فیصل صالح کے خلاف مقدمہ خارج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں ایک احتساب عدالت نے وفاقی وزیر فیصل صالح حیات کے خلاف پانچ سال پرانے قرضہ کی دانستہ نادہندگی کے ریفرنس میں ثالثی کے بعد وفاقی وزیر سمیت اس مقدمہ کے خلاف درج مقدمہ خارج کرنے کا حکم دیا ہے۔ فیصل صالح حیات نے نیب آرڈیننس کی ثالثی کی دفعہ کے تحت رہائی کی درخواست دی تھی۔ تاہم وہ پہلے ہی سپریم کورٹ سے عبوری ضمانت پر رہا ہوگئے تھے اور چند ہفتے پہلے سپریم کورٹ سے ان کی ضمانت کے منسوخ ہونے بعد انہیں دوبارہ گرفتار نہیں کیا گیا تھا۔ احستاب جج نے اپنے فیصلہ میں یہ بھی کہا ہے کہ ملزمان بنک کے ذمہ اپنے قرضے چکائیں اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو نیب ان کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کرے۔ فیصل صالح حیات ، ان کی بیوی اور دوسرے لوگوں پر شاہ جیونہ ٹیکسٹائل ملز کے لیے حاصل کیے گئے تقریبا چوبیس کروڑ روپے کے قرضہ کی دانستہ نادہندگی کا ریفرنس پانچ سال پہلے دائر کیا گیا تھا جس میں فیصل صالح حیات بڑے ملزم تھے اور انہیں کچھ عرصہ حراست میں بھی رکھا گیا۔ جب یہ ریفرنس دائر کیا تھا تو فیصل صالح حیات وفاقی وزیر نہیں تھے۔ پیر کو احتساب عدالت میں پیش ہونے سے پہلے وفاقی وزیر فیصل صالح حیات نے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا جہاں ان کی قبل از گرفتاری کی درخواست ضمانت کی دو ججوں کے سامنے سماعت ہوئی۔ ہائی کورٹ کے جج شیخ رشید اور ایم بلال نے اس درخواست پر فیصل صالح حیات کو احتساب عدالت میں پیش ہونے کے لیے کہا اور احتساب عدالت کو ہدایت دی کہ اگر وہ نیب کو مطلو ب نہیں تو ان کے وارنٹ گرفتاری جاری نہ کیے جائیں۔ یہ حکم لےکر فیصل صالح حیات احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ نو اپریل کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے لاہور کی ایک احتساب عدالت میں تحریری درخواست دی تھی کہ وفاقی وزیر فیصل صالح حیات کے خلاف ریفرنس میں اسٹیٹ بنک کی کمیٹی میں بنک اور شاہ جیونہ ٹیکسٹائل ملز کے درمیان ثالثی ہوچکی ہے اور اب عدالت ملزم فیصل صالح حیات وغیرہ کی رہائی منظور کر لے۔ قومی احتساب بیور (نیب) کے پراسیکیوٹر جنرل عرفان قادر نے عدالت سے کہا تھا کہ تئیس جون سنہ دو ہزار چار کو قرضہ کے معاملہ پر اسٹیٹ بنک کی کمیٹی اور شاہ جیونہ ٹیکسٹائل ملز کے درمیان ثالثی ہوگئی تھی جس سے نیب کے چیئرمین کو آگاہ کردیا گیا تھا۔ اس ریفرنس میں بریت کی سماعت مکمل ہونے کے ہوجائے نیب اور وکیل صفائی نے ثالثی کی بنیاد پر ریفرنس کے غیر موثر ہونے اور ملزموں کی رہائی کے حق میں موقف اختیار کیا تھا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||