BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 October, 2003, 13:42 GMT 18:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تعلیم سے محروم افغان بچے

روزی کمانے پر مجبور بچے
روزی کمانے پر مجبور بچے

جنگی ماحول کے پچیس سالہ دور میں افغانوں کی دو نسلیں تعلیم سے محروم رہ گئی ہیں۔ افغانستان میں ربع صدی پر محیط حالتِ جنگ نے جہاں ملک کے اقتصادی ڈھانچے کو بر باد کر کے رکھ دیا ہے وہاں افغان قوم معاشرتی و تہذیبی اعتبار سے بھی ناقابلِ تلافی نقصان سے دو چار ہوئی ہے۔ افغان معاشرے میں بے اعتدالی، بد امنی اور عسکریت پسندی کے عام رواج میں کئی عوامل کارفرما ہیں لیکن تعلیم سے دوری وہ بنیادی عمل ہے جس نے افغانوں کی زندگی میں تہذیب و ترتیب کا عنصر کم کر دیا ہے۔

یتیم بچے

 مزدوری کرنے والے زیادہ تر افغان بچے یتیم ہیں جن کے باپ جنگ میں مارے گئے اور اب وہ اپنی بہنوں اور بیوہ ماؤں کی کفالت پر مجبور ہیں۔

جاوید گل

افغانستان میں سوویت فوجوں کی آمد پر لاکھوں افغانوں نے ہجرت کی زندگی اختیار کی اور پڑوسی ممالک میں جا آباد ہوئے۔ اقوامِ متحدہ اور مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والی متعدد فلاحی تنظیموں نے افغان مہاجرین کی تعلیمی ضروریات پر خاطر خواہ توجہ دی لیکن اس مقصد کے لئے مختص رقوم اوّل تو افغان عمائدین اور مقامی منتظمین کی شاہ خرچیوں پر صرف ہوئیں دوسرا بڑوں کی پسماندہ ذہنیت اور معاشی بد حالی نے بچوں کو تعلیمی اداروں کے قریب نہ پھٹکنے دیا اور افغانوں کی بڑی تعداد تعلیم سے بہرہ ور نہ ہو سکی۔

پاکستان میں اب بھی لاکھوں افغان مہاجرین موجود ہیں۔ ابتدا میں دو لاکھ گیارہ ہزار چھ سو تیرہ افغان مہاجرین نے پناہ لی تھی۔ انیس سو بیانوے کے بعد مختلف دورانیوں میں ایک لاکھ انتالیس ہزار چار سو آٹھ مہاجرین افغانستان واپس جا چکے ہیں۔ فی الوقت کوہاٹ کے آٹھ مہاجر کیمپوں میں ساٹھ ہزار دو سو پانچ مہاجرین آباد ہیں جن کا اندراج مہاجرین کے لئے قائم سرکاری محکمے کے ساتھ ہو چکا ہے۔ بارہ ہزار غیر درج شدہ افغان ان کے علاوہ قیام پذیر ہیں۔ یوں ضلع کوہاٹ میں افغان مہاجرین کی کل تعداد بہتر ہزار دو سو پانچ ہے۔ ان میں زیادہ تر وہ لوگ ہیں جو افغانستان میں بد امنی، لاقانونیت اور بے روزگاری کی وجہ سے واپس نہیں جانا چاہتے۔ بعض افغانوں نے تجارت میں سرمایہ لگایا ہے اور کاروبار کے پیشِ نظر یہاں رکے ہوئے ہیں۔ بہت کم افغان سیاسی وجوہات کی بناء پر اپنے وطن لوٹنے کو گریزاں ہیں۔

