| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایڈمرل منصور الحق: سات سال قید
پاک بحریہ کے سابق سربراہ ریٹائرڈ ایڈمرل منصورالحق اور ایک دوسرے شخص کو احتساب عدالت نے بدعنوانی کے الزام میں سات سال قید بامشقت اور بیس بیس لاکھ جرمانے کی سزا سنائی ہے۔ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کے سابق چئیر مین پر بھی اسی نوعیت کے الزامات ہیں تاہم وہ مفرور ہیں اور عدالت میں نہ پیش ہونے پر انہیں بھی تین سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ بدعنوانی کا مقدمہ ان کی گرفتاری کے بعد چلایا جائے گا۔ ایڈمرل منصور الحق پر الزام تھا کہ انہوں نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کے لئے سن انیس سو پچانوے میں تین جہازوں کی خریداری میں حکومت کو ایک ارب پچاسی کروڑ روپے کا نقصان پہنچایا تھا۔ انہیں پی این ایس سی کے ایک عہدیدار مرزا اشفاق بیگ کے ساتھ حکام نے گزشتہ سال اگست میں گرفتار کیا تھا جبکہ پی این ایس سی کے چئیر مین جاوید علی مفرور ہیں۔ استغاثے نے عدالت میں سولہ گواہان پیش کئے۔ احتساب عدالت نمبر چار کے جج جناب پرکاش نے ایڈمرل منصور الحق اور مرزا اشفاق بیگ کو سات سال قید بامشقت اور بیس بیس لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ ایڈمرل منصور الحق کو بدعنوانی کے الزام میں پاک بحریہ سے ریٹائر کردیا گیا تھا۔ ان پر آبدوزوں کی خریداری میں بھی ایک کثیر رقم خرد برد کرنے کا الزام تھا۔ وہ کافی عرصے بیرون ملک مقیم رہے اور پچھلے سال ہی انہیں گرفتار کرکے پاکستان لایا گیا اور احتساب بیورو نے ان سے پینتالیس کروڑ پچھتر لاکھ روپے وصول کرکے انہیں رہا کردیا تھا۔ تاہم رہائی کے کچھ دن بعد انہیں جہازوں کی خریداری میں بدعنوانی کا مرتکب ہونے کے الزام میں ایک بار پھر گرفتار کرلیا گیا اور جمعرات کو انہیں سزا سنا دی گئی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||