سرحد میں تعلیمِ بالغاں کا منصوبہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صوبہ سرحد میں وفاقی حکومت کی مدد سے اٹھارہ لاکھ افراد کو دو برسوں میں خواندہ بنانے کا ایک نیا منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے خودمختار قومی ادارہ برائے انسانی ترقی نے ایک معاہدے پر جمعہ کے روز دستخط کئے ہیں۔ ماضی کے تعلیم بالغاں جیسے کئی منصوبوں سے یہ تازہ منصوبہ کس طرح مختلف اور کامیاب ہوگا اس بارے میں تو فیصلہ وقت ہی کرے گا لیکن اس منصوبے کے منتظمین فل الحال کافی پراُمید نظر آتے ہیں۔ صوبائی حکومت اور قومی کمیشن برائے انسانی ترقی یعنی این سی ایچ ڈی کے اہلکاروں نے وزیِراعلیٰ ہاوس پشاور میں وزیِراعلیٰ سرحد اکرم خان درّانی کی موجودگی میں اس دو سالہ معاہدے پر دستخط کئے۔ آٹھ کروڑ روپے کے اس منصوبے میں سے چھ کروڑ صوبائی حکومت جبکہ دو کروڑ روپے این سی ایچ ڈی ادا کرے گا۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں اکتوبر دو ہزار چھ تک صوبے کی چوبیس اضلاع میں اٹھارہ ہزار خواندگی مراکز کھولے جائیں گے۔ ان مراکز میں نو سال سے لے کر انتالیس برس تک کے مرد اور عورتیں بنیادی تعلیم حاصل کر سکیں گی۔ ان کے لیے اردو کی تین اور حساب کی ایک کتاب پر مشتمل چار ماہ کا ایک مختصر کورس بھی مرتب کیا گیا ہے۔ این سی ایچ ڈی کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف نے بعد میں صحافیوں کو بتایا اس اہم منصوبے کے آغاز سے سرحد ملک کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جہاں اتنے بڑے پیمانے پر ایسا پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ سرکاری گنتی کے مطابق صوبہ سرحد میں پچاس لاکھ افراد ناخواندہ ہیں جس میں نو سال کی عمر تک پہنچنے والے تین لاکھ ناخواندہ بچوں کا ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر نسیم کا کہنا تھا کہ ماضی کے برعکس اس منصوبے کی کامیابی کے امکانات اس لئے روشن ہیں کہ اس میں مقامی آبادی کو ملوث کیا جائے گا، اسے پہلے ملک کے سولہ اضلاع میں پرکھا جا چکا ہے اور اسے کامیاب بنانے میں وفاقی اور صوبائی حکومتیں سنجیدہ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||