فیصل کیس، رسمی عدالتی کارروائی‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی احتساب بیورو (نیب) کے پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر فیصل صالح حیات کے خلاف قرضے کی دانستہ نادہندگی کا معاملہ اسٹیٹ بنک کی ثالثی کمیٹی میں طے پاچکا ہے۔ نیب پراسیکیوٹر کے مطابق وفاقی وزیر کے خلاف احتساب عدالت میں جاری کارروائی صرف رسمی ہے۔ نیب کے پراسیکیوٹر جنرل نے یہ بات وفاقی وزیر برائے کشمیر و شمالی علاقہ جات فیصل صالح حیات کے خلاف قرضہ کی دانستہ نادہندگی کے ریفرنس کی سماعت کے بعد اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہی۔ احتساب عدالت کے جج کرامت ساہی نے ریفرنس کی سماعت کے لیے فیصل صالح حیات سمیت تمام ملزموں کو اگلی پیشی کے لیے نو اپریل کو عدالت میں طلب کرلیا ہے۔ آج اس ریفرنس کے نو ملزموں میں سے فیصل صالح حیات سمیت تین ملزموں کو حاضری سے مستثنیٰ قرار دے دیا گیا تھا جبکہ دو ملزم غیر حاضر تھے۔ آج صبح یہ ریفرنس رانا زاہد محمود کی عدالت میں شروع ہوا تو فیصل صالح حیات کے وکیل نے جج کو بتایا کہ لاہور کورٹ نے فیصل صالح حیات کی درخواست قبول کرتے ہوئے یہ مقدمہ سماعت کے لیے دوسرے احتساب جج کرامت ساہی کو منتقل کردیا ہے۔ سہ پہر کو کرامت ساہی نے ریفرنس کی سماعت کی تو کہا کہ ابھی ان تک اس کی فائل نہیں پہنچی اس لیے وہ مزید سماعت نہیں کرسکتے۔ اس پر نیب کے پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر نے کہا کہ جج کو سپریم کورٹ کے اٹھائے ہوئے نکات پر غور کرنا ہے یہ کہ قرضہ کی دانستہ نادہندگی کا معاملہ اسٹیٹ بینک کی ثالثی کمیٹی میں طے پاچکا ہے۔ تاہم جج کرامت ساہی نے اصرار کیا کہ وہ فائل اور الزامات دیکھے بغیر آگے نہیں بڑھ سکتے اور مزید سماعت کے لیے نو اپریل کی تاریخ مقرر کردی۔ فیصل صالح حیات پر پانچ سال سے یہ ریفرنس چل رہا ہے کہ انہوں نے شاہ جیونہ ٹیکسٹائل ملز کے لیے حاصل کیے گئے تقریبا چوبیس کروڑ روپے کے قرضہ کی دانستہ نادہندگی کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||