سخت مشقت سے تعارف
سخت مشقت سے تعارف

کوہاٹ میں ایک سے پانچ سال کے مہاجرین بچے گیارہ ہزار چھ سو چار ہیں جبکہ پانچ سے سولہ سال کے بچے تینتیس ہزار دو سو اٹھاون ہیں۔ ان میں سے چار ہزار تین سو اٹھہتر لڑکے اور چار ہزار تین سب آٹھ لڑکیاں سرکاری و غیر سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کر رہی ہیں جبکہ تین ہزار پانچ سو اکیس دینی مدرسوں میں درس لیتے ہیں۔ پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے انیس ہزار اکیاون افغان مہاجرین بچے اور بچیاں تعلیم سے یکسر محروم ہیں۔

ان میں سے بچیوں کی اکثریت کھیل کود یا امورِ خانہ داری میں والدین کا ہاتھ بٹانے میں مصروف ہے اور ایک قلیل تعداد گھروں میں برتن مانجھنے، صفائی، بچوں کی دیکھ بھال اور رضائیاں سینے کا کام کرتی ہے یا بازاروں میں بھیک مانگتی نظر آتی ہے۔ لڑکوں میں مزدور بچوں کی تعداد تیرہ ہزار چوّن ہے۔ تعلیم سے محروم یہ افغان بچے مختلف قسم کے کام کرکے اپنے گھر والوں کا پیٹ پالتے ہیں جن میں اینٹ کارے کی مزدوری، ورکشاپوں میں کام، گندگی کے ڈھیروں سے ہڈیاں چننا، سبزی کی چھابڑیاں لگانا اور پلاسٹک کے لفافے بیچنا شامل ہے۔

افغانستان کے مستقبل کی تصویر

 یہ بچے افغانستان کی تہذیبی اور اقتصادی ترقی میں میں کوئی کردار ادا نہیں کر پائیں گے اور افغانستان کے مستقبل کی تصویر اس کے آج سے کئی گنا زیادہ بھیانک ہوگی۔

حلیم زئی

افغان مہاجرین کے لئے قائم سرکاری محکمے کے ضلعی افسر محمد ابراہیم خٹک کا کہنا ہے کہ حکومت نے مہاجر بچوں کے لئے گریجوایشن تک مفت تعلیم کا انتظام کیا ہے لیکن پیسہ کمانے کی ہوس میں اکثر ماں باپ انہیں مزدوری کی بھٹی میں جھونک دیتے ہیں۔ تاہم گھمکول مہاجر کیمپ میں رہنے والے جاوید گل جو کوہاٹ ہی میں پیدا ہوئے، محمد ابراہیم سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مزدوری کرنے والے زیادہ تر افغان بچے یتیم ہیں جن کے باپ جنگ میں مارے گئے اور اب وہ اپنی بہنوں اور بیوہ ماؤں کی کفالت پر مجبور ہیں۔

کم عمری میں محنت مشقت پر مجبور ہونے کے اسباب خواہ کچھ بھی ہوں، یہ بات طے ہے کہ تعلیم تک رسائی ان بچوں کا بنیادی حق ہے جو گھر اپنی تھکن کے ساتھ دن بھر کی دہاڑی لئے بغیر نہیں لوٹ سکتے اور اس کے لئے انہیں کبھی کبھی ہاتھ بھی پھیلانا پڑجاتا ہے۔ ایسے ہی ایک بھیک مانگنے والے نوسالہ بچے عمران سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے بتایا کہ اگرچہ اس کا باپ جوان ہے لیکن جنگ کے دوران ایک پاؤں سے معذور ہوگیا ہے اور اس لئے اسے اور اس کے سات سالہ بھائی کو روزی کمانا پڑتی ہے۔

باربرداری
باربرداری

ماضی میں افغانستان میں اعلیٰ ثانوی جماعتوں میں کیمیا کے استاد اور اب کوہاٹ کی سبزی منڈی میں منشی کے طور کام کرنے والے حلیم زئی ان افغان بچوں کے مستقبل سے نا امید ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ بچے افغانستان کی تہذیبی اور اقتصادی ترقی میں میں کوئی کردار ادا نہیں کر پائیں گے اور افغانستان کے مستقبل کی تصویر اس کے آج سے کئی گنا زیادہ بھیانک ہوگی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد