشن کے چئیرمین نے کہا کہ انفراسٹرکچر میں بہتری لائی جارہی ہے اور ملک کی ساٹھ یونیورسٹیوں کو آپٹک فائبر کے ذریعے ایک دوسرے کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے۔ تعلیم کا ایک ٹی وی چینل شروع ہوچکا ہے اور مزید دو شروع کیے جارہے ہیں۔ اس پروگرام کے تحت اب امریکہ کی یونیورسٹیوں جیسے ہارورڈ اور ایم آئی ٹی سے لیکچرز دیے جائیں گے جنہیں ہمارے طالبعلم یہاں سُن سکیں گے۔

ڈاکٹر عطا نے کہا کہ یونیورسٹیوں کو انٹرنیٹ کےاستعمال کے لیے براڈ بینڈ وڈتھ دی گئی ہے جو ایک سو پندرہ ایم بی کی ہے اور پورے ملک میں ڈیجیٹل لائبریری کے ذریعے طالبعلم دنیا کے سترہ ہزار جرنلز کو انٹیرنیٹ پر پڑھ سکتے ہیں اور ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ اُن کا دعوی تھا کہ پاکستان میں ملک بھر میں قائم کی گئی یہ سہولت امریکہ کئی یونیورسٹیوں میں بھی دستیاب نہیں۔

ڈاکٹر عطا نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں پڑھانے کی ملازمت کو باوقار ملازمت بنانے کے لیے پرانا گریڈ کا نظام ختم کیا جارہا ہے اور یونیورسٹی کے پروفیسروں کی تنخواہ پچاس ہزار روپےماہانہ سے تقریبا ڈیڑھ لاکھ روپےماہانہ تک مقررر کی جارہی ہے۔

اعلیٰ تعلیم کمیشن کے چئرمین نے اعتراف کیا کہ ملک میں اس وقت اعلیٰ تعلیم کے ایک سو اسی ایسے نام نہاد ادارے ہیں جو جعلی ہیں اور ان کے کمیشن نے عوام کو خبردار کرنے کے لیے اخباروں میں ان کے نام سے اشتہار دیے ہیں اور کابینہ نے ان اداروں کو پانچ سال کی مہلت دی ہے کہ وہ کم سے کم معیار کو پورا کریں جس میں سے ڈھائی سال گزر چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی کُل برامدات بارہ ارب روپےکی ہیں جن میں سے پچاسی فیصد کا تعلق زراعت سے ہے جبکہ فن لینڈ جییسا چھوٹا ملک صرف نوکیا موبائل فون کے ذریعے پینتس ارب ڈالر سالانہ زرمبادلہ کماتا ہے۔ اس لیے پاکستان کو اعلی تعلیم کے ذرئعے اپنی معیشت میں تبدیلی لانا ہے اور زراعت پر سے انحصار ختم کرنا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد