| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان: منصورالحق کی اپیل مسترد
سندھ ہائی کورٹ نے احتساب عدالت سے سزا پانے والے پاکستان بحریہ کے سابق سربراہ منصور الحق اور سابق کموڈور مرزا اشفاق بیگ کی وہ درخواستیں مسترد کر دی ہیں جن میں انہوں نے احتساب عدالت کی سزاؤں کو معطل کرنے کی درخواست کی تھی۔ ایڈمرل منصورالحق، کموڈور اشفاق بیگ اور ریٹائرڈ ایڈمرل جاوید علی کو پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے لئے تین بحری جہازوں کی خریداری سے متعلق ریفرنس میں ایک احتساب عدالت نے مختلف سزائیں سنائی تھیں۔ ایڈمرل منصورالحق اور پی این ایس سی کے سابق ڈائریکٹر ریٹائرڈ کموڈور مرزا اشفاق بیگ کو احتساب عدالت کے جج پرکاش لال امبوانی نے آٹھ جنوری کو سات سات سال قید اور بیس بیس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ عدالتی فیصلے میں انہیں پی این ایس سی کے لئے تین ناقابل استعمال جہاز خرید کر قومی خزانے کو ایک ارب پچاسی کروڑ روپے نقصان پہنچانے کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اس مقدمہ میں ایڈمرل منصورالحق کے ایک شریک اور مفرور ملزم ریٹائرڈ ریئر ایڈمرل جاوید علی کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اپنی اپیل میں ایڈمرل منصورالحق نے موقف اختیار کیا تھا کہ ان کا پی این ایس سی کے لئے مذکورہ جہازوں کی خریداری سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ انہوں نے اس سودے کو ممکن بنانے کے لئے پسندیدہ افراد کی تعیناتی اور سودے میں کمیشن حاصل کرنے سے متعلق لگائے گئے الزامات کی بھی تردید کی تھی۔ اپنی اپیل میں انہوں نے الزام لگایا تھا کہ عدالتی فیصلہ ان کے اور قومی احتساب بیورو کے درمیان ہونے والے معاہدے کی بھی خلاف ورزی ہے۔ ایڈمرل منصورالحق نے اپنے خلاف بنائے گئے ریفرنسوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے ایک ’پلی بارگین‘ معاہدے کے تحت قومی احتساب بیورو کو پچھتر لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی تھی لیکن نیب کے چئیرمین نے اس معاہدے کی پروا نہ کرتے ہوئے ان کے خلاف ایک اور ریفرنس دائر کر دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